تازہ ترین  

سید محی الدیں قادری زور : لسانی محقق، ادبی اور تنقیدی نظریہ دان، تاریخ دان، استاد۔ معاشرتی اور تعلیمی اصلاح کار :::
    |     1 years ago     |    گوشہ ادب
::: سید محی الدیں قادری زور : لسانی محقق، ادبی اور تنقیدی نظریہ دان، تاریخ دان، استاد۔ معاشرتی اور تعلیمی اصلاح کار :::
=====================================
** تحریر: احمد سھیل **
::: سید محی الدیں قادری زور، ۔۔۔۔ 25 دسمبر 1905 (کہیں لکھا ھے زور صاحب کی تاریخ پیدائش 6، دسمبر 1904 کی ھے) ، ڈاکٹر زور ایک شاعر، افسانہ نگار، نقاد، محقق ہی نہیں بلکہ عالم ، لسانی تنقیدی نظریہ دان ادبی مورخ ، تاریخ دان اور معاشرتی اصلاح کار بھی تھے۔ بہ حیثیت ادبی مورخ ان کے کارنامے قابل قدر اور گراں بہا ہیں اور یہ کارنامے اردو کی ادبی تاریخ کا ایک بیش بہا سرمایہ ہے۔ ان کے ان کارناموں کو اردو دنیا کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ (۱) تاریخ ادب اردو، (۲) دکنی ادب کی تاریخ، (۳) داستان ادب حیدرآباد اور (۴) اردو شہ پارے۔حیدر آباد، بھارت میں ان کی ولادت ھوئی۔ ابتدئی تعلیم مدرسہ دارلعلوم سٹی اسکول میں ھوئی۔ پھر1927 میں عثمانیہ کالج سے " لسانی سائنس" میں ایم ۔اے کی سند حاصل کی۔ ان کی ادبی اور علمی زہانت کو دیکھتے ھوئے حیدرآباد کے فرمانروا نے انھیں وظیفہ دے کر 1929 میں لندن یونیورسٹی پی ایچ ڈی کرنے کے لیے بھجوایا۔ جہان انھوں نے " آریائی زبانوں" پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا۔ یہاں انھیں بین الاقوامی شہرت رکھنے والے ماہر لسانیات کی سرپرستی نصیب ہوئی۔ اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز لندن کے پروفیسر آر۔ایل۔ٹرنر اور ہندوستانی زبان کے ماہر گراہم بیلی نے زور صاحب کی علمی اور تحقیقی فطانت کو دیکھتے ھوئے۔ان کی تربیت کی اور مفید مشورے دئیے۔ جس کی سبب اردو کی ادبی اور لسانی تنقید اور تحقیق میں نئے اسلوب اور مناجیہات کےدروازے کھلے۔
1930 میں انھوں نے فرانس میں لسانی تحقیق پر خصوصی تعلیم حاصل کی۔ پھر وہ ہندوستاں واپس آگئے۔ہندوستان واپس آکر زرو صاحب چندر گھاٹ کالج کے پرنسپل مقرر ھوئے۔ اس کے بعد جامعہ عثمانیہ کے شعبہ اردو کے صدر نشین مقرر ھوئے۔۔ وہ اپنی موت تک کشمیر کی سری نگر یونیورسٹی میں اردو ، فارسی کے مطالعوں کے شعبے مین درس و تدویس کے فرائص انجام دیتے رھے۔ انھوں نے اکسٹھ (61) کتابیں تصنیف کیں اور ہندوستان کے تعلیم اداروں میں اردو رائج کرنےمیں بڑی خدمات سر انجام دی۔ وہ اردو میں ماہر لسانیات کے طور پر معروف ہیں۔ انھوں نے لسانی تحقیق، معاشرتی روداد نگاری، عالمانہ تنقید کے علاوہ افسانے لکھے اور شاعری بھی کی۔ ان کی شاعری "حب ترنگ"۔۔ "گلزرا ابرہیم" کے نام سے چھپ چکی ھے ۔ زور صاحب نے اردو کی ترویج کے لیے "ادبیات اردو " (المعرف ایوان اردو) کی بھی بنیار رکھی۔ جس کا مقصد قدیم اردو کے اور علمی ورثے اور پرانے متنوں کو نیا افق فراھم کرنا تھا۔ انھوں نے ابوالکلام آزاد تحقیقی انسیٹوٹ بھی قائم کیا اور ادبی اور علمی جریدہ " سب رس" جاری کیا۔ یہ رسالہ اب بھی جاری ھوتا ھے۔ کراچی سے بھی شاہد حمید مرحوم بھی ایک عرصے تک شمالی ناظم آباد سے " سب رس" نکالتے رھے۔ محی الدیں قادری زور کے علمی اور ادبی کارناموں پر خلیق انجم نے کتاب بھی لکھی ھے۔ ’’دکن کو بجاطور پر فخر حاصل ہے کہ اردو نظم و نثر دونوں کی باقاعدہ ابتدا اس سرزمین سے ہوئی۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اردو کا سب سے پہلا ماہر لسانیات بھی خاک دکن سے اٹھا۔‘‘
(ڈاکٹر خلیق انجم ’’زور ایک ماہر لسانیات‘‘ مشمولہ سب رس کراچی، زور نمبر جنوری ۱۹۷۹ء، ص: ۸۹) ۔
ان کی سب سے معروف کتاب "ہندوستانی لسانیات" ھے۔ اس کے علارہ انھوں نے " ہندوستانی لسانیات" کے نام سے انگریزی میں بھی ایک کتاب لکھی تھی۔ہندوستانی فونیٹکس : یہ کتاب عملی لسانیات میں اہم مقام رکھتی ہے۔ ہندوستانی لسانیات سے متعلق انگریزی میں اپنی نوعیت کی یہ اولین کتاب ہے اس میں زبان کا صوتیاتی تجزیہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر گیان چند جین نے اسی بنا پر
’’زور صاحب کو صرف اردو ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی جملہ زبانوں میں علم زبان کے قافلے کے سالاروں میں شمار کیا۔‘‘
(ڈاکٹر ضیا الدین انصاری، ’’زور صاحب کی تصانیف کا تعارف‘‘ مشمولہ محی الدین قادری زورؔ مرتب خلیق انجم، ص: ۱۷۴، سنہ اشاعت ۱۹۸۹ء)
اس سے بہ حیثیت ماہر لسانیات ڈاکٹر زور کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔اردو تنقید کے ابتدائی دور میں ایک معتبر نام ہمیں ڈاکٹر زور کا ملتا ہے۔ جن کی تنقید نگاری پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر زور بنیادی طور پر سائنٹفک دبستان تنقید سے وابستہ تھے۔ڈاکٹر زورؔ ایک مایہ ناز محقق، تجربہ کار مدون تھے۔ ان کی تحقیقی اور تدوینی کام کی وجہ سے کئی شاعر گوشۂ گم نامی سے نکل کر شہرت کے بام عروج پر پہنچے۔ تحقیق ایک صبرآزما اور مشکل کام ہے اس میں جذبے کی لطافت، ذہنی یکسوئی خیال کی ہم آہنگی کا ہونا نہایت لازمی ہے، تحقیق اپنے موضوع کے ساتھ انصاف چاہتی ہے۔ وہ مواد کو سلیقے سے اکٹھا کرنا، اس کی صحیح جانچ پڑتال، چھان بین، تقابل، رد و قدح جیسے مراحل میں باریک بینی و حساسیت چاہتی ہے۔ یہ تمام اوصاف ڈاکٹر زور میں بہ درجہ اتم پائی جاتی تھیں۔ اسی لیے ڈاکٹر موہن سنگھ دیوانہ اپنے مضمون ’’محقق اعظم‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’اگر میں کسی ادبی ادارے سے منسلک ہوتا تو ڈاکٹر موصوف کو محقق اعظم کا خطاب پیش کرتا اس لیے کہ ان میں وہ تمام خوبیاں جمع ہیں جو تحقیق، تدلیل، تنقید کے کار اہم کے لیے ناگزیر ہیں۔ جیسے (۱) کھوج پڑتال (۲) مواد کی ڈھونڈ بھال کی فطرتِ اہلیت (۳) وسیع و عمیق مطالعہ اور اساتذہ کی صحبت (۴) موضوع سے ہمدردی اور موافقت (۵) فکر غائر کی عادت (۶) شک اور ایمان سے سمجھوتا (۷) تنوع ا ور تعمق کی لگن (۸)تحلیل و تسنیق کا گر (۹) بے تعصبی و بے غلوی (۱۰) حوصلہ، صبر، خوداعتمادی، انکساری (۱۱) ٹھیک جچی تلی مختصر بات کہنے کی کاوش اور تاکید و تکرار سے حذر (۱۲)حقیقت عشق اور دارگیری کا جنوں۔‘‘
(ڈاکٹر موہن سنگھ دیوانہ ’’محقق اعظم‘‘ مشمولہ سب رس کراچی زور نمبر، ص: ۹۲،۹۳، جلد ۲ دسمبر جنوری ۷۹۔۱۹۷۸ء، مدیر خواجہ حمید الدین شاہد)
ڈاکٹر موہن سنگھ دیوانہ نے اپنے مضمون میں ڈاکٹر زورؔ کی ان تمام خوبیوں کا ذکر کیا ہے جو ایک اچھے محقق کے لیے ضروری ہیں۔ ان اوصاف کو دیکھ کر موہن سنگھ دیوانہ انھیں ’’محقق اعظم‘‘ قرار دینے پر مجبور ہیں۔ ان کا ’’محقق اعظم‘‘ کے عنوان سے مضمون کا لکھنا ہی ڈاکٹر زورؔ کے تحقیقی کارناموں اور اس کی قدر و منزلت کا ثبوت دینا ہے۔ محمد ابرار الباقی اپنے مضمون میں ان کی کتاب ' روح تنقید کے متعلق لکھتے ہیں" ’’روح تنقید‘‘ کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصہ میں فن تنقید کے ارتقا، ادب اور تنقید کے باہمی تعلق اور فن تنقید کے اصول و مبادیات سے بحث کی گئی ہے اور دوسرے حصہ میں دنیا کے مختلف ممالک مثلاً یونان، روما، فرانس اور انگلستان میں تنقید کے ارتقا پر روشنی ڈالی گئی ہے۔"
ڈاکٹر زورؔ نے تنقید کی تعریف، ادب میں اس کی اہمیت و ضرورت اور دوسرے اہم مسائل پر قلم اٹھایا ہے۔ ان کے تنقیدی خیالات کا اندازہ ذیلی اقتباس سے کیا جاسکتا ہے:
’’تنقید میں نہ صرف تقریظی پہلو ہوتا ہے بلکہ تخلیقی بھی اس کا کام نہ صرف برائی کی خدمت کرنا ہے بلکہ اچھائیوں کی بھی صحیح طور پر ترجمانی کر کے ان میں ترقی دینا۔‘‘
(ڈاکٹر زورؔ ’’روح تنقید‘‘، ص: ۷ سنہ اشاعت ۱۹۲۵ء، طبع اول)
ڈاکٹر عبادت بریلوی ان کے تنقیدی دبستان کے مسلک کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’ڈاکٹر زور نے تنقید کے لیے جن اصولوں کو ضروری قرار دیا ہے وہ بڑی حد تک سائنٹفک ہیں۔ اگر ان کو سامنے رکھ کر تنقید کی جائے تو زیر نظر تصنیف کے تمام پہلو پڑھنے والے کے سامنے آسکتے ہیں۔ ان کی عملی تنقید میں یہ خصوصیت سب سے زیادہ نمایاں ہے۔‘‘
(ڈاکٹر عبادت بریلوی ’’اردو تنقید کا ارتقا‘‘، ص: ۳۲۰، سنہ اشاعت ۱۹۹۵ء
تین شاعر : اس کتاب میں ڈاکٹر زور نے میر تقی میر، میر انیس اور ہوریس اسمتھ کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔
جواہر سخن : مولوی مبین عباسی چریاکوٹی نے اردو شاعری کا انتخاب ’’جواہر سخن‘‘ کے عنوان سے چار جلدوں میں مرتب کیا تھا۔ ڈاکٹر زورؔ نے اس پر ایک طویل تبصرہ لکھا اور اسے ’’جواہر سخن‘’ کے نام سے ہی کتابی شکل دے دی گئی۔ زور صاحب نے ’’جواہر سخن‘‘ پر تنقیدی نظر ڈالی ہے اور اس کے فروگزاشتوں کی نشان دہی کی ہے۔ دیا۔سید حرمت الاکرام لکھتے ہیں:
’’یہ مبالغہ نہیں حقیقت ہے کہ ان کی دوسری تصنیفات و تالیفات سے قطع نظر اگر حیدرآباد اور باقی ماندہ پورے ہندوستان کے مخطوطات ایک دوسرے کے مقابلے میں رکھ دیے جائیں تو اس میں حیدرآباد سبقت لے جائے گا۔ جس کا سہرا ڈاکٹر زورؔ کی ذات واحد کے سر ہے۔‘‘
(سید حرمت الاکرام ’’ڈاکٹر زورؔ زورؔ شخصی اور ادبی زندگی‘‘ مشمولہ سب رس کراچی، زورؔ نمبر، ص: ۱۰۴، جلد ۲، دسمبر جنوری ۷۹۔۱۹۷۸ء، مدیر خواجہ حمید الدین شاہد
اس کے علاوہ ان کے دو مضامین ’’اردو اور پنجابی‘‘ (مطبوعہ نقوش لاہور ۱۹۵۳ء) اور اردو کی ابتدا (مطبوعہ اردوئے معلی لسانیات نمبر جلد سوم ۱۹۶۴ء) ان کا ایک پر مغز مقالہ ’’ہندوستان کی گجراتی شاخ‘‘ پر ہے جس کو انھوں نے ڈاکٹر جے۔پلوک کی نگرانی میں قلم بند کیا تھا۔ لسانیات میں اپنی خدمات کی بنا پر ڈاکٹر زور کو اردو کا سب سے پہلا باقاعدہ ماہر لسانیات تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں، " طلسمات خیال"، شاعر گولکنڈہ" " گولکنڈہ، کے ہیرے"، دکنی ادب کی تحریک"، "کلیات قطب شاہ"، " حیات میر محمدمومن" ، داستان ادب حیدر آبا د"، " تذکرہ مخطوطات اردو" (دو جلدیں)، " طالب موہنی"، معنی شکن" (اس کتاب میں مغرب میں 1970 اٹھنے والی فکری نظریہ "ردتشکیل" کو زور صاحب نے ساٹھ (60) سال پہلےپیش کردیاتھا) انھوں نے کلیات محمد قلی قطب شاہ کے تدویں بھی کی۔ان کے مختصر افسانوں کے مجموعے ’’سیر گولکنڈہ ۱۹۳۶ء‘‘ اور ’’گولکنڈہ کے ہیرے ۱۹۳۷ء‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ ’’سیر گولکنڈہ‘‘ میں سولہ افسانے اور گولکنڈہ کے ہیرے میں چھ افسانے ہیں جن میں طلسم تقدیر بھی شامل ہے۔ ان افسانوں کے مجموعوں کے علاوہ ۱۹۵۲ء میں شہر حیدرآباد پر ایک اور کتاب ’’حیدرآباد فرخندہ بنیاد‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کے دوسرے حصے ’’روایات‘‘ میں انھوں نے اپنے انیس (۱۹) افسانوں کو شامل کیا جو ’’سیر گولکنڈہ‘‘ اور ’’گولکنڈہ کے ہیرے‘‘ سے ماخوذ ہیں۔ ڈاکٹر زورؔ کے جملہ تئیس (۲۳) افسانے ہمارے سامنے موجود ہیں۔ڈاکٹر زور کی ابتدائی شاعری کے بارے میں پروفیسر سیدہ جعفر لکھتی ہیں:
’’ان کے اشعار میں نوجوانی کی امنگ بھی ہے اور محبت کرنے کا حوصلہ بھی۔ ان میں انفرادی اور داخلی جذبات کی ترجمانی کی گئی ہے۔ زبان میں روانی اور سلاست ہے لیکن گہرائی رفعت تخیل اور ندرت فکر کے عناصر نظر نہیں آتے۔ ڈاکٹر زورؔ کی ابتدائی نظمیں ہلکی پھلکی اور عشقیہ ہیں یہ نظمیں عنفوان شباب کے لطیف اور معصوم جذبات کی آئینہ دار ہیں۔‘‘
(پروفیسر سیدہ جعفر ’’ڈاکٹر زور ‘‘ نئی دہلی، ساہتیہ اکادمی سنہ اشاعت ۱۹۹۰ء، ص: ۱۵۶
زورصاحب نے نواب رفعت یار جنگ کی صاحب زادی تحینت النساء سے شادی کی۔ جو اردو کی باقاعدہ پہلی صاحب دیوان شاعرہ تھیں۔ ان کے تین دیوانوں میں ۔۔"صبر شکر"، ۔۔ سب سے زیادہ مشہور ھوا۔ ان کی چار (4) صاحب زادیاں اور پانچ (5) صاحب زادگان تھے۔ زور صاحب کی ایک بیٹی زہرہ کا انتقال ستمبر 1962 میں ھوا اور وہ خاینار شریف میں رزق خاک ھوئی۔ محی الدین زرو صاحب 1931 تک ادارہ ادبیات اردو میں اپنے آبائی مکان "تھنات منزل"، حیدرآباد مین مقیم رھے۔ ان کی ایک بیٹی تہذیب زہرہ عربی کی عالمہ ہیں۔ 960ا میں وہ عثمانیہ یونیورسٹی میں پڑھاتی رھی۔ ان کی شادی 7مئی 1961 کو ڈاکٹر یحیی علی احمد فاروقی سے ھوئی جو زرو صاحب کے دوست پروفیسر لطیف احمد فاروقی کے صاحبزادے تھے۔ پھر وہ 1964 میں پاکستان چلے گئے تھے۔ ان کی دوسری بیٹی توقیر زہرہ نے پاکستاں میں ایک فوجی میجر عبد القیوم سے شادی کی۔ ان کی تیسری بیٹی آرکیٹیکچر ہیں وہ اب برطانوی شہری ہیں۔ زرو صاحب کے تمام صاحبزداگان حیدراباد، ہندوستان میں مقیم رھے۔ سید محی الدین قادری زور صاحب کا انتقال سری نگر، کشمیر میں 25 ستمبر 1962 کو ھوا۔ ::: {احمد سہیل} :::





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved