تازہ ترین  
loading...

حالات نے ہنسی میرے ہونٹوں سے چھین لی
    |     4 months ago     |    شاعری
اٹھے کہیں سے درد جگر تم کو اس سے کیا
لیتے نہیں ہو میری خبر تم کو اس سے کیا

دو ہی قدم چلی تھی پڑے چھالے پاوں میں
غم سے ہے چور ذوق سفر تم کو اس سے کیا

حالات نے ہنسی مرے ہونٹوں سے چھین لی
روتی ہوں اب میں شام و سحر تم کو اس سے کیا

کاغذ کا پھول چھو لوں تو وہ بھی مہک اٹھے
دیکھو نہ تم جو دست ہنر تم کو اس سے کیا

دیکھو نہ مجھ کو ہنس کے زمانہ خراب ہے
رسوائی کا ہے مجھ کو بھی ڈر تم کو اس سے کیا

منزل پکارتی ہے چلے آو جلد تم
ہے اونچی نیچی ترچھی ڈگر تم کو اس سے کیا

زریاب سے یہ تم نے کہا چاہتا ہوں میں
پتھر سی ہوگئی ہے نظر تم کو اس سے کیا
........................
ہاجرہ نور زریاب
loading...
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved