تازہ ترین  
Thursday
14-12-17

اتنے مردوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا کہ ریڑھ کی ہڈی
    |     3 months ago     |    انٹرنیشنل
اتنے مردوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا کہ ریڑھ کی ہڈی۔۔۔۔۔۔۔
لندن(نیوز ڈیسک) بظاہر ترقی یافتہ اور مہذب کہلانے والے یورپ کے حکمران غریب اور پسماندہ ممالک کو ہر وقت اصلاحی سبق پڑھاتے نظر آنے ہیں، لیکن کاش یہ ایک نظر ان شرمناک حقائق پر بھی ڈال لیں جو ان کی نام نہاد ترقی کا منہ چڑا رہے ہیں۔ یورپ میں تمام تر ترقی کے باوجود جاری جسم فروشی کا مکروہ دھندہ بھی ایک ایسی ہی مثال ہے۔
دی میٹرو کی ایک رپورٹ میں اس کالے دھندے کا ایندھن بننے والی ایک ایسی لڑکی کی داستان بیان کی گئی ہے جسے نوعمری میں ہی سمگلروں نے جسم فروشی کا دھندہ کرنے کے والوں کے حوالے کر دیا، اور پھر اس کی ساری جوانی یورپ کے بڑے بڑے شہروں میں بکتے ہوئی گزر گئی۔ تھانہہ نامی لڑکی کا تعلق ابتدائی طور پر ویت نام سے ہے لیکن کم عمری میں ہی اسے یورپ منتقل کر دیا گیا تھا۔ یورپ لانے سے قبل اسے پہلے چین لیجایا گیا جہاں سے اسے روس منتقل کیاگیا۔ وہاں وہ کچھ عرصے تک پھلوں کے باغات میں کام کرتی رہی۔
اس کے بعد اسے فرانس کے ایک جنسی گروہ کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا، جس نے اسے لندن سمگل کر دیا۔ تھانہہ نے بتایا کہ سمگلروں نے اسے غیر قانونی طور پر فرانس سے برطانیہ بھجوایا، لہٰذا سرحدی محافظوں کو دھوکہ دینے کے لئے اسے ایک فریج میں چھپا دیا گیا۔ وہ سرحد تو پار گئی لیکن فریج میں بند رہنے کے باعث موت سے بال بال بچی۔
لندن میں اسے سات دیگر لڑکیوں کے ساتھ ایک تہہ خانے میں قید کردیا گیا۔ تھانہہ نے بتایا کہ اس سے کئی سال تک جسم فروشی کروائی گئی اور روزانہ درجنوں افراد اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناتے تھے۔ کئی برس تک روزانہ کئی کئی گھنٹے تک زیادتی کا نشانہ بننے کی وجہ سے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں مستقل طور پر بگاڑ پیدا ہو گیا ہے، جس کے متعلق ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ لاعلاج ہے۔
تھانہہ کا کہنا ہے کہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ بالآخر وہ قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی، ورنہ شاید اب تک زندہ بھی نہ ہوتی۔ اس نے قید سے فرار کے بارے میں بتایا ’’ایک روز ہماری نگرانی کرنے والا شخص چابیاں وہیں میز پر بھول گیا۔ وہاں ایک چینی ملازم موجود تھا جس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ’کیا تم فرار ہونا چاہتی ہو؟‘ اور میرا جواب ’ہاں‘ تھا۔ اس نے مجھے فرار ہونے میں مدد دی۔ مجھے یاد ہے کہ میرے پاؤں میں جوتے بھی نہیں تھے اور میں اسی حالت میں وہاں سے بھاگ نکلی۔ بعد ازاں پولیس نے ان لوگوں کو پکڑنے کے لئے چھاپہ مارا لیکن وہ پہلے ہی غائب ہو چکے تھے۔‘‘

بشکریہ ڈیلی پاکستان آن لائن
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved