تازہ ترین  

ہوا صداوں کا کیا کرے گی؟
    |     11 months ago     |    شاعری
ہمیں سمندر کے ریت ہونے سے
کیا ملے گا؟
ہمیں ہواوں کا زور سچ مچ ڈرا رہا ہے
سنو !
سفینہ بھٹک کے اس طرف آرہا ہے
گلاب چہروں کو
سیپ چننے سے
روک لو گے؟
صدائیں دیتا ہجوم کشتی کا بوجھ
لہروں میں بانٹ دے گا
خدا کی آنکھوں میں ریت اڑتی تو
ہم سمندر کو ساحلوں پر تلاش کرتے
جہاں گھروندوں میں خواب
خوابوں میں زیست کرنے کے مقبروں کو
امنڈتی لہریں گرا رہی ہے
جہاں پرندوں کے غول
ہجرت کے سرد لمحے منا رہے ہیں
جہاں پہ بادل نہا رہے ہیں
ہوا صداوں کا کیا کرے گی؟
ہوا صدائیں چرا رہی ہے
ہوا اسی سمت آ رہی ہے
اسے سمندر کے ریت ہونے سے کیا ملے گا؟
...............
شاعر : انور زاہد





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved