تازہ ترین  
Thursday
14-12-17

خوبصورت اور حسین وادیوں کا شہر "گلگت بلتستان"
    |     1 month ago     |    تعارف / انٹرویو
آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہےاوراس نعمت کا ہر وقت شکر بجا لانا ہم سب پر فرض عائد ہوتا ہے. آزادی اگرچہ ایک چھوٹا سا لفظ ہے لیکن یہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ ایک جزبے کا نام بھی ہے اور شاید یہی جزبے نے ہمیں آزادی کے نعمت سے سرفراز کیا.آزادی کا نام سنتے ہی دل مچلنے لگتا ہے ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں منائی جاتی ہیں.
پاکستان میں ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں کے باشندے ہر سال میں دو مرتبہ آزادی کی َخوشیاں مناتے ہیں
پہلا چودہ اگست اور دوسرا یکم نومبر .گلگت بلتستان یکم نومبر انیسو اڑتالیس کو ڈوگر راج کے ظلم و ستم سے چھٹکارا حاصل کرکے پاکستان لے ساتھ شامل ہوا اس آزادی کے پیچھے کرنل حسن خان اور وہاں کے مقامی باشندے ڈوگر راج کے ظلم وستم کی وجہ سے کرنل حسن خان کے ساتھ مل کر آزادی کی جنگ لڑی اور بہت قربانیوں کے بعد آزادی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی اسلیئے وہاں کے باشندے ہر سال چودہ اگست کی خوشیاں منانے کے ساتھ یکم نومبر کو بھی آزادی کا دن تصور کرکے خوشیاں مناتے ہیں.
ان خیالات کا اظہار کریس تحصیل خپلو گلگت بلتستان کے نوجوان رہائشی بشیر احمد بلتی نے کیا انہوں نے مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں یہاں پسماندگی پھیلی ہوئی تھی ہر طرف غربت کا دور دوراں تھا زندگی کی سہولتیں میسر نہ ہونے کے برابر تھیں,صحت,تعلیم و دیگر ضروریات زندگی کا فقدان تھامگر ان سب کے باوجود بھی گلگت بلتستان کے لوگوں نے ہمت نہیں ہاری بھوک افلاس کو قبول کیا مگر اپنے دیس کو نہیں چھوڑا.نہایت ہی سادہ لوح مگر سچے جزبات رکھنے والے لوگوں آپس میں بہت محبت,ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹنا بھائی چارے کی مثال قائم تھی اور یہی روایت صدیوں سے لیکر آج تک گلگت بلتستان کے لوگوں کا شیوا بن چکا ہے.
اسکے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو کا دور شروع ہوا تو گلگت بلتستان کے عوام کا سنہرا دور کا آغاز ہوا معاشی ترقی کے ساتھ تعلیم,صحت اور دیگر سہولیات زندگی کے آثار نظر آنے لگے ذوالفقار علی بھٹو کے دو اہم اقدات کی وجہ سے گلگت بلتستان میں ترقی کا آغاز ہوا.ایک ظالمانہ نظام کا خاتمہ اور دوسرا شاہراہ قراقرم کو تعمیر کرکے اہم کام سر انجام دیا ان دو اقدامات کی وجہ سے گلگت بلتستان کے باشندوں کی زندگیوں میں بہتری کے امکانات واضح نظر آنے لگے.
اس خطے کو اللہ پاک نے بہت خوبصورتی عطا کی ہے ست پارہ جھیل,وادی ءِِ ہنزہ اور شنگریلہ جیسے دل کو موہ لینے والے,سیاحت کے لیئے دل آویز اور آنکھوں میں اتر جانے والے پر فضا مقامات موجود ہیں یہاں پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی سیاہ سیاحت کے لیئے ان مقامات کا انتخاب کرکے لطف اندوز ہوتے ہیں.
بشیر احمد نے بتایا کہ مرزن,پڑاپو,کڑسار,نمکین چائے اور آزوک گلگت بلتستان کے مشہور ثقافتی کھانے ہیں اسکا اندازہ نمکین چائے سے ہوا کہ اس بات چیت کے دوران نمکین چائے بھی چلتا رہا بہت ہی مزیدار چائے نے گلگت بلتستان کے ثقافتی رنگ کو زندہ کردیا.
نہ تُنگ, شوکا جاکیٹ,کَر,کارودخُن گلگت بلتستان کے پہننے والے مشہور ثقافتی لباس ہیں جو گلگت بلتستان کے مردوخواتین بچے خوشی کے موقع پر زیب تن کرتے ہیں.پولو گلگت کا قومی کھیل ہے یہ خصوصاًٍ بہار کے شروع یا کسی فیٹیول میں کھیلا جاتا ہے اس کھیل کو دیکھنے کے لیئے ہزاروں لوگوں کا مجمع ذوق وشوق سے شامل ہوتا ہے. ہر سال یکم نومبر کے دن آزادی کے متوالوں اور شہداءِ گلگت بلتستان کی یاد میں چنارباغ گلگت موجودہ گلگت بلتستان کی اسمبلی میں مختلف تقاریب کا انعقاد کرکے انہیں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے سکولوں اور کالجوں میں بھی تقریری مقابلے ہوتے ہیں ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے.
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved