تازہ ترین  
Thursday
14-12-17

نسل نو کے نمائندہ شاعر نعیم رضا بھٹی
    |     2 months ago     |    تعارف / انٹرویو
 نسل نو کے نمائندہ شاعر نعیم رضا بھٹی کا تعلق گو کہ منڈی بہاؤالدین سے ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کے الفاظ و خیال کی بدولت یہ ہر حساس دل میں رہتے ہیں اور یہی وہ اخلاص ہے جس کی بدولت آپ کی عجز و انکساری جہاں آپ کی فن و ہنر کو دوام بخشتی ہے وہیں آپ کے لیے باعث تکریم ٹھہرتی ہے اور ادب کے بڑے ناموں میں آپ کو ایک منفرد حیثیت و مقام دیتی ہے حلقۂ ارباب ذوق کی نمو میں ان کی محبت اور اردو ادب سے عشق کی حد تک لگاؤ کا یہترین ثبوت ہے اور بیرون ممالک کے مشاعرے اس کم عمری میں اسی اخلاص کا ثمر ہیں نعیم رضا ایک اچھا اور حیران کن طور پہ قاری کو متاثر کرنے والی نظم و غزل کا شاعر ہے آئیے آپ بھی پڑھیے اور تاثرات دیجئے گا مجھے امید ہے آپ اس نئی آواز اور انداز کو ضرور پسند کریں گے

ہم ایسے لوگ جنہیں حبس بھی سہولت ہے

وہ خود پہ رحم جو کر لیں تو کیا قباحت ہے

بدن کی خستگی کہتی رہی مکیں سے کہ آپ

حدوں کو پار نہ کیجے یہی روایت ہے

ہم اپنے خواب اگر اس پہ وار دیتے ہیں

تو اس کا یہ نہیں مطلب وہ خوبصورت ہے

ہزار بار ہمیں وہ سلگ کے ملتا رہے

وہ جانتا ہے ہمیں کس قدر محبت ہے

میں اس کی آگ میں جلتا ہوں میری آگ میں وہ

لہو کا جزیہ اسی طرز کی طریقت ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فلک نشیں تھے مگر رائیگاں ابھر آئے

جبین ِخاک پہ بے خانماں ابھر آئے

ہماری اتنی کہانی ہے سن سکو تو سنو،

جہاں نہیں تھی ضرورت وہاں ابھر آئے

کبھی تمہارے لیے خود کر دیا معدوم،

کبھی تمہارے لیے بے کراں ابھر آئے

میں بے دلی سے بہے جا رہا تھا اپنی طرف

کسی کی سانس کے پھر بادباں ابھر آئے

الاؤ بجھنے لگا تو چراغ جلنے لگے

تھکن کے نقش سر داستاں ابھر آئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گمرہی زیر و بم نہیں رکھتی

اس لیے آنکھ نم نہیں رکھتی

پاؤں محکم پڑیں تو لگتا ہے

خاک نقشِ قدم نہیں رکھتی

کیسے منزل پہ ہو سکے گی تمام

جو سڑک پیچ و خم نہیں رکھتی

لطف لیتی ہے ہر مصیبت کا

زندگانی بھرم نہیں رکھتی

ربط راسخ ہے بے یقینی سے

بے سبب محترم نہیں رکھتی

آنکھ ویرانیوں میں رہتی ہے

ورنہ یہ اشک کم نہیں رکھتی

تجربے نے ہمیں بتایا ہے

کوئی لڑکی بھرم نہیں رکھتی

آگ لگ جائے اس محبت کو

جو کہ تاثیرِسم نہیں رکھتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قربتیں جو مٹا کے لوٹ گیا

مجھ کو مجھ سے ہٹا کے لوٹ گیا

رات بھر مجھ سے ربط غم رکھا

صبح دم سٹپٹا کے لوٹ گیا

جس سے وعدہ تھا زندگی بھر کا

چند جملے رٹا کے لوٹ گیا

اس کو سونپی گئی تھی سرداری

اور وہ سر کٹا کے لوٹ گیا

آج تک بج رہا ہے دروازہ

خواب تو کھٹکھٹا کے لوٹ گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس کو خاطر میں نہ لاتا تھا پسندیدہ ہوا

میں مسلماں کس بت کافر کا گرویدہ ہوا

شوق پھر سے چومتا ہے قریہء پر نور کو

اور وہ حسن مکمل ہے کہ شش دیدہ ہوا

سونپ کر میں دیدہء تر کو سبھی بار سخن

ہو گیا گرچہ ‛ مگر میں خاک رنجیدہ ہوا

اک مسلسل مرگ طاری تھا مرے اشغال پر

میں ترے لمسِ کرم سے نیم خوابیدہ ہوا

یانبی اک بار ہو مجھ پر بھی اب نظر کرم

پھیر لیجے گا نظر گر میں نہ سنجیدہ ہوا

ہر کوئی کوشش میں ہے کہ توڑ لے تجھ کو رضا

تو غزل کے باغ کا جب سے گلِ چیدہ ہوا

نعیم رضا کی ایک معروف نظم "احتمال"

برہنہ خاک کے سارے مناظر
فلک کی سرپرستی میں
جہان_دلنشیں مہکا رہے ہیں
ہمیں بہلا رہے ہیں
مگر احساس غالب ہے
کسی خلجان کا پرتو
تشدد خیز سی تہذیب کے مانند
چہار اطراف پھیلے خوں چکاں منظر
ہماری سربریدہ لاش کی جانب
کسی کرگس کی صورت بڑھ رہے ہیں
ہمارے خون کو خوراک میں تبدیل ہونا ہے

اب کچھ متفرق اشعار ملاحظہ ہوں :-

دل_ دوریش کی دعا سے اٹھا،
یہ ہیولا سا جو ہوا سے اٹھا

شہر_ سرمست میں شفق اتری،
اور منظر کوئی ورا سے اٹھا

جسم الجھا مگر تھکن اتری،
پر جو اک کرب نہروا سے اٹھا

نشئہ خواب بعد میں اترا،
پہلے خوشنودئ ولا سے اٹھا

اس کو میں انقلاب کہتا ہوں،
یہ جو انکار کی فضا سے اٹھا

تجھ سے مرا وجود سنبھالا نہ جا سکا،
میں نے ترا غبار بھی رکھا سمیٹ کر

کوئی پل جی اٹھے اگر ہم بھی،
دم نہ لے پاۓ گا یہاں دم بھی

میری ضد باعث_نمو ہے اسے،
اس لیے ضد پہ میں اڑا ہوا ہے

پس دیوار تھا گریہ،
سر_دیوار نم نکلا

مجھے معدوم ہونے کا اشارا،
حیات جاودانی سے ملا ہے

آج تک بج رہا ہے دروازہ،
خواب تو کھٹکھٹا کے لوٹ گیا

سب سے عمدہ پھول ہو تم،
دنیا کے گلدستے میں

نشاط_وقت نے زخموں کا اندمال کیا،
اداسیوں کو مٹانا کبھی نہ چاہتا تھا

کیسی آواز ہے کان پھٹ جائیں گے،
ہے بھی یا یہ مرا دائمی وہم ہے

خوف آۓ تو کھانس لیتا ہوں،
یعنی فطرت میں گھات کوئی نہیں

قید_تنہائی میں رہ کر،
رتبہ پایا لاثانی کا

شہر_سرمست میں شفق اتری،
اور منظر کوئی ورا سے اٹھا

ہمارا حال نہ پوچھو کہ ایک عورت نے،
چھڑک کے ہم پہ سہولت کا عطر نوچا ہے

شکر ہے رات اس ستمگر کا،
حسن تھوڑا سا کم لگا مجھ کو

ہواۓ تیز نے بارش سے ساز باز کے بعد،
بدن کا دشت مری پیاس سے ملا دیا ہے

تمہاری یاد کا موسم سہانہ،
مگر موسم بدلنے کا گماں ہے

لیلہ صفات ساقئ میخانہ آ گیا،
مے کش تمام ہوش میں آتے چلے گۓ
........................
انتخاب : ریحانہ قمر
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved