تازہ ترین  

فاصلے
    |     1 years ago     |    شاعری
جب تک صدا لوٹ نہیں آتی
جب تک سوال سماعت کو خجل نہیں کر دیتا
جب تک پہاڑ کے ماتھے پر دھری شکنوں
اور ہوا کے سراپے لہریے لیتی نیرگی سے کوئی پیغام
پروں کی سرسراہٹ بن کر نہیں اترتا
نیلگوں آسمان کی آنکھوں کو اوس کا نم
اور زمین کو گداز کا سم ملنا محال ہی رہے گا
نماز کی دعا سے
اور دعا کی حرف دعا سے روشناسی
روحوں کی ناسپاسی کے حبس میں کیسے ہو سکتی ہے؟
طلب کی بدگماں دستک
عطا کے بیگانگی کا فاصلہ قائم رکھے گی
کہ دست طلب کی ملتفت بیقراری پر اعتبار
رگوں میں سرکتی بے یقینی کے نامساعد سائے میں کہاں پنپ سکتا ہے
دھوپ کسی کا مقدر نہ مراد
پیڑ کا سایہ پناہ دینے تھک جائے ؟
پامالی کا گلہ کرے؟
رستہ کس کا منتظر ہے؟
پیڑ نہیں جانتا
مگر راہی
جلتی دھوپ اورتپتی راہ کی پناہ سےنکلے تو شجر تک پہنچے
کہ فاصلے قدموں کی مشایت سے نہیں
روحوں کی رغبت سے طے پاتے ہے
.................
شاعر: انور زاہد





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved