تازہ ترین  

بنا لفظوں کے کہانی
    |     1 years ago     |    گوشہ اطفال
اسکے پاؤں میں لرزش محسوس ہورہی تھی,لنگڑاتا ہوا چل رہا تھا وہ بچوں کے قریب آیا , ہسی مزاق کرنے لگا .. بچوں کا جوش دیدنی تھا کبھی سلام لینے آگے بڑھتے کبھی ڈر کر پیچھے ہوجاتے , کبھی رنگین بالوں کو چھیڑتے کبھی اسکو ہاتھ لگا کر پتہ لگانے کی کوشش کرتے کہ یہ ہے کیا...

وہ باتیں کرتا تو بچے پاس چلے جاتے ہستے ہساتے وہ بچوں کو اپنے حلیے سے لطف اندوز کرنے میں مگن تھا ...

وہ کبھی کسی کے پاس جا کر رک جاتا کبھی نظروں سے اوجھل ہوتا تو بچوں کی نگاہیں اسے تلاشنے لگتیں وہ مرکز نگاہ بنا ہوا تھا سب بچوں کی , بچوں کی حرکتوں سے وہاں موجود بڑے بھی اسے دلچسپی سے دیکھ رہے تھے مگر سب نگاہوں سے بے نیاز وہ بچوں کو خوش کرنے کے مگن تھا ..

میں تصاویر لیتے لیتے یونہی انکے قرہب جا کر رکی جہاں بچوں کے مجمے میں وہ باتوں میں مگن تھا ,چھوٹے چھوٹے ابھرتے سوالوں کے جواب دے رہا تھا ...

کچھ بچے شرارتاً کبھی اسکی شرٹ کھینچتے کبھی بال اور وہ بنا ڈانٹے شکل کے زاویے کو بدلتا اور بچے ڈر کے پیچھے ہوجاتے ...

میں نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا ماسک نہیں تھا جیسے عموماً جوکرز پہنتے ہیں , اسنے اپنے چہرے پر ہی میک اپ کرایا ہوا تھا اور رنگین بالوں کی وگ کے ساتھ وہ جوکر بن کر وہاں بچوں کو بہلانے آتا ہوگا ...

ماسک تو چہرہ چھپا دیتا ہے ,میک اپ میں اٹا ہی سہی اسکا چہرہ ,اور اسکے زاویے تو دکھائی دے رہے تھے ..

وہ اسکا زریعہ معاش تھا بچوں کو بہلانا ,اور تماشا بن کر تماشائیوں کو لطف اندوز کرانا ... انوکھی بات کہاں تھی اس ساری بات میں کہ میں یہ لکھنے پہ مجبور ہوجاتی ...

ہر پارک ہر سیرو تفریح والی جگہوں پر ایسے بےشمار کارٹونز اور جوکر بچوں کو ہساتے اور ان سے شرارتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں

کہیں بچوں کے پسندیدہ کارٹونز کے کاسٹیوم میں نظر آتے ہیں کہیں جوکرز ماسک پہنے یا میک اپ کیے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ... بچے انکو پسند کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خوشی خوشی وقت گزارتے ہیں , کھیلتے اور لطف اندوز بھی ہوتے ہیں ..

اس میں ایسا کیا خاص تھا ,,, شاید کچھ بھی نہیں وہ اتنا خاص نہیں تھا ,نہ وہ دیکھنے میں ایسا تھا کچھ زیادہ اپنی طرف متوجہ کر پاتا ..

اسے شاید محنت درکار تھی بہت کہ وہ مرکز نگاہ بنے مگر میں نے نوٹ کیا کہ وہ نہیں بن پا رہا تھا ..

زرا پل کو بچے پاس جاتے پھر دوسری طرف بھاگ جاتے

.

پھر وہ اکیلا رہ جاتا ... کچھ دیر بعد پھر وہ بچوں کو اپنی طرف بلاتا پھر بچے اسکی طرف جاتے مگر جلد ہی بھاگ جاتے میں نے کافی دیر اسے نوٹ کیا

وہ اچھا خاصا چھوٹے سے قد کا آدمی تھا ... بچوں کے ساتھ بات کرتے وہ کھلکھلاتا اور باتیں کرتا شرارتیں کرتے اپنے چہرے کے زاویے بناتا مگر جب اکیلا ہوتا تو نیچے منہ کر کے بیٹھ جاتا ... بدلتے زاویے چہرے کا میک اپ چھپانے میں کسی حد تک کامیاب تھے ... ہستے چہروں کے پیچھے چھپی اداسی اب کسی سے چھپی نہیں رہی ہے ...

اب ہر بات سمجھ کے پیمانوں میں پرکھنے ہوجاتی ہیں , نمی پڑھنا مشکل رہا نہ غموں نے مسکراہٹوں کی تازگی باقی چھوڑی ... ہر کوئی سامنے اور چھپے ہوئے مناظر سے واقف ہوتا جارہا ہے , ڈھکے چھپے الفاظ ٹوٹے لہجوں سے اب کون انجان ہے ....

آہیں ,ادھوری باتیں , انجانے قصے , سرد لہجے , ہستے ہساتے ہونٹوں کی نامعلوم داستانیں اور پوشیدہ باتیں کس سے چھپی رہ گئی ہیں ? سب جانتے ہیں ,سمجھ بھی جاتے ہیں مگر آنکھیں بند کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ یہ اب بے زار کرنے لگے ہیں ... پہلے جن باتوں پہ اوہ نکلتی تھی اب انھی باتوں پہ کوئی تاثر نہیں ابھرتا ...

چونکانے والے قصے اب اپنے ہیں تو بار بار چونک جانے کی بجائے سب اپنی اپنی جگہ انھی باتوں کے عادی بن گئے ہیں ...

اسکے میک اپ نے جو چھپایا تھا وہ نہیں چھپ رہا تھا کہ وہ ظاہر تھا ... اسکی لنگڑاتی ٹانگ بھی اسکے حالات و واقعات کا منہ بولتا ثبوت تھی مگر وہ تو ایک جوکر تھا جو وہ کر رہا تھا وہ تو اسکا روز کا کام تھا ... پھر خاص کیا اور خاص ہونے کی وجہ کیا ...

مگر میں نے اس سے بنا لفظوں کے کہانی سنی ... میں کتابوں پہ کتابیں لکھ دوں تو بھی وہ کہانی نہ لکھ پاؤں ..

کہانی ایسی تھی کہ مجھے جنجھوڑتی ہوئی گزری ... وہ کہانی ایسی تھی کہ ایک بار میرے رونگٹے کھڑے ہوئے وہ اس نے سنائی اور وہ اس کو سنانے کا فن بھی جانتا تھا حالانکہ اسنے کہا تھا مجھے کہانی نہیں آتی ...

میں اسکی کہانی سے اس کہانی گو سے متاثر ہوئی بچپن سے اب تک بے شمار کہانیاں پڑھیں اور سنی تھیں ایسی نہیں سنی تھی یقین مانیے ایسی کہانی جس نے اپنے رائٹر کی داستاں کھول دی جو خود کو کاسٹیوم میں چھپائے بیٹھا تھا ...

تین چار بچوں نے اسکے ساتھ ضد لگا لی انکل کہانی سنائیں ... بچے تیز ہیں آج کے وہ جان گئے تھے کہ اس میک اپ کے پیچھے کوئی انکل ہی ہیں وہ کہتا میں فرینڈ ہوں انکل نہیں بچے اسکی بات ماننے کو تیار نہ تھے ...

انھوں نے ضد کرنا شروع کی کہانی سنائیں ... اسنے کہا مجھے کہانی نہیں آتی ... بچے تو بچے ہوتے ہیں بار بار بات دہراتے کہانی سنائیں ... میں تصاویر لیتے ہوئے انکے پاس گئی .. مجھے قریب سے سننے کا اتفاق ہوا کہ وہ کیا بول رہا ہے ... اسنے سب کو چپ کرایا

سب بچے خاموشی سے اسکی طرف دیکھنے لگے , اسنے اپنے چہرے کے زاویے کو بدلا ... اچانک آنے والی سنجیدگی سے اسکے میک اپ والے چہرے کو زرا سا اداس واضح کیا .. اسنے ایک نظر سب بچوں پہ ڈالی ... جانے کیا اسنے سوچا اسنے بچوں کی نقل میں روتے بچے کی آواز نکالی ... اور چپ ہوگیا ...

پھر سے اس نے اپنے زاویوں کو بدلا اور شرارتاً بچے کے گال کو چھیڑا ... اور پھر سے ہسی مزاق میں مشغول وہ وہاں سے دوسری طرف چل پڑا ... پیچھے کھڑے بچوں نے آواز دی انکل کہانی...

اسنے مڑے بغیر کہا سنا دی ...

کہانی اسنے سنا دی تھی ...

بچوں کو سمجھ آتی یا نہ آتی میرے رونگٹے کھڑے کرگئی ... جاتے جاتے اگر وہ مڑ کے دیکھتا تو اپنی ہی طرح میری آنکھوں میں آنسو اسے سمجھا دیتے کہانی میں نے بھی سن لی ہے ....

جھولوں کی طرف بھاگتے بچوں نے دوبارہ اسے نہیں ڈھونڈا اور جب تک وہاں ہم موجود رہے وہ وہاں نظر نہیں آیا ...

وہ جوکر سب کو ہسانے آتا تھا ہسا کر چلا گیا ...

مگر مجھے ایسی کہانی سننے کا تجربہ بھی دے گیا جو میں نے کبھی نہ سنی تھی ... آخر کہانی تو کہانی ہوتی ہے۱۰۰ لفظوں کی ہو یا بنا کسی لفظ کے ...
.....................
ہالہ ظفر





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved