تازہ ترین  
Tuesday
12-12-17

تبصرہ کتاب: یہ دیا بجھنے نہ پائے
    |     2 months ago     |    گوشہ ادب
اس کائنات میں اللہ تعالی نے بہت سی ایسی خوبصورت چیزیں پیدا کی ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر نا مکمل ہیں جیسے پھول خوشبو کے بغیر,آسمان سورج چان ستاروں کے بغیر,پھل دار درخت پھل کے بغیراور چاند اپنی چاندنی کے بغیرادھورا لگتا ہے یہ وہ عناصر ہیں جنکا آپس میں گہرا تعلق ہے اور جب یہ تمام عناصر آپس میں ملتے ہیں توعالم پہ ایک سرور سا چھا جاتا ہے گلاب کا پھول جب شاخ پر کھلتا ہے تو اپنی مسحورکن خوشبو سے اپنے اطراف کو معطر کرکے رکھ دیتا ہے اسی طرح رات کے سرمئی آنچل میں جب چاند نمودار ہوتا ہے تو اسکی چاندنی پورے عالم کو جگمگا دیتی ہے اسی طرح کتاب قاری اور قاری کتاب کے بغیر نا مکمل ہے.
اردوادب کے افق پر نظر ڈالی جائے تو کئی نامورادیب ادب کے میدان میں اپنا لوہا منواچکے ہیں جنکی شاعری,ڈرامے,قصے کہانیاں,افسانے اور ناول وغیرہ عالمی شہرت حاصل کرچکے ہیں.
محمدسلیم اختر کا نام بھی اردو ادب کی ایسی ہی نامور شخصیات میں شامل ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ اپنے قلم کے ذریعے اپنے معاشرے کی عکاسی کرتے ہوئے سچ کا ساتھ دیا ہے.
"یہ دیا بجھنے نہ پائے" محمد سلیم اختر کا تخلیق کردہ پہلا افسانوی مجموعہ ہے جسے پڑھنے کے بعد قاری کو روشنی کی ایک کرن نظر آتی ہے. ویسے تو انکے افسانے ماہنامہ سچی کہانیاں کراچی,ماہنامہ ریشم لاہور,ماہنامہ ساگر لاہور, ماہنامہ دوشیزہ کراچی اور دیگر ڈائجسٹوں کی زینت بنتے رہتے ہیں. لیکن یہ "دیا بجھنے نہ پائے"
14افسانوں پر مشتمل انکا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو محمد سلیم اختر کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے.کہتے ہیں غم اور خوشیاں ہمیشہ انسان کے ساتھ نہیں رہتیں انساں کو کبھی نشاط و راحت نصیب ہوتی ہے تو کبھی رنج و سوز کی کیفیت سے گرنا پڑتا ہے.
بقول فلک گجراتی
"گاہے رنج و سوز گاہے نغمہ عیش و نشاط
یعنی اپنی زندگی ہے مجموعہ اضداد کا"
انسان کو ان تلخ وشیریں تجربات سے گزرنا ہی پڑتا ہے لیکن بہادر وہی ہوتا ہے جو مشکل حالات میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرکے حق و صداقت کا ساتھ دے دوسروں کے دکھ درد بانٹے اور اپنی خوشیاں دوسروں کے نام کردے. محمد سلیم اختر نے بھی زندگی کے تجربات کو پیش نظر رکھکر اپنے سچے جزبوں اورفنکارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے علم وادب کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے.
"یہ دیا بجھنے نہ پائے" کے تمام افسانے معیاری ہیں جو موصوف کی کمال فن کی نشاندی کرتے ہیں. حقیقت پسندی,حالات حاضرہ اور سچائی انکے افسانوں کا حسیں وصف ہے ان افسانوں میں "روشنی چائیے زندگی کے لیئے" اور "لہو کا رنگ ایک ہے" وہ لازوال افسانے ہیں جن میں معاشرتی کرب کے مناظر پیش کیئے گئے ہیں ایسے مناظر جو انسان کو جھنجوڑ کر رکھ دیں اور پڑھنے والے پتھر دل انسان کی آنکھیں بھی پرنم ہو جائیں انکے دیگر افسانے بھی انہی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں جن میں کہیں مظلوم اور غربت میں پسے ہوئے لوگوں کا حوصلہ بڑھایا جا رہا ہے تو کہیں پیارے وطن کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے.
محمد سلیم اختر کو ادب برائے امن کا علمبرداربھی کہا جائے کسی صورت میں غلط نہ ہوگا کیونکہ انہوں نے اپنے افسانوں میں معاشرتی حقائق کو بیان کرکے نہ صرف دکھی اور بھٹکتی ہوئی انسانیت کو راستے کا تعین کرایا بلکہ امن ومحبت کا درس بھی دیا ہے. یہ تمام تر اوصاف انکے بلند پایہ قلمکار ہونے کا ثبوت ہیں. شمع جلتی رہے گی سے یہ دیا بجھنے نہ پائے تک کا افسانوی سفر محمد سلیم اختر کے اوج کمال کی روشن دلیل ہے.
خاکسار میں اتنی ہمت واستطاعت کہاں کہ موصوف کی اس لازوال و بے مثال کتاب پر تبصرہ کرکے اسکا حق ادا کرسکے. میری اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ محمد سلم اختر کو مزید جزبہ اور ہمت و استقلال عطا فرمائے. آمین
.....................
تبصرہ نگار:  شاد پندرانی
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved