تازہ ترین  
Tuesday
12-12-17

بچوں کی تعلیم میں ذرائع ابلاغ کا کردار
    |     1 month ago     |    پاکستان
ہم اکیسویں صدی کی دہلیز پر کھڑے ہیں اور اس صدی کے تقاضوں میں ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ ہمیں تعلیم کے میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہٹنا چائیے.تعلیم ایک بامقصد معاشرتی عمل ہے جس کے ذریعے زندگی کا راستہ متعین ہوتا ہے دوسری طرف ذرائع ابلاغ بھی ,ثقافت,تعلیم و تہزیب اور روایات و اقدار کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتے ہیں.
تعلیم غوروفکر کا مادہ پیدا کرتی ہےتوذرائع ابلاغ اس فکر کی حرارت کو عوام کے اعصابی نظام میں منتقل کرتے ہیں جب تک ہمارے ذرائع ابلاغ نظریاتی بنیادوں پر استوار نہ ہونگے اس وقت تک ہم تعلیم کے میدان میں درخشندہ ماضی تیار نہیں کر سکتے.ہمیں اگر ترقی کرنا ہے تو ہمیں زیادہ توجہ تعلیم پر دینی ہوگی.
سائنس کی ترقی کے اس دور میں اکثر ممالک اپنے بجٹ کی خطیر رقوم تعلیم اور ذرائع ابلاغ پر خرچ کر رہے ہیں ٹی وی ,ریڈیو اور اخبارات پر انکے تعلیمی پروگرام ہوتے ہیں ہم بحیثت ایک مسلمان قوم ہیں ہمارے عقائد و نظریات ہیں اس نظریات کے عقائد سے قوم کو آگاہ کرنے کی ذمہ داری جس طرح تعلیم پرہے اسی طرح ذرائع ابلاغ بچوں کو اپنے کلچرل سے ہم آہنگی اور اس کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں دنیا کی کوئی قوم بھی نہیں چاہتی کہ وہ آزادانہ نوجوان تیار کرے جو کہ دوسری تہزیب کی پیروی کریں.
کیا وہ آج کی نسل کو دوسری تہزیب کا پیروکار بنانا چاہتے ہیں کیونکہ آجکا طالب علم جب بھی اٹھتا ہے تو اسکی نظر اخبار پر پڑتی ہے کالج جانے سے پہلے ریڈیو کی آواز اسکے کانوں میں گونجتی ہے اور جب گھر لوٹتا ہے تو ٹی وی کے پروگرام اسکے طرزوفکر پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ آج کا طالب علم اپنی روزمرہ کی مصروفیات کا نصف حصہ ذرائع ابلاغ پر گزارتا ہے.اگر اخبارات ریڈیو اور
ٹی وی پر بچوں کی تعلیم کے بارے میں تعلیمی پروگرام نشر کیئے جائیں تو پاکستان کی تعلیم کی کافی ترقی ہو سکتی ہے ہمارے ملک کی اکثریت نا خواندہ اور غریب ہےدیہات کے غریب اور خانہ دار خاتون انکے تعلیم کا ذریعہ تعلیمی ادارے اور امدادی بکس ہیں کرسیوں پر بیٹھ کر یہ کہا جاتا ہے کہ اس سال اپنی شرح خواندگی ہوجائیگی لیکن کوئی عملی اقدام نہیں کیا جاتا.
اگر خواندگی کو عام کرنے کیلیئے ٹی وی اور ریڈیو سے مدد لی جائے تو ہمارا نظام تعلیم بڑھ سکتا ہے اسلیئے ضروری ہے کہ ملک کے اسکولوں کارخانوں یونین کونسل اور بجلی کی سہولت رکھنے والے دیہات میں ٹی وی کے تعلیمی مراکز کو مربوط طورقائم پر کیا جائے.ترقی پزیر ممالک میں تعلیمی نشریات کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے پاکستان میں نئی نسل تو تعلیم حاصل کر رہی ہے لیکن پرانی نسل ان پڑھ ہے اس سے معاشرے میں خلا پیدا ہو گیا ہے اور اس خلا کو ذرائع ابلاغ کی مدد سے پر کیا جاسکتا ہے.
بچوں کو ایسے دلنشیں طریقے سے تعلیم دیجائے کہ انہیں احساس بھی نہ ہو کہ کوئی چیز ٹھونسی جا رہی ہے نیکی اور بھلائی کی قدروں سے آگاہ کیا جائے حاکمِ الٰہی کا تصور سمجھایا جائےاور اسلامی تعلیمات روشناس کرایا جائےاور اس کے لیئے بچوں اور اساتزہ کا کام ہی نہیں بلکہ ذرائع ابلاغ بھی بچوں کو احسن طریقے سے سمجھا سکتے ہیں.
پاکستان ایک اسلامی مملکت اور اسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اسلیئے ہمارا مقصد ایک مکمل تعلیم یافتہ مسلماں شہری تیار کرنا ہے اور اگر ہم بچوں کو تعلیم اور اسلامی اقدار سے روشناس کرائینگے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان تعلیمی معاشرتی اقدار سے وہی مقام حاصل کریگا جو اسلامی مملکت کی ضرورت ہے اسلیئے ٹی وی اور ریڈیو پر بچوں کے لیئے ایسے پروگرام تیار کیئے جائیں جو انکے لیئے موثر ثابت ہوں.
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved