تازہ ترین  
loading...

ہوا صداوں کا کیا کرے گی؟
    |     4 months ago     |    شاعری
ہمیں سمندر کے ریت ہونے سے
کیا ملے گا؟
ہمیں ہواوں کا زور سچ مچ ڈرا رہا ہے
سنو !
سفینہ بھٹک کے اس طرف آرہا ہے
گلاب چہروں کو
سیپ چننے سے
روک لو گے؟
صدائیں دیتا ہجوم کشتی کا بوجھ
لہروں میں بانٹ دے گا
خدا کی آنکھوں میں ریت اڑتی تو
ہم سمندر کو ساحلوں پر تلاش کرتے
جہاں گھروندوں میں خواب
خوابوں میں زیست کرنے کے مقبروں کو
امنڈتی لہریں گرا رہی ہے
جہاں پرندوں کے غول
ہجرت کے سرد لمحے منا رہے ہیں
جہاں پہ بادل نہا رہے ہیں
ہوا صداوں کا کیا کرے گی؟
ہوا صدائیں چرا رہی ہے
ہوا اسی سمت آ رہی ہے
اسے سمندر کے ریت ہونے سے کیا ملے گا؟
...............
شاعر : انور زاہد
loading...
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved