تازہ ترین  
Tuesday
12-12-17

انفلوئنزا Influenza
    |     4 weeks ago     |    پاکستان
بہت سے لوگ سردی کے موسم کو پسند کرتے ہیں لیکن احتیاط نہیں کرتے جس سے وہ اس خوبصورت موسم میں بیمار ہو جاتے ہیں اور اس موسم کا مزہ نہیںلے پاتے اس لئے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو اس موسم میں محفوظ بنانے کے لئے گرم کپڑوں اور ماسک کا استعمال کریں تاکہ اس موسم کی سختی سے بچا جا سکے۔جب سردی کا موسم آتا ہے تو اپنے ساتھ کئی بیماریاں بھی لے آتا ہے جن میں نزلہ و زکام ،بخار ،سردرد،حلق اور سانس کی بیماریاں قابل ذکر ہیں۔
انفلوئنزا بھی سردیوں کی بیماری ہے اور یہ ایک وائرس سے پھیلتی ہے یہ ہمارے نظام تنفس پر اثر انداز ہوتی ہے جس سے ہمارے ناک ،گلا اور پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اس بیماری کے جراثیم فضا میں موجود ہوتے ہیں جو متاثرہ فرد کے چھینکنے ،بات کرنے اور کھانسنے سے دوسرے افراد میں منتقل ہو جاتے ہیں۔یہ بیماری ہر عمر کے فرد کو ہو سکتی ہے لیکن زیادہ تر اس بیماری سے بچے ،بوڑھے اور کمزور افراد متاثر ہوتے ہیں۔انفلوئنزا کے جراثیم جب کسی متاثرہ شخص میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے دو سے تین دن کے اندر اسے نزلہ،زکام اور تیز بخار کی شکائت ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ سردی لگنا اور سردی سے کپکپی بھی ہوتی ہے اور پورے جسم میں درد شروع ہو جاتا ہے اور اگر یہ مرض بگڑ جائے تو اس سے متاثرہ مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اس کے علاوہ سینے میں درد ،الٹیاں اور اسہال لگ جاتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ شروع میں ہی مریض کو کسی ڈاکٹر کو دکھا دینا چاہیئے تا کہ بیماری مزمن صورت اختیار نہ کرے۔
اگر اس بیماری کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ کئی اور پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔اور بیماری مہلک صورت حال اختیار کر جاتی ہے۔جس کا علاج زیادہ مدت تک کیا جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ چھوٹے بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو سردیوں کے موسم میں سردی سے بچایا جائے تا کہ وہ اس مہلک مرض سے محفوظ رہ سکیں۔چھوٹے بچوں میں یہ بیماری حلق میں در د سے شروع ہوتی ہے اس کے علاوہ بخار 100 فارن ہیٹ تک پہنچ جاتا ہے جس سے سر درد اور جسمانی درد شروع ہو جاتے ہیں اس کے علاوہ ناک کا بہنا اور خشک کھانسی ہو جاتی ہے ۔انفلوئنزا ایک شخص سے دوسرے شخص میں جلد منتقل ہو جاتا ہے اس لئے اگر گھر میں کوئی فرد اس میں مبتلا ہو جائے تو باقی افراد بھی ڈاکٹر سے رجوع کریں تا کہ ان کو بروقت دوا یا ویکسین دی جا سکے تا کہ وہ اس بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔
اگر کوئی شخص اس بیماری میں مبتلام ہو جائے تو اس کو مکمل بستر کا آرام دیں اور اسے گرم یخنی اور پھلوں کا تازہ رس پلائیںاس کے علاوہ مریض کو پانی زیادہ سے زیادہ پلائیں۔ٹھنڈے پانی سے اجتناب کریں اور نارمل پانی ہی پلائیں ۔ایسے مریض جن کو دمہ،ذیا بیطس یا دل کا عارضہ لاحق ہو انہیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
علامات:
٭ چھینکیں آنا،ناک بہنا اس کی شروع کی علامات ہو سکتی ہیں۔
٭سردرد ،خشک کھانسی ہو جاتی ہے۔
٭ گلے میں خراش ،نزلہ و زکام ہو جاتا ہے ۔
احتیاطی تدابیر:
٭ کھانستے اور چھینک مارتے وقت اپنا منہ ڈھانپ کر رکھیں۔
٭ ناک منہ کی صفائی کے لئے صاف تولیہ یا رومال استعمال کریں۔
٭ اپنے ہاتھوں کو ہمیشہ صابن سے دھوئیں۔
٭ انفلوئنزا کی ویکسین ضرور لگوائیں۔
٭ اگر یہ وبا پھیل چکی ہو تو بازار یا بھیڑ والی جگہ پر نہ جائیں۔
٭ نیند پوری کریں اور ہلکی ورزش کو اپنا روزانہ کا معمول بنائیں۔
٭حاملہ خواتین اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے حفاظتی ٹیکہ لگوائیں۔
٭ مریض کے استعمال کی چیزوں کو جراثیم کش محلول سے دھوئیں۔
٭ مریض اگر ٹشو پیپر استعمال کر رہا ہے تو انہیں جلا دیں۔ 
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved