تازہ ترین  
Thursday
14-12-17

پاکستان کی نامور شخصیت " آزاد بن حیدر" کا خصوصی انٹرویو
    |     2 months ago     |    تعارف / انٹرویو


                                نوید : اسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ،  اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟
آزاد بن حیدر : میں 2 جنوری 1932 کو شہر علامہ اقبال، شہر فیض احمد فیض، شہر عبیداللہ سندھی (سیالکوٹ) میں پیدا ہوا. 1947 میں، میں نہم جماعت کا طالب علم تھا. میں نے واہگہ بارڈر پہ مہاجروں کی بحالی کے لیے قائم کردہ کیمپ میں رضاکارانہ طور پر شمولیت اختیار کر لی. پھر مجھے کراچی مہاجر کیمپ ٹرانسفر کر دیا گیا. مجھے بھی سمندر دیکھنے کا شوق تھا. چار، پانچ ٹرینیں فری میں کراچی جا رہی تھیں، میں بھی کراچی آ گیا. یہ 14 ،15، اور 16 اگست کی راتیں تھیں. میری عمر کا پندرہواں، سولواں سال تھا. بندر روڈ پر مہاجر کیمپ لگا تھا. وہیں قائد اعظم محمد علی جناح نے 18 اگست کو عیدالفطر کی نماز ادا فرمائی تھی، اور میں بھی پچھلی صفوں میں کھڑا تھا. 

نوید : آپ نے کیا کچھ حاصل کیا؟ تعلیم اور پیشے کے بارے میں بتائیں

 :آزاد بن حیدر 

میٹرک سے لیکر MA, LLB، مولوی فاضل منشی وغیرہ کی تعلیم کراچی میں ہی حاصل کی. والدین سے اس لیے رابطہ نہیں کیا، کہ کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ فیس کے لیے رابطہ کیا ہے. جو کچھ بھی بنا اپنی مدد آپ کے تحت. میں نے لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کراچی میں 13 سکول کھولے. لیکن انہیں 1972 میں نیشنلائز کر دیا گیا. میں نے خوشی میں مٹھائی بانٹی. کیونکہ میں انہیں عوام کے چندے سے چلا رہا تھا. میں سمجھا کہ اچھا ہوا، حکومت اسے اچھے طریقے سے چلا لے گی. لیکن اس نیشنلائزیشن نے ہمیں 40 سال پیچھے دھکیل دیا. بڑی بڑی انڈسٹریز، ملیں، شپنگ انڈسٹریز نیشنلائز کر لی گئیں۔

نوید : پاکستان کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ 

آزاد بن حیدر : (بڑے درد بھرے لہجے میں، ٹھنڈی سانسیں لینے کے بعد، بڑی تڑپ سے فرمانے لگے) چند دنوں پہلے لاہور گیا ہوا تھا. وہاں یونیورسٹی کے وائس چانسلروں، سفیروں، صحافیوں، لیکچراروں سے پاکستان کی موجودہ صورتحال پہ بات ہوئی. 75 فیصد پاکستان پہ تو انڈیا نے قبضہ کر لیا ہے. ہمارا %7 کشمیر، %7 جونا گڑھ، %7 حیدرآباد دکن ان کے پاس ہے. اور T مشرقی پاکستان اُنہوں نے ہم سے علیحدہ کروا دیا. جس کا اقرار نریندر مودی نے ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر خود کیا ہے. باقی % پاکستان بچا ہے. اس کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے. دسمبر میں ہم نے آئی اہم ایف کے قرضے کی قسط دینی ہے. قرضہ لے کر یہ قرضہ دینا پڑے گا. آج سے 15 سال پہلے پاکستان کا ہر بچہ 15 ہزار روپے مقروض تھا. لیکن اب ایک لاکھ 15 ہزار مقروض ہے. GST 17% ہے امیر، سرمایہ دار، اور جمعدار سب پر ایک جتنا ٹیکس ہے. بجلی کے بل پہ ٹیکس، سپر ٹیکس وغیرہ لگائے ہوئے ہیں. پہلے ہم پہ ایسٹ انڈیا کمپنی حکومت کرتی تھی اور آج کل آئی ایم ایف حکومت کر رہا ہے. 

 نوید : پاکستان کی تعمیر و ترقی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ 

 :آزاد بن حیدر 

 پاکستان کی تعمیر و ترقی کا راز صرف تعلیم میں مضمر ہے. HEC نے جو ڈاکٹر عطاالرحمن کی سربراہی میں کام کیا تھا، کہ پاکستان میں پی ایچ ڈی سکالرز پیدا کیے جائیں. اب وہ سست روی کا شکار ہے. ہم نے انڈیا کے میزائلوں کے مقابلے میں شاہین میزائل وغیرہ تو بنا لیے. لیکن ہم نے اُن کا تعلیمی میدان میں مقابلہ نہیں کیا. دیکھیں وہ ہر سال 3 ہزار پی ایچ ڈی سکالرز تیار کر رہا ہے. اور ہمارے ہاں 300 پی ایچ ڈی سکالرز تیار ہو رہے ہیں. ہم اُن کا مقابلہ کیسے کریں گے؟مقابلے کی جگہ تو یہ ہے. ہم نے سارا بوجھ آرمی پہ ڈالا ہوا ہے. سارا کام آرمی کر رہی ہے. پولیس کا کام بھی آرمی کر رہی ہے. زلزلے، سیلاب میں آرمی بلائی جاتی ہے. 2 ہزار میل بارڈروں پہ آرمی کام کر رہی ہے. اس وقت سب سے زیادہ پریشر میں فوج ہے. کہیں ردالفساد میں لگایا ہوا ہے. نیشنل ایکشن پلان میں اصل میں کریمنل پہ کام کرنا تھا. مجرموں کو فوراً سزائیں دینی تھیں. لیکن اس پہ بھی عمل درآمد نہیں ہوا. پاکستان میں سعودی عربیہ کی سزاؤں کا نظام لے آئیں. کوئٹہ کے طوغی روڈ پہ ہاتھ کاٹے جائیں، گردنیں اُڑائی جائیں،تو سب ٹھیک ہو جائے گا. پشاور، لاہور، کراچی میں قاتلوں کی ۔

گردنیں اُڑائی جائیں تو امن ہو جائے گا. ایجوکیشن کا بجٹ بڑھایا جائے. اصل کرنے کے کام یہ ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انٹرویو بائی: نوید شہزاد
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved