تازہ ترین  
Tuesday
12-12-17

چمگادڑ, (زبردست تخیل)
    |     2 months ago     |    اردو شاعری
کہنے سے سب کچھ ہو نہیں جاتا
اور کچھ ہوتا ہے
وہ کہا نہیں جا سکتا
ان کہی کہی سے گھمبیر
اور کہی ان کہی کی تعبیر نہیں بن سکتی
خواب نظر کا دھوکہ
اور خوف روح کی سزا
خواب دھوکہ، جو بند آنکھوں نے کھایا
دروازے بند ہوں تو گھر زندان بن جاتے ہیں
خواب آنکھوں کے زندان کا قیدی
خوف سینے کے ایقان کا ہادم
چشم روزن خوف اور خواب پر انگیخت کا افسوں
گلی کی چاپ اندھیرے میں سہمے کانوں پر القا ہونے والا گل بکاولی کا قصہ
جاگتی آنکھوں کا قصہ سوئی آنکھوں کے افسوں سے بڑا ہوتا ہے
بہت بڑا، روشن اور اجلا، بولتا ، مسکراتا
اشاروں سے مائل کرتا اور دور بھاگتا ہوا
میرے چاروں اور پھیلے ہوئے دھوکے گل بکاولی کے پھول ہیں
ان سے کہیں بڑا فریب میرے اندر پھیلا ہوا ہے
جسے ہر دم کسی طلسم کی تلاش رہتی ہے
ممدوح و مقدس و ماورا
اور ماورا سے بھی ماورا
میری آنکھیں کھلی ہوں تو سارا وہم
بند ہوں تو سب خیال
ہم ازل اور اجل کے بیچ میں لٹکے لوگ
وقت کے قدیم مندر کی چھت سے لٹکی چمگادڑیں ہیں
جن کی آنکھیں نور سے بیزار ظلمتوں کی طرفدار ہوتی ہیں
ہمارے لئے جیون رین سے باہر کسی اجلے سویرے کا تصور ہولناک بھی ہے
سحر انگیز بھی
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved