تازہ ترین  
Thursday
14-12-17

برصغیر پاک و ہند میں جدید غزل کی پہچان , فرخ مشتاق
    |     2 months ago     |    تعارف / انٹرویو
برصغیر پاک و ہند کی ادبی تاریخ کے ہر دور میں ایسے شعراء پیدا ہوئے جن پر اردو غزل اور خاص طور پر جدید اردو غزل ناز کرتی رہے گی فرخ مشتاق بھی ان ہی شعراء میں شامل ہیں ان کا تعلق ایک ادبی گھرانے سے ہے ان کے والد مرحوم حافظ ضیا حسین پوری مستند شاعر تھے اور ان کے دوبھائی اطہر ضیا اور انور ضیا بھی اچھا شعر کہتے ہیں ان کے پرنانا چیف جسٹس ریاست بیکانیر ابراھیم آزاد مرحوم ۔ نانا خلیل صمدانی مرحوم ۔ ماموں تابش صمدانی مرحوم ۔ چچا بہار احمد مشتاق مرحوم بھی اپنے وقت کے بہترین شعراء میں شمار ہوتے رہے اور یہ اصحاب صاحب دیوان بھی ہیں سواۓ بہار احمد مشتاق مر حوم کے جن کا دیوان اشاعتی مرحلے میں ہے
فرخ مشتاق صاحب نے شاعری کا آغاز 1974 میں دوغزلیں کہہ کر کیا مگر والد صاحب کے حکم پر پہلی ترجیح تعلیم کو دی اور وقتی طور پر شاعری ترک کر دی1989 میں والد صاحب کے انتقال کے بعد اپنی خاندانی ادبی میراث کے وارث کے طور پر مشاعروں میں شرکت کا آغاز کیا جن میں بزم شعر وادب اسلام آباد بزم نسیم راولپنڈی اوربزم اخترعالم راولپنڈی قابل ذکر ہیں
ان کاکہناہے میں نے باقاعدہ کسی کی شاگردی نہیں کی مگر مسرور جالندھری مرحوم اور اخترعالم مرحوم سے وقتا“فوقتا“ استفادہ لیتا رہا ۔انہوں نے اپنے گھر میں ہونے والی ادبی نشستوں کا حوالہ بھی دیا جن میں اخترعالم، شمیم متھراوی اور جناب مسرور جالندھری
ان کے والد مرحوم جناب حافظ ضیا حسین پوری سے نشتیں کرتے تھے جس سے انہیں سیکھنے کا موقع ملا
فرخ مشتاق نے اپنے پسندیدہ شعرا ءکے ذکرپر کہا مجھےبہادرشاہ ظفر ساغرصدیقی ساحرلدھیانوی اصغرگونڈوی اور عدم پسند ہیں مگر منیر نیازی فکری اعتبار سے بہتر نظر آتے ہیں
جدید شاعری پر ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا ہے اردو شاعری کی صدیوں پر محیط تاریخ میں شعراء و شاعرات سب کچھ کہہ گئے ۔ نہ کوئی خیال چھوڑا نہ کوئی لفظ ۔ اب اس شعری روائت کو نئے انداز میں آگے بڑھانا اور کسی بھی بات کسی بھی خیال کو نئے پیکر میں ڈھالنا اس میں نئے
مضامین شامل کر کے آسان اور دلکش اسلوب میں پیش کرنا جدت ہے
دور حاضر میں انہیں اختر شیخ مرحوم پسند ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اخترشیخ ایک جدید لہجے کے شاعر اچھے انسان اور مخلص دوست تھے
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فیصل راجہ بھی اچھے شاعر ہیں جنہوں نے اردو غزل کو افسانوی ڈکشن دیا اور اسے جدید شکل دی شاعرات میں انہوں نے حافظہ امبرین سدرہ کے فنی ہنر کا صدق دل سے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بڑی شاعرہ ہیں
ادب میں موجود گروپ بندی اور لابی بازی بارے کچھ اسطرح گویا ہوئے میرا نظریہ ہے کہ ادباء و شعراء کو غیر متعصب ہونا چاہیے اور انسانوں کو تقسیم کرنے کے بجائے جمع کرنا چاہیے انہیں ایک دوسرے کے قریب لانا چاہیے پیار بانٹنا چاہیے۔
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved