تازہ ترین  

شام ہوتی ہے تو وحشت نہیں دیکھی جاتی
    |     1 years ago     |    شاعری
شام ہوتی ہے تو وحشت نہیں دیکھی جاتی
دل سے اب روح کی حسرت نہیں دیکھی جاتی

نام ہے ہند کا جس تاج سے اس عالم میں
دشمنوں سے وہ عمارت نہیں دیکھی جاتی

درد ہونے لگا را ہوں میں بچھی آنکھوں میں
لمحہ لمحہ یہ اذیت نہیں دیکھی جاتی

کیوں خزاں آتی ہے گلشن میں اسے قید کرو
ہم سے پھولوں کی یہ حالت نہیں دیکھی جاتی

ساری دولت بھی لٹا دیں گے بچانے کو وجود
آن کے سامنے دولت نہیں دیکھی جاتی

ابر ہو دھوپ ہو چلنا ہے مسلسل تم کو
پیار کی راہ میں عزت نہیں دیکھی جاتی

حاسدوں کو بہت کھلتا ہے کلام زریاب
ان سے اک آنکھ بھی شہرت نہیں دیکھی جاتی
..........................
شاعرہ: ہاجرہ نور زریاب
 آکولہ مہاراشٹر انڈیا





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved