تازہ ترین  
Tuesday
12-12-17

شام ہوتی ہے تو وحشت نہیں دیکھی جاتی
    |     1 month ago     |    اردو شاعری
شام ہوتی ہے تو وحشت نہیں دیکھی جاتی
دل سے اب روح کی حسرت نہیں دیکھی جاتی

نام ہے ہند کا جس تاج سے اس عالم میں
دشمنوں سے وہ عمارت نہیں دیکھی جاتی

درد ہونے لگا را ہوں میں بچھی آنکھوں میں
لمحہ لمحہ یہ اذیت نہیں دیکھی جاتی

کیوں خزاں آتی ہے گلشن میں اسے قید کرو
ہم سے پھولوں کی یہ حالت نہیں دیکھی جاتی

ساری دولت بھی لٹا دیں گے بچانے کو وجود
آن کے سامنے دولت نہیں دیکھی جاتی

ابر ہو دھوپ ہو چلنا ہے مسلسل تم کو
پیار کی راہ میں عزت نہیں دیکھی جاتی

حاسدوں کو بہت کھلتا ہے کلام زریاب
ان سے اک آنکھ بھی شہرت نہیں دیکھی جاتی
..........................
شاعرہ: ہاجرہ نور زریاب
 آکولہ مہاراشٹر انڈیا
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved