تازہ ترین  

نسلِ نو کا NO جوان (طنز و مزاح پر مبنی تحریر)
    |     7 months ago     |    طنزومزاح
عصرالاقدام میں جب بچہ جوان ہوتا تو گھر کے بڑے بوڑھے اس کی حرکات و سکنات سے اندازہ لگا لیتے کہ اب لونڈے نے "ٹھیڑی چیر"نکالنا شروع کر دی ہے،آثار جوانی کی آمد آمد ہے لہذا پاﺅں میں شادی کی بیڑیاں پہنا کر تا عمر قید زوج میں باندھ دیا جائے۔بچہ پہلے گھبراتا،پھر تصورات عروس الخطوط میں شرماتا اور شادی کا باقاعدہ اعلان کر دیتا۔جب تک یہ سن ِعقل کو پہنچتا(اگرچہ بیوی ساری عمر عقل نہیں آنے دیتی) تو سات بچوں کا باپ بن کراماں کے پاﺅں داب رہا ہوتا(اپنی نہیں اپنے بچوں کی اماں کے)۔کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو گھر کے بزرگ خبردار نہیں کرتے بلکہ بچے "خبردارانہ حرکات " سے باور کروا رہے ہوتے ہیں کہ اب" شیدا "جوان ہو گیا ہے اور اب اگر شادی نہ کی تو؟۔۔۔۔۔۔ایسے بچوں کو والدین خبردار نہیں کرتے ڈائیریکٹ اعلانِ شادی کر دیا جاتا ہے۔ایسے بچے "حرکات اور الاہمبے"سے پہچان لئے جاتے ہیںکہ اب بچہ جوان ہونے کے ساتھ ساتھ اوباش بھی ہوتا جا رہا ہے۔لہذا اب اسے بیوی کے "پلو"سے باندھ دیا جانا چاہئے۔شادی کے "کلے" اور بیوی کے"پلو ©"سے باندھ دیا جائے تو خود ہی نانی یاد آ جائیگی۔اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ یہی جوان
بعد از شادی محلہ کی ہر اُس لڑکی کو جسے کسی دور میں "تاڑنا"فرض جوانی خیال کرتا تھا اب بہن ،باجی کہہ کر اسے بھی پکار رہا ہوتا ہے جو کبھی از خود "چھڑنے" کو تیار بیٹھی ہوتی تھی۔
سمے بدلتے دیر کتنی لگتی ہے۔بدلتے وقت کے ساتھ حرکات و انداز بھی بدل جاتے ہیں ۔بلکہ کچھ کچھ نوجوانوں کی عادات "مخنثہ و مونثہ" سے لگتا ہے کہ یہ نوجوان نہیں بلکہ NO جوان ہیں۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہ کہ ان میں کوئی خوبی نہیں ہوتی۔china made مال کی طرح نرم و نازک کہ بس ذرا زور سے چھوا تو "برگِ چھوئی موئی" کی طرح روٹھ اور ٹوٹ جائے گا۔عرصہ دو دہائیوں سے میرا ایک تعلیمی ادارے میں بچوں سے مسلسل رابطہ و واسطہ رہتا ہے تو اپنے تجربے کی بنیاد پر آج کے noجوانوں کی عاداتِ"مخنثہ و مﺅنثہ"،مختلُط دیکھ کر یوں گماں ہوتا ہے کہ میرے یہ نوجوان عمرِشباب میں ہی "نو عروسانِ چمن"یا مخلوط النسل قسم کی کوئی مخلوط دکھتے ہیں۔عاداتِ مخنثہ کے حامل ایسے نوجوانوں کو میں نے اجزائے خمسہ میں تقسیم کیا ہے۔
برگر و پیزا نوجوان
عرف عام میں"ممی ڈیڈی" اور اوصاف خاص میں زنانہ حرکات و سکنات کے حامل ایسے بچوں کو کھانے میں پیزا،برگر،سینڈوچ۔کولڈ
ڈرنکس،پسند ہوتی ہیں۔ایسے بچے پیزا کھاتے نہیں بلکہ ترسا ترسا کر کھاتے ہیں۔اور پیزا محض فیس بک پہ اسٹیٹس اپلوڈ کرنے کے لئے کھاتے ہیں۔انداز گفتگو "لچکانہ"اور صفات"زنانہ" کا متحمل ہونا وجہہ شہرت خیال کرتے ہیں۔ایسے نوجوانوں کو پاپا اتنا پسند نہیں ہوتا جتنا"پاپا جونز"۔سلام کی بجائے ہیلو ہائے پہ ہی اکتفا کرتے ہیں۔بلکہ کبھی کبھار تو ان کی "ہائی"خود بخود ہی نکل جاتی ہے۔کولڈ ڈرنکس اور منرل واٹر کی 250ml کی بوتل کم و بیش 50گھونٹ میں اسے اتنا ترسا کے پیتے ہیں کہ نہ صرف بوتل کا دم نکلنا شروع ہو جاتا ہے کہ بعض اوقات بوتل ہاتھ جوڑ لیتی ہے کہ اے شبابِ عہد نو، اب تو میرے اوپر پرنٹڈ میٹئریل بھی آپ کے نرم و نازک ہاتھوں کی نرماہٹ سے مٹنا شروع ہو گیا ہے۔اب تو میری جان چھوڑ دے۔ایسے نو جوان اپنا تعارف پاپا کی نسبت سے نہیں ممی کے شجرہ سے کرواتے ہیں۔اپنی کلاس کے(بطور ٹیچر ایک ادارے میں کام کرتا ہوں)ایک ایسے ممی ڈیڈی بچے سے پوچھا کہ"آپ کے پاپا کیا کرتے ہیں"تو شرماتے،لجاتے،لچکاتے ہوئے گویاہوا کہ
"سر پاپا وہی کرتے ہیں جو مما کرواتی ہیں"۔۔۔۔۔اور پاپا؟۔۔۔"جی پاپا وہی کرتے ہیں جو مما چاہتی ہیں۔"۔۔۔اور مما کیا چاہتی ہیں۔۔۔۔وہ کیا چاہیں گی سر "مما تو خود پاپا کی چاہت ہیں".ایسے بچوں کو yuppy بچے بھی کہتے ہیںیعنی جو بات سمجھ نہ آئے اس پہ yup,yup اور سمجھ آ جائے تو waooo ۔انہیں she بچے بھی کہا جا سکتا ہے۔کیونکہ یہ ہر بات پہ "she,she" یا "سی،سی " کہہ رہے ہوتے ہیں۔کبھی کبھار تو یہ" سی "کہتے نہیں بلکہ نکل جاتی ہے۔ایسے بچوں کا کوئی اور فا ئدہ ہو نہ ہو خرچہ بہت کم کرواتے ہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ایک بہن کے ساتھ ایک ممی ڈیڈی بچہ مفت میں پرورش پا جاتا ہے۔کہ ماسوا "انڈرگارمنٹس©" کے ہر شے باجی کی استعمال شدہ اپنے استعمال میں لے آتے ہیں۔اور تو اور باجی کے جھمکے تک پہن کر جھمک جھمک اور ٹھمک ٹھمک کے سے اندازِ خرامانہ طاﺅس چلتے ہیں کہ مسٹر فراز کم ،مس فرزانہ کاگماں زیادہ ہوتا ہے۔
F B جنریشن
فیس بک جنریشن کے نو جوان face ہی سے پہچان لئے جاتے ہیں۔کہ ایسے بچے محضfaces بناتے ہیں ، book سے ان کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ایسے نوجوان face کے نزدیک اور book سے بہت دور رہتے ہیں۔FBپر mail اتنی چیک نہیں کرتے جتنی female اور وہ بھی فی میل(per mile)کی سپیڈ سے۔ان کی نظروں سے کوئی بھی female بچ نہیں سکتی۔کسی دن اگر سٹیٹس تبدیل کرنا بھول جائیں تو وہ دن ان کے کئے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔جلد کسی کے ہاں مہمان نہیں بنتے ،البتہ اُنہیں کے ہاں مہمان بننا پسند ہے جن کے ہاںwi fi سگنل پورے آتے ہوں۔ایسے نوجوان جن کے ہاں بھی مہمان بن کر جاتے ہیں حال و احوال سے قبل پوچھتے ہیں کہ آپ کے وائی فائی کا pass word کیا ہے۔
پرانے لوگ کہا کرتے تھے کہ نیکی کر دریا میں ڈال،FB جنریشن کہتی ہے کہ کچھ بھی کر face book پہ ڈال۔ان کی گفتگو و انداز گفتگو دونوں ہی "قابل دید " ہوتا ہے۔کبھی کبھار تو دوران گفتگو "کتھک،سالسا،کلاسیکل،ڈسکو،لاوا،اور جھومر" وہ کون سا ڈانس ہے جن کے step یہ نہ کر پاتے ہوں۔گویا گفتگو کم اور ڈانس زیادہ۔FB جنریشن کی گفتگو کا آ غاز ,like,dislike,status,upload سے شروع ہو کر feeling sad پہ جا کر ختم ہو جاتا ہے۔ان کی آپس میں ناراضگی بھی عجب قسم کی ہوتی ہے کہ کیا لڑکیاں آپس میں" طعنے معنے"دیتی ہونگی۔مثلاً تم نے باجی کے سٹیٹس کو like کیوں نہیں کیا ،میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروںگا۔اور دوست بھی ماشااللہ ،status سے قبل ہی باجی کو like کئے بیٹھا ہوتا ہے۔یا پھر۔۔۔۔میری مما پاپا کی شادی کی تصویر دیکھی تھی نا ،کتنے cute لگ رہے تھے نا،مگر میں آپ سے بات نہیں کرتا تم نے اس پہ اتنا گندہ کمنٹ کیا کہ اس پہ مما ،پاپا کو ڈانٹ پلا رہی تھی کہ دیکھو اپنے لاڈلے کے دوست،حالانکہ مما نے کمنٹ پہ دل والا لائیک کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔فیس بک سٹیٹس نے لوگوں کو استعمال کرکر کے اتنا گرا دیا ہے کہ بیورو کریٹس قسم کے لوگ سٹیٹس اپلوڈ کر رہے ہوتے ہیں۔checked into barber shop for cutting بندہ پوچھے کہ باربر کی دکان بال کٹوانے کے لئے ہی ہوتی ہے ،کھانا کھانے کے لئے تھوڑی ہوتی ہے۔FBجنریشن کی حالت اس وقت قابل رحم ہوتی ہے جب کسی ایسی جگہ ہوں کہ جہاں wi fi کے سگنل نہ آ رہے ہوں۔اور ڈیٹا نیٹ ورکنگ کی سپیڈ بھی بہت کم ہو تو ان کی حالت "ہیروئنچی" جیسی ہوتی ہے ۔فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ہیروئنچی نشہ نہ ملنے پر جسم کو کھجا ر ہا ہوتا ہے جبکہ فیس بک کے "پپو بچے©" بار بار ٹچ سکرین کو کھجاتے دکھائی دیتے ہیں۔ایسی صورت حال میں FB ہیروئنچی اپنی اپنی "کھوہ" سے نکلتے ہیں اور فیملی کے بڑھے بوڑھے سے علیک سلیک بڑھاتے ہوئے بہتر محسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یار "بڑے اچھے لوگ ہیں کبھی کبھار ان سے بھی ملنا چاہئے"
جہاں فیس بک کے بہت کے نقصانات ہیں وہاں کچھ فائدے بھی ہیں کہ اب خواتین کو دوسروں کی "ٹوہ" میں نہیں رہنا پڑتا۔FB سے سب پتہ چل جاتا ہے۔کہ کس "دشمن "نے کون سا اور کس رنگ کا سوٹ اور لپ اسٹک لگا رکھی ہے،کہاں کہاں چگلی میٹنگ ہو رہی ہے اور آئندہ کس کے ہاں چگلی میٹنگ ہو گی وغیرہ وغیرہ۔گویا سب کا راز افشاں کرنے والی کتاب کا نام ہے فیس بک۔یہ واحد کتاب ہے جسے بچے،جوان،اور طالب علم بڑے شوق سے پڑھتے ہیں جبکہ بڑے بوڑھے اور ان پڑھ اسے تجسس سے دیکھتے ہیں۔اور "موج مزہ"کرتے ہیں۔کہ" بابوں" کا وقت اچھا گزر جاتا ہے۔
ہپّی نوجوان
ہپی نوجوان ایسے بچے جو اپنے حال میں مست اور happy رہتے ہوں۔گھر کے حالات کتنے ہی آسودہ ہوں،شکل و صورت ،وضع قطع سے یہ مفلوک الحال ہی نظر آئیں گے۔ہپّی ایسی نسل ہے جو دکھنے میں ہی مخلوط النسل،سوچنے سمجھنے میں مخبوط الحواس،عادات میں مختلط اور تعلیم میں مکمل پاکستانی ہوں ،تو آپ بلا جھجک ان پر تہمت خاص لگا سکتے ہیں کہ یہی وہ نوجوان ہیں جو نہ HEہے اور نہ SHE ، بس mix crop ہے۔یعنی بال نسل افریقی،صاف ستھرائی میں سائبیرین،کپڑے گوری نسل،گویا آپ مختصراً کہہ سکتے ہیں کہ تازہ "جامن" کوکسی مٹی کے "کجّے" میں ڈال کر نمک لگا کر shake کرنے سے جو حالت "جامنوﺅں"کی بنتی ہے ۔یا چھلِے ہوئے سنگھا ڑھے جیسے باہر نکل کے آتی ہے، ایسی ہی حالت سے ملتے جلتے ہوتے ہیں یہ ہپّی بچے۔ایسے بچوں کی ©" پنیری" پرائیویٹ ہائی سکول میں جنم لے کر یونیورسٹی میں فصل پک کر تیار ہو جاتی ہے۔اگر آپ بھی اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو دوچار سے آپ کا بھی واسطہ پڑ سکتا ہے۔
اوازار نوجوان
یہ وہ نوجوان ہیں جو ساس کے مظالم سے تنگ بہو کی مانند ہوتے ہیں ۔"سستی اور سسری زدہ" یہ بچے ہر وقت ہر کسی سے نالاں و ناراض ہی رہتے ہیں۔ماں کام کا کہہ دے تو اکتائے ہوئے،بابا پڑھنے کی تلقین کرے تو اوازار،دوست یار، پکنک کا کہہ دیں تو منہ پہ بارہ کا ہندسہ ،بڑی مشکل سے کھانے کا وقت سستی کے حصار سے نکال پا کر نکال پاتے ہیں۔ہمیشہ خیالی و تصوراتی دنیا میں فل نمک مرچ پلاﺅ،بریانی کے خواب و خیال میں رہتے ہیں۔ایسے نوجوانوں کو سستی زدہ،سسری نما ،دیمک شدہ بھی کہہ لیں تو ان کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی بلکہ پورا سر جوں زدہ محض سستی کی بنا پہ ہو جاتا ہے۔
تعلیمی نوجوان
ایسے نوجوانوں کی تعداد اب آٹے میں نمک کے برابر ہے۔تعلیمی بچے ہی اصل میں تعظیمی بچے ہوتے ہے۔انہیں آپ پڑھاکو بچے اور" بی بے "بچے بھی کہہ سکتے ہیں۔ایسے بچے "خرچیلے کم خچرے" زیادہ ہوتے ہیں۔اپنی کتابوں اور دوسروں کی پاکٹ پر ہمیشہ نظریں جمائے رکھتے ہیں۔تعلیمی نوجوان " ٹیوشن فری،نوٹس فری،گائیڈ فری پاکٹ فری اور مال مفت کے لئے ہر کسی سے فری ہو جاتے ہیں۔ایسے ©"کُگھو قسم کے گول مٹول بچے" اب ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔حکومت وقت کو چاہئے کہ ایسے بچوں کی نسل محفوظ کرنے کے لئے "تعلیمی ہیچریاں" قائم کرے تاکہ تعلیمی تاریخ میں ہم تاریک ہونے سے بچ جائیں۔ 
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved