تازہ ترین  
Tuesday
12-12-17

فاصلے
    |     1 month ago     |    اردو شاعری
جب تک صدا لوٹ نہیں آتی
جب تک سوال سماعت کو خجل نہیں کر دیتا
جب تک پہاڑ کے ماتھے پر دھری شکنوں
اور ہوا کے سراپے لہریے لیتی نیرگی سے کوئی پیغام
پروں کی سرسراہٹ بن کر نہیں اترتا
نیلگوں آسمان کی آنکھوں کو اوس کا نم
اور زمین کو گداز کا سم ملنا محال ہی رہے گا
نماز کی دعا سے
اور دعا کی حرف دعا سے روشناسی
روحوں کی ناسپاسی کے حبس میں کیسے ہو سکتی ہے؟
طلب کی بدگماں دستک
عطا کے بیگانگی کا فاصلہ قائم رکھے گی
کہ دست طلب کی ملتفت بیقراری پر اعتبار
رگوں میں سرکتی بے یقینی کے نامساعد سائے میں کہاں پنپ سکتا ہے
دھوپ کسی کا مقدر نہ مراد
پیڑ کا سایہ پناہ دینے تھک جائے ؟
پامالی کا گلہ کرے؟
رستہ کس کا منتظر ہے؟
پیڑ نہیں جانتا
مگر راہی
جلتی دھوپ اورتپتی راہ کی پناہ سےنکلے تو شجر تک پہنچے
کہ فاصلے قدموں کی مشایت سے نہیں
روحوں کی رغبت سے طے پاتے ہے
.................
شاعر: انور زاہد
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved