تازہ ترین  
Thursday
14-12-17

منفرد لب و لہجے کا شاعر , انیس الرحمن پانیزئی
    |     1 month ago     |    گوشہ ادب
بارشوں کا موسم ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ ہے بادلوں کو چھو لینے والے پہاڑ,کونپلوں سے نکل کر ٹہنی پہ سجے پھول ہلکی ہلکی بوندا باندی اور دلوں کو چھو لینے والا منظر ادبی ماحول میں مزید رعنائی پیدا کر رہی ہے.
بلوچستان پاکستان کا کثراللسانی صوبہ ہے جہاں مختلف زبانیں بولی جانے کے ساتھ ساتھ مختلف تہزیبوں کا مسکن بھی ہے. کوئٹہ علم و ادب کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے جہاں مختلف زبانوں کے قلمکار اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیئے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو ہمہ وقت بروئے کار لاکر یہاں کی زبانوں کو جاویداں کرنے کیلیئے ہر وقت کوشاں ہیں.کوئٹہ میں آباد مختلف زبانیں یہاں کا حسن ہیں.
ہر زبان کی اپنی اپنی تاریخ,ثقافت,ادب اور رہن سہن کے طور طریقے الگ الگ ہیں,
ایک تحقیق کے مطابق 9 ہزار سال قدیم مہر گڑھ کی بنیاد رکھنے والے دراوڑی زبان سے تعلق رکھتے تھے اور ماہر لسانیات و دیگر مورخین و محقیقن کے مطابق براہوئی زبان بھی دراوڑی نسل سے تعلق رکھتا ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ براہوئی زبان ایشیاءکی سب سے قدیم زبان ہے.
براہوئی زبان کی اپنی تاریخ,ثقافت اور ادب ہے ادبی حوالے سے براہوئی زبان کے بہت سے عالم ادیبوں نےبراہوئی زبان کی ترقی و ترویج میں بیش بہا خدمات پیش کیئے ہیں. زبان سے والہانہ محبت اور اپنی زندگی کا ایک ایک پل اپنی مادری زبان کی خدمت میں گزارنے والا نہایت شفیق انسان براہوئی نور محمد پروانہ ادبی حلقوں میں اپنی الگ شناخت رکھتے تھے انہی خدمات کے پیش نظر آپ کو بابائے براہوئی کا خطاب ملا. آپکی فنی و فکری خدمات کو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی.
براہوئی زبان کے قلمکار ہر صنف میں طبع آزمائی کرکے اپنی قابلیت کے جوہر دکھا رہے ہیں نثرنگاری,افسانہ نگاری اور تحقیق کے علاوہ شاعر حضرات بھی اپنی ادبی ذوق کو جلا بخش رہے ہیں.ان میں ایک نام انیسالرحمن پانیزئی کا بھی ہے.انیس پشتو زبان کے شہرت یافتہ شاعروں میں سے ایک ہیں.انیس الرحمن پانیزئی سولہ اپریل انیسو چھیاسٹھ کو کوئٹہ کے علاقے کلی ہدہ مہں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول ہدہ سے سے حاصل کرکے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ جامع ہائی سکول ہدہ اور بی اے کا امتحان بلوچستان یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا. شاعری کا شوق زمانہ طالب علمی سے تھا.اپمی شاعری کا اصلاح اپنے والد بزرگوار سے کرواتے رہے اور یہی شوق و لگن آج انیس الرحمن پانیزئی کو ادب کے میدان کا انیس بنا دیا ہے. انکے والد گرامی حکیم مولوی عبدالخالق پانیزئی پشتو زبان کے اعلیٰ پائیہ کے شاعروں میں سے ایک ہیں جنکا تعلق پشتو اکیڈمی کے بانی و ممبران سے بھی رہا ہے.
"بی بی نا گِندار" انیس الرحمن پانیزئی کا پہلا شاعری مجموعہ ہے جنکے مطالعے انکے جزبات واحساسات کا اندازہ اس مجموعےکے مطالعے سے لگایا جا سکتا ہے.
اس کتاب کا ٹائیٹل انتہائی خوبصورت,دیدہ زیب,قدرتی مناظر اور پھولوں سے سجا ہوا بہت ہی حسیں اور دلکش ہے.
انیس الرحمن پانیزئی کی شاعری میں جدت,غم جاناں,فراق و ہجر کے علاوہ انکے غزلوں میں زندگی کے تمام رنگ پڑھنے کو ملتے ہیں.اسکے علاوہ بھی انکی شاعری میں درد و فکراور اپنائیت کا احساس کا جھلک بھی نمایاں نظر آتا ہے بلکہ انہوں نے اپنی شاعری میں محبت کے پھول بکھیر کر اس کتاب کو مزید چار چاند لگا دیا ہے. اسکی شاعری کا وصف یہ بھی ہے کہ اس میں ہر موضوع پر اظہار خیال کیا گیا ہے تعصب اور گروہ بندی سے بالا تر ہو کر نوک قلم سے انہوں نے اپنے دل کی بات کہی ہے کھلے دل اور کھلے ذہن کا مالک انیس الرحمن پانیزئی ایک دردمند انسان بھی ہیں انکے اس شعری مجموعے کے بعد پتہ چلا ہے کہ انہوں نے بہت ہی کم عرصے میں اہل ادب کو اپنی طرف متوجہ کردیا ہے. سچائی,حقیقت,حسن وعشق,موجودہ مسائل اور معاشرتی کرب انکے شعروں میں صاف نظر آتی ہے. شاعری انسان کی وہ آواز ہوتی ہے جو اکثر اپنی زباں سے تو کہہ نہیں سکتے مگر اپنی شاعری کے ذریعے اپنے دل کی آواز اور خیال کو خوبصورت لفظوں میں ڈھال کر لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور یہی فن انیس الرحمن پانیزئی کو کامیابی کی سیڑھیوں تک پہنچایاہے انکا یہ منفرد مجموعہ انکے دل کی آواز ہے.176صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت شعری مجموعہ "بی بی نا گندار" انیس الرحمن پانیزئی کی براہوئی شاعری کا پہلا دیوان ہے.
اللہ پاک سے دعا ہے کہ انس الرحمن پانیزئی کے قلم میں مزید طاقت پیدا کرے تاکہ وہ اپنے نوک قلم سے ادب کے میدان میں اپنی خداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ادبی حلقوں میں بلوچستان کا نام روشن کرے..
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved