تازہ ترین  
Tuesday
12-12-17

اردو تو محبت کی زباں تھی پیارے
    |     1 month ago     |    گوشہ ادب
اردو ہماری قومی زبان ہے “یہ میں نے سن رکھا تھا۔ اور مادری زبان تو میری ہندکو ہے۔ علاقائی زبان پشتو سے بھی مناسبت ہے ہی، رہی سرکاری زبان تو وہ ضرورت کے تحت سیکھنے کا خواہش مند ضرور ہوں۔ہاں کسی زمانے میں کچھ احسا س کمتری میں مبتلا ہو گیا تھا۔ اس کی وجہ ایک تقریب میں شرکت تھی۔جہاں عجب سا نظارہ تھا۔ سب ہی تقریبا منہ ٹیڑھا کر کے باتیں کر رہے تھے۔ پہلے تو میں نے اپنی آنکھیں ملیں کہ ممکن ہے آنکھوں پر غبار سا چھایا ہو اور دھندلاہٹ سے ایسا دکھ رہا ہو۔ مگر پھر بھی وہی حال ،پھر نظریں ادھر ادھر دوڑائیں کہ خدایا!یہ ماجرا کیا ہے؟
ہال کے اندر آتے ہی یہ سب لوگ منہ کیوں ٹیڑھے کر کر کے بول رہے ہیں۔ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ایک دوست نے کسی دوسرے صاحب سے متعارف کرانے کے لیے آواز دی۔
میںجب وہاں قریب گیا توانہوں نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا، سوٹڈ بوٹڈ تھے، گلے میں ٹائی لٹک رہی تھی۔ منہ ٹیڑھا کر کے کچھ بولے ، میں بغیر تاثر کے دوسری طرف دیکھنے لگا (کیوں کہ ان کی کہی ہوئی بات سر کے اوپر سے گزر گئی تھی) جب ساتھ والے دوست نے ٹہوکا کہ عبدل! سر پوچھ رہے ہیں کہ کیا کر رہے ہو آج کل؟ میں نے بات گھما پھرا کے جواب دیا تو دوست نے نکٹائی کی گرہ ڈھیلی کرتے ہوئے کان میں سرگوشی کی کہ ”یہ مسٹر فلاں ہیں ، اور ان کا شمار حکومتی عہدیداروں میں ہوتا ہے“۔ تب ہی فورا جھماکے سے ایک بات یاد آئی کہ کسی نے سچ کہا:” حکمرانوں کو اردو نہیں آتی اور قوم انگلش نہیں جانتی“۔ ان کا منہ ٹیڑھا کر کے باتیں کرنا سمجھ میں آگیا تھا۔خیر! تقریب میں انواع و اقسام کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ تعجب زدہ اس لیے تھا کہ جس کسی سے بات کرو وہ ایسا انگلش اردو کا مغلوبہ جھاڑتا، میری کنپٹیاں درد سے کلبلا اٹھتیں، کان سرخ ہوجاتے اور سوچنے لگتا کہ یہ انگلش بول رہا ہے یا اردو؟
دوست نے میرے چہرے کے تاثرات پڑھتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہلکا سا دباتے ہوئے بتایا کہ وہ ! ہائی سوسائٹی کے لوگ ہیں ناں تو......ہاں ہاں جتنا بھی منہ ٹیڑھا کر کے بول لو، امریکہ کا بھنگی تم سے اچھی ہی بولتا ہے۔ میں نے جلتے ہوئے کہا۔ ہم آپس میں باتیں ہی کر رہے تھے کہ باہر سے ایک جوڑا ہاتھوں میں ہاتھ دیے گیٹ سے اندر داخل ہوا۔ چھوٹتے ہی میرے دوست کے منہ سے نکلا: ہاو¿ ونڈرفل! میں جب تک اس جملے پر غور کرتا رہاوہ آپس میں مل جل کر حال احوال لے چکے تھے۔ ان کی باتیں سنیں تو رئیس امروہی یاد آئے:
” کہہ دو کہ نہ شکوہ لب مغموم سے نکلے“ ، ”اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے“
اردو جو کہ ہماری تہذیب ہے اس کا ایسا فالودہ نکالا کہ بیان سے قاصر ہوں۔ میں انہیں ہی دیکھ رہا تھا کہ انگریزی زدہ دوست نے دوبارہ سرگوشی کی ” بامہذب لوگ ہیں پھول نہ گرانا“۔ میں نے مسکراتے ہوئے شعر الاپا: ”اردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے“، ”وہ شخص مہذب ہے جس کو یہ زباں آئی“۔ انہوں نے ٹیڑھی صورت بنا کر ٹھیٹھ پنجابی میں گالی دی اور اپنی آئٹم کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گئے۔ خوش پوش نوجوان ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔اکثریت انگلش زدہ تھے کیوں کہ زبان جو بھی ہو وہ اپنے ساتھ تہذیب و ثقافت لاتی ہے۔ سو انگریزی زدہ لوگوں کی تراش خراش، اٹھک بیٹھک، طرز گفتگو، چال ڈال میں واضح تبدیلی ،محسوس کی جاسکتی تھی۔اس وقت پردہ خیال پر یہ بات ابھری کہ میں کیوں نابلد ہوں مگر جلد ہی سبکی ختم ہوگئی تھی۔ کیوں کہ ایک اردو دان پر نظر پڑ گئی تھی۔میں ان کے قریب کی کرسی پر بیٹھنے لگا تو انہوں نے میٹھے الفاظ میں بیٹھنے کا پروانہ تھمایا جو خالص اردو زبان میں تھا ۔جس میںایک ذرہ بھی ملاوٹ نہ تھی۔ انگلشی ماحول میں اردو سنی تو یاد آیا:”فضا کیسی بھی ہو رنگ اپنا گھول لیتا ہے“، ”سلیقے سے زمانے میں جو اردو بول لیتا ہے“۔
میں ابھی بیٹھا ہی تھا کہ اور بھی دو چار لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے۔ جیسے پروانے روشنی کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔اردو کی محفل جم گئی تھی۔ اب اردو کی ہوائیں چلنے لگی تھیں۔ دماغ میں یہ شعر ابھر رہا تھا:”سلیقے سے ہواو¿ں میں خوشبو گھول لیتے ہیں“ ، ”ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول لیتے ہیں“۔ ایک طرف انگلشی احباب کا مجمع تھا جن کے ساتھ خاصی تعدا د ہائی سوسائٹی کی میموں کی تھی۔ نوجوانوں کا اس طرف کھچاو¿ تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔دوسری طرف چند اردو دان بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک بچہ قریب آیا جس کے والد مھترم ہمارے قریب تشریف فرما تھے۔ اس نے آتے ہی سب کو سلام کیا اور اپنے والد کی طرف متوجہ ہو کر کہا: ” ابو جان آپ کو امی جان بلا رہی ہیں“ ہے تو یہ عام سا جملہ مگر واضح پتا چلتا ہے کہ ٹی وی ، ڈراموں سے دور رکھا گیا ہے بچے کو ، وگرنہ اس وقت وہ بھی پا پا پا کر رہا ہوتا۔
میںاس بچے کے متعلق سوچ رہاتھا کہ وہ اردو دان صاحب بولے: ”میرے کانوں میں مصری گھولتا ہے“، ”کوئی بچہ جب اردو بولتا ہے“۔ ابھی ہم باتوں میں مگن تھے کہ ایک انگلش زدہ نوجوان آیااور سب سے ہیلو ہائے کے بعد کھانے کی میزوں کی طرف متوجہ کیا۔ انگلش زبان سنی تو انور مسعود جھماکے سے آوارد ہوئے:” انگلش ضروری ہے ہمارے واسطے “، ” فیل ہونے کو بھی ایک مضمون ہونا چاہیئے“۔
...................................
عبدالباسط ذوالفقار
اوگی ، مانسہرہ
ای میل:
basitrj15@gmail.com

Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved