تازہ ترین  
Thursday
14-12-17

پنجابی زبان و ادب کا محسنِ اعظم: افضل احسن رندھاوا
    |     3 months ago     |    تعارف / انٹرویو
پیدائش: یکم ستمبر ۱۹۳۷ء، امرتسر
وفات: ۱۹ ستمبر ۲۰۱۷ء، فیصل آباد

افضل احسن رندھاوا، پنجابی زبان و ادب کا نمایاں ترین نام ہیں۔ وہ شاعر، ناول نگار، کہانی کار اور مترجم کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ وہ ۱۹۳۷ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے وقت وہ پاکستان چلے آئے اور یہاں قیام پور ضلع نارووال میں آباد ہوئے۔
انھوں نے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد فیصل آباد میں بطور وکیل اپنے کام کا آغاز کیا۔ وہ بار ایسوسی ایشن فیصل آباد کے نائب صدر ہونے کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کے رُکن بھی رہے۔ انھیں اُن کے ادبی کام کی وجہ سے مُلکی اور بین الاقوامی سطح پر بے شمار اعزازت مِل چُکے ہیں۔
۱۹۶۵ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’شیشہ اک لشکارے دو‘‘ چھپا۔ وہ ان پنجابی لکھنے والوں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے بعض اہم کتب کے پنجابی تراجم کیے جن میں چینوا اچیبے کا ناول ’’ٹٹ بھج‘‘ اوریانافلاشی کی انٹرویوز پر مشتمل کتاب ’’تاریخ نال انٹرویو‘‘ افریقی نظموں کے تراجم پر مشتمل مجموعہ ’’کالا پینڈا‘‘ مارکیز کا ناول’’ پہلوں دس دتی گئی موت دا روزنامچہ‘‘ اور لوئسے پلویدا کا ناول ’’بڈھا جو عشقیہ کہانیاں پڑھدا‘‘ شامل ہیں۔
ان کی دیگر اہم کتب میں ’’دیوا تے دریا‘‘ سورج گرہن ’’دوآبہ‘‘ ’’ پندھ‘‘ ’’رن تلوار تے گھوڑا‘‘ ’’منا کوہ لہور‘‘ ’’اِک سورج میرا بھی‘‘ ’’رُت دے چار سفر‘‘ پنجابی دی وار‘‘ ’’مٹی دی مہک‘‘ ’’پیالی وچ اسمان‘‘ ’’چھیواں دریا‘‘ ’’شینہاں پتن ملّے‘‘ شامل ہیں۔
افضل احسن رندھاوا کی شاعری اور تخلیقی نثر میں پنجاب کی سیاسی، سماجی، تہذیبی اور تمدنی خدوخال نمایاں ہوتے ہیں۔ اسی طرح انھوں نے جن تخلیقات کا ترجمہ کیا ہے، اُن کی اصل روح کے ساتھ ساتھ اسے پنجابی زبان اور تہذیب سے بھی ہم آہنگ بھی کیا ہے۔
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved