تازہ ترین  
Tuesday
12-12-17

ملتان کی دھرتی پر سجا ادیبوں کا میلہ
    |     4 weeks ago     |    گوشہ ادب
ماہ نومبر 2017کا آغازہوتے ہی ملتان میں کیا بلکہ ملک بھر میں سموگ کا راج پھیلا ہوا تھا ۔اِدھر ملتان ٹی ہاوس میں 5نومبر بروز اتورکو ادیبوں ،قلم کاروں ،اور ادب دوستوں کا میلہ سجنے چلا تھا۔ملک بھر سے قلم کاروں ،ادیبوں ،ادب دوستوں نے بھرپور شرکت کرکے سموگ کو شکست دے دی اور یہ بآوار کرادیا کہ جذبے جوان ہوں تو راستے کی دشواریاں ،موسم کی تبدیلیاں ،کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔
ملتان کی دھرتی ہر طرح سے خوش نصیب ہے ۔کتنے خوش نصیب لوگ تھے جو اس پاک دھرتی کی زیارت کے لیے آئے تھے ۔اس دھرتی کی خوشبو آنے والوں کو اپنا گرویدہ بنالیتی ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ ملتان میں جو ایک بار آیا وہ یہیں کا ہو کر رہ گیا ۔ملتان قدیم دھرتی ہے اور اس کے سینے میں کئی راز پوشیدہ بھی ہیں ۔ہر دُور میں آنے والے بادشاہ نے ملتان کو اپنا مسکن بنایا اور کئی اس پر قبضہ کرنے کے لیے جتن بھی کرتے رہے ۔
یہ ملتان کی شان اور عظمت ہے کہ لوگ ننگے پاﺅں چل کر آتے ہیں کیونکہ ملتان اولیاءاللہ کا شہر ہے ۔یہاں پر عظیم ہستیاں آسودہ خاک ہیں ۔ایک طرف حضرت شاہ رکن عالم ؒ ہیں تو دوسری طرف حضرت یوسف شاہ گردیز ہیں ۔ملتا ن کو سونے کا گھر بھی کہاجاتا ہے اور ملتان کرامات کا شہر بھی ہے ۔سب سے بڑھ کر ملتان ولیوں کا شہر ہے ۔اس شہر کے باسی محبت کرنے والے اور مہمان نواز ہیں اور یہی محبت کی خوشبو ملک بھر میں بلکہ پوری دُنیا تک پھیلی ہوئی ہے ۔اسی محبت کی بدولت پوری دُنیا سے لوگ کھینچے چلے آتے ہیں ۔
ملتان کی دھرتی ادب کے لئے بھی بڑی رزخیر ہے اوریہاں بڑوں کے لئے ہر دور میں ادب تخلیق کیا گیا ہے لیکن بچوں کا ادب تخلیق کرنے سے گریزاں تھے،مگر اب ایسا نہیں ہے کیونکہ اب اس دھرتی پر علی عمران ممتاز اور اس جیسے کئی ادب پیدا ہو گئے ہیں جو بچوں کے لئے ادب تخلیق کر رہے ہیں ۔ملتا ن کی سر زمین ادب کے حوالے سے درس گاہ کی اہمیت رکھتی ہے ۔
ماہنامہ کرن کرن روشنی کے چیف ایڈیٹر ”علی عمران ممتاز “کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔بچوں کے ادب کے حوالے سے معتبر نام ،جس نے اپنی زندگی کے کل 32سالوں میں 21سال بچوں کے ادب کے لئے لگا دیئے۔10کتا بوں کے مصنف ہیں اور صدارتی ایوارڈ یافتہ ہیں ۔ماہنامہ کرن کرن روشنی نے بھی اپنی کامیابی کے جھنڈنے گاڑ رکھے ہیں ۔کئی مقابلہ جات میں پوزیشنیں لے کر اس دھرتی کی شان بڑھا دی ہے ۔علی عمران ممتاز نے کرن کرن روشنی کی صورت بچوں کے لیے ایک پودا لگایا اور یہ پودا اب تن آور درخت بن کر اپنے سائے اور پھل سے پوری دُنیا کے بچوں ،بڑوں کو مستفید کر رہا ہے ۔اِسی کے پلیٹ فارم سے روشنی فسٹیول کا آغاز کیا گیا اور اس کا پہلا پروگرام 2016کو کیا گیا ،جس کی بے حد کامیابی کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایساپروگرام ہر سال کرایا جائے گا۔
الحمد للہ!وعدہ وفاہوا اور 5نومبر بروز اتوار کو بمقام ملتان ٹی ،ہاوس ایک بار پھر سے سج گیا اور ملک بھر سے ادب دوست کی شرکت نے کہکشاں سجا دی۔سموگ کی وجہ سے پروگرام مقررہ وقت سے تھوڑا لیٹ شروع ہوا ۔تلاوت قرآن مجید کی سعادت پاکستان رائیٹرزونگ کے رکن قاری محمد عبدالباری نے حاصل کی اور حاضرین محفل پر سحر سا کر دیا ۔حمد باری تعالیٰ کی سعادت فصیح الرحمان نے حاصل کی ۔ذکر خداہواور ذکر مصطفی نہ ہو ،یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے ۔نعت رسول مقبول ﷺ کی سعاد ت وقارالحسن نے حاصل کی اوراپنی پیاری اور میٹھی آواز میں محفل میںجلترنگ کا سماں پیدا کردیا۔۔ تلاوت،حمد باری تعالیٰ اور نعت رسول مقبول ﷺ کے بعد قومی ترانہ شروع ہوا، پاکستان سے محبت رکھنے والے ہر شخص نے اپنی محبت کا اظہار اپنی اپنی سیٹ سے کھڑے ہو کر ،باادب اور تعظیم بجا کر کیا ۔
قومی ترانہ کے بعد اُمید روشنی کے چیئر مین محمد جنید اکرم نے اظہا ر خیال کرتے ہوئے تمام آنے والے شرکاءکو خو ش آمدیدکہا اور محفل کو چار چاند لگانے پر شکریہ ادا کیا ۔کمپیئرنگ کے فرائض راﺅ محمد ندیم اسلم ،محمد جبران منہاس اور علی عمران ممتاز ادا کرتے رہے ۔اس دُوران اظہر سپل نے مزاحیہ ڈرامہ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر پیش کرکے حاضرین محفل کے دل جیتے اور داد وصول کی ۔شرکاءکے چہرے کھلکھلاءاُٹھے اور تالیوں کی گونج سے ہال گونج اُٹھا۔
یہ پروگرام ”روشنی فسٹیول برائے اہل قلم اُمید روشنی فورم پاکستان“کے زیر اہتمام ،تعمیر ادب فورم لیہ اور بچوں کا پرستان لاہور، ایس ایم فوڈ ملتان ،شمع بناسبتی ملتان ،وفائے پاکستان ادبی فورم لاہور،بچوں کا گلستان خانیوال،بزم منزل کراچی ،اور راہ علم ملتان کے تعاون سے منعقد کیا گیا ۔
کرن کرن روشنی کے ڈپٹی ایڈیٹر عبدالرحمان رزاقی نے ”پیارے اللہ جی !“علی عمران ممتاز کی مرتب کردہ کتاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب علی عمران ممتاز کے لئے ذریعہ نجات بنے گی اور علی عمران ممتاز کو دُنیا و آخرت میں سرخروکرائے گی ۔
ملتان دھرتی کے سپوت پروفیسر جناب جبار مفتی نے اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرن کرن روشنی کی پوری ٹیم اور علی عمران ممتاز داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس دھرتی پر کامیاب پروگرام کا انعقاد کیا اور پیارے اللہ جی !کتاب شائع کرکے ادبی دُنیا میں اپنا قد کاٹھ اونچا کیا ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ شوشل میڈیا کے آنے سے کتاب کی اہمیت ختم ہو کر رہ گئی ہے لیکن میں ان سے اتفاق نہیں کرتا ۔کتاب کی اہمیت ہر دُور میں رہی ہے ۔کتاب پہلے بھی پڑھی جاتی تھی ،کتاب اب بھی پڑھی جاتی اور مستقبل میں بھی پڑھی جائے گی ۔کتاب کی اہمیت کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتی ۔
راﺅ ندیم اسلم نے ماہنامہ کرن کرن روشنی ڈائجسٹ کے ایڈیٹر اور مجیداحمد جائی ادبی لائبریری کے منتظم راقم المعروف ”مجیداحمد جائی “کو اظہار خیال کے لیے دعوت دی ۔تالیوں کی گونج میں راقم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کتاب پیارے اللہ جی شائع کرنے پر علی عمران ممتاز کو سراہا اور سلوٹ پیش کیا ۔راقم نے مزید کہا ،میں کتاب ہوں اور کتاب دوست کو دوست رکھتا ہوں ،جو کتاب پڑھتا ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا۔اس دُوران اُنہوں نے پیارے اللہ جی !کیسے منظر عام پر آئی ،پس منظر پیش کیا اور اس کتاب میں شامل تمام تحریروں کے لکھاریوں کو مبارک باد پیش کی ۔علی عمران ممتاز کو یہ اعزاز حاصل ہو گیاکہ ”پیارے اللہ جی !شائع کرکے انہوں نے انمول کام کر دیا۔اللہ سے اظہار کرتی پورے ایشیا میں دوسری کتاب ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا ۔اس سے پہلے لڑکیوں نے اللہ سے اظہار محبت کرتے ہوئے کتاب شائع کی جو 1980میں شائع ہوئی ۔
راقم کے اظہار خیال کے بعد 10منٹ کا وقفہ کیا گیا ۔اس دوران شرکاءنے کتاب میلے کی طرف رحجان کیا ۔وہاںپر کرن کرن روشنی کے طاہر شہزاد اور راقم اپنے فرائض دے رہے تھے ۔لوگوں کی کتابوں میں دلچسپی دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کتاب پڑھنے والے ہر دُور میں موجود ہیں ۔لوگوں نے کتب خریدی اور خرید کر اپنے دوستوں کو تحفتاًبھی پیش کی۔کتاب ”پیارے اللہ جی “کو لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا یوں لوگوں کا اللہ سے اظہار نظر آتا ہے ۔کرن کرن روشنی نے کتاب میلہ کا انعقاد کرکے اپنی روایت کو برقرار رکھا ۔وقفہ کے دوران تمام آنے والے شرکاءکی جوس سے تواضع کی گئی ،اس دوران ایس ایم فوڈ کی ٹیم نے کیک ،بسکٹ پیش کیے ۔
وقفے کے بعد پروگرام کو دوبار شروع کیا گیا تو تلاوت کی سعادت محمدعثمان خواجہ نے حاصل کی اور نعت رسول مقبول ﷺ کی سعادت خواجہ فرقان غنی نے حاصل کی ۔
خواجہ مظہر نواز صدیقی کو اظہار خیال کے لیے دعوت دی گئی ۔انہوںنے علی عمران ممتاز کی بچوں کے ادب میں خدمت کو سراہتے ہوئے کامیاب ترین شخص کا خطاب دیا اور مبارک باد پیش کی ۔ان کے بعد کرن کرن روشنی ٹیم کی مہمانان محفل جن میں جبارمفتی ،غلام یزدانی گیلانی ،اخترعباس بھیا ،سجاد جہانیہ کے ساتھ گروپ فوٹو بنائے گئے ۔
صدارتی ایوارڈ یافتہ مصنفہ ”نیئر رانی شفق صاحبہ نے ”کہانی کیسے لکھی جائے “کے عنوان سے بیان کرکے محفل میں رنگ بھر دئیے اور حاضرین عش عش کر اُٹھے ۔
غلام یزدانی گیلانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے ملتان کی سرزمین کی اہمیت پر بات کی اور اپنے خاندان کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کرنے کے بعد کرن کرن روشنی ٹیم کو سراہا اور پیارے اللہ جی کی اشاعت پر مبارک باد پیش کی ۔اُنہوں نے مزید کہتے ہوئے پیر اور پیٹر کی وضاحت کی اور کہا کہ ہر فرد کا فرض بنتا ہے کہ سچائی کے راستے کی پہچان کرتے ہوئے اپنے آپ کو صراط والے راستے پر چلائیں ۔
احمد کامران مگسی نے اظہار خیال کے دوران کرن کرن روشنی کی پوری ٹیم کی کاوش کو سراہتے ہوئے مبارک باد پیش کی اور پیارے اللہ جی کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوںنے کہا جس نے اللہ تعالیٰ سے رشتہ جوڑ لیا اُسے کسی اور کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
کرن کرن روشنی کے اعزازی ایڈیٹر عرفات ظہور نے اظہار کرتے ہوئے علی عمران ممتاز سے پہلی ملاقات سے لے کر اب تک کا پس منظر پیش کیا اور پیارے اللہ جی کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کی ۔
اختر عباس بھیا جی نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس نے اللہ سے رشتہ جوڑ لیا ،وہ کامیاب ہے ۔علی عمران ممتاز نے اللہ جی سے اظہار کرتے ہوئے پوری ایک کتاب بنا ڈالی ،اپنے محبوب سے کوئی عزیز اظہار محبت کرے تو اور بھی اچھا لگتا ہے ،عمدہ کام کی توفیق بھی وہی دیتا ہے اور ان کو دیتا ہے جو اُسے پسند ہوں ۔یہ انمول کام ہے ۔اس کام کے لئے علی عمران ممتاز کو شاباش ۔اختر عباس بھیا جی نے حاضرین محفل کو اللہ سے محبت کرنے کے طریقے بتائے اور کہا کہ جو مایوس ہوتا ہے وہ ناکام ہے ۔ضروری نہیں کہ ہر اونچے مرتبے پر پہنچنے والا کرپٹ ہو ،انہوں نے مثالیں دے کر شرکاءکو محو حیرات میں ڈال دیا۔حاضرین محفل نے اس پیاری شخصیات کے ساتھ تصویریں بنوائی۔پروگرام کے اختتام پر کرن کرن روشنی ٹیم کو ان کی ادبی خدمات پر ایوارڈ سے نوازہ گیا ۔جن میں ایڈیٹر مجیداحمد جائی ،ڈپٹی ایڈیٹر عبدالرحمان رزاق،طاہر شہزاد،محمد بلال،محمدیونس اقبال،احتشام الحق،محمد جبران منہاس،راﺅ ندیم اسلم ،مراد علی،سرپرست اعلی ماجدحسین ملک ،ہارونہ آپی ،عمرفرید،ڈاکٹر عبید اللہ ،حافظ حمزہ شہزاد،محمد ارسلان فراز،نیئر رانی شفق،قاری محمد عبداللہ ،عثمان نیاز،رئیس محمود راج، شامل ہیں ۔
پاکستان رائٹرز ونگ کی طرف سے علمی ،ادبی ،خدمات پر چیف ایڈیٹر تعمیر ادب اور چیف ایڈیٹر علی عمران ممتاز کو فروغ ادب ایوارڈ،اختر عباس بھیا،نیئر رانی شفق،خواجہ مظہر نواز صدیقی،عبدالرحیم خان اور قاری محمد عبداللہ کے ہاتھوں نوازاگیا ۔
جن لوگوں کو ادب دوست ایوارڈ سے نوازا گیا ان کے نام یہ ہیں :
،خواجہ مظہر نواز صدیقی ،امان اللہ نئیر شوکت،عبداللہ نظامی ،جبارمفتی
کرن کرن روشنی ایوارڈ وصول کرنے والے خوش نصیبوں کے نام :
راشد لطیف ،آف صبرے والا جلال پور پیر والا،ادیب عبدالغنی شکیل ملتان ،زاہد محمود شمس ملتان،سیٹھ شہباز احمد گوجرانوالہ ،محمد جنید اکرم ملتان،صالحہ صدیقی کراچی
خصوصی گفٹ حاصل کرنے والے خوش نصیب
ایمان قیصرانی ،عمرانہ کومل ،سائرہ رجاس،رئیس راج محمود
بچوں کا پرستان ایوارڈوصول کرنے والے خوش نصیب
محمدنادر کھوکھر،مشتاق حسین قادری،فداشاہین بھٹی،امتیاز عارف،البصار عبدالعلی ،ظفر محمود انجم
تعمیر ادب ایوارڈ حاصل کرنے والے
محمد زبیر ارشد،عرفات ظہور،سعید سعیدی ،فرزانہ روحی اسلم،احمد عدنان طارق
یادگیری ایوارڈ
عرفان انجم ایس ایم فوڈ
اشتیاق ادب ایوارڈ خوش نصیب
محمد نواز (اول پوزیشن )،ملک شہباز(دوم پوزیشن)،فرزانہ ریاض (سوم پوزیشن )
القلم ایوارڈ وصول کرنے والے خوش بخت
ڈاکٹر عمران مشتاق،ببرک کارمل جمالی ،محمد طارق سمرا،دیا خان بلوچ،حفصہ محمد فیصل،محمد عامر ناصر،محمد زبیر ارشد
افتخار ادب ایوارڈ
اختر عباس بھیاجی
اُمید روشنی فسٹیول پروگرام میں شرکاءکے نام
مجیداحمد جائی ،ایڈیٹر کرن کرن روشنی ملتان،محمد جبران منہاس،ساجد نواز،محمد صاد ق حسین ،نوید شہباز،محمد طارق سمرا(خانیوال )آفاق احمد خان (خانیوال )دلدار حسین احسن ملتان،راﺅ ندیم اسلم ،فرحان اشرف(بہاول نگر)حسن احمد ،محمد یونس جاوید ،جبار مفتی ،اسد علی انصاری ،طاہر شہزاد ،زاہد محمود شمس،محمد عقیق الرحمان ،راشد لطیف ،طارق جاوید ہاشمی (جھنگ)فاروق ملک،ریئس راج،محمد عاکف نواز(کبیروالا)احمد کامران مگسی ،سعید احمد مگسی ،فرزانہ ریاض (میلسی )محمد اشرف قریشی،مفتی عزیز الرحمان ،محمد فیاض ،مسز فوزی سمیع،مظہر بھٹہ (موضع بلی والا)فرحت مرتضی خان ،محمد سعید سعیدی (کراچی )اظہر محمود شیخ ،کیئر اینڈ کیور ملتان ،محمد زبیر ناصر،دیاخان بلوچ(لاہور)عزیز خان (لاہور)عمران کومل(روزنامہ ایکپریس ملتان)مظفر اقبال،عبید اللہ انور (کبیروالا)جام اظہر علی لاڑ،غلام مجتبی ٰ قادری (سانگلہ ہل )سیٹھ محمد شہباز (گوجرانوالہ )محمد مشتاق حسین قادری (ضلع مظفر آباد)حافظ محمد معاویہ ظفر(لاہور)زیب رسول (آرٹس کونسل )ملک محمد شہباز(لاہور)علی عمران ممتاز،محمد ارسلان فراز،شہزاد اسلم راجہ (لاہور)حسنات احمد چوہان (رحیم یار خان )محمدافضل ،ڈاکٹر ادیب عبدالغنی شکیل ،عبداللہ نظامی (لیہ)امین بابر(رحیم یا ر خان )عبدالخالق سکھانی (کبیروالا)محمد اظہر سپل ،امتیاز بشیر،راﺅ مظہر الیاس(خانیوال)شمائلہ ،ارم ،عائشہ عمران ممتاز،محمد معاذ،محمد معوذ،ملک نیاز احمد گھلو،محمد سہیل احمد ،شاہد عباس،غلام عباس،(جلال پور پیروالا)منیر الانجم(خانیوال)عبدالباری خان (مظفر گڑھ)اقبال بلال ،خواجہ فرقان غنی (مظفر گڑھ)خوانہ رضوان غنی ،خواجہ عدنان غنی (مظفر گڑھ)محمد زبیرارشد،مدثر اقبال،مدنی اقبال،احمد سلیم ،فراست علی بھٹی ایڈوکیٹ،ماجد حسین ،محمد کامران واحید،محمد عرفات ظہور،شرجیل حسن ،نیئر رانی شفق(ڈیرہ غازی خان)ایمان قیصرانی (ڈیرہ غازی خان )سائرہ رجاس(ڈیرہ غازی خان)مختیار بلوچ،کنور محمد ارشدمظفر،فرح ،محمد عبداللہ ،عبدالرحیم ،محمد عاصم ناصر،سرفرازعلی ،عبدالرحمان رزاقی ،محمد نواز،محمد نواز(کمالیہ)محمد صابر عطارتھہیم (لیہ)ڈاکٹر محمد افضل ندیم ،ڈاکٹر محمد عبید اللہ (خانیوال )خواجہ مظہر نواز صدیقی،محمد کامران (میلسی)محمد شاہد حفیظ(میلسی)محمد علی (اسلام آباد)راﺅ عمیر (مائی ٹی وی)عتیق(مائی ٹی وی )محمدعتیق وڑائچ(مبارک پور) محمد جنید اکرم ،ملتان ،فیضان الرحمن ملتان،عمر فرید ملتان احتشام الحق،مراد علی ،محمد عثمان نیازشامل تھے۔


Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved