تازہ ترین  
Tuesday
12-12-17

اسلام میں اعتدال ومیانہ روی کی اہمیت وضرورت
    |     3 weeks ago     |    اسلامی مضامین
اللہ تبارک وتعالیٰ نے امت محمدیہ کو امت وسط بنایا ہے اور اس کے لئے اس کو تین امتیازی اوصاف عطا فرمائے ہیں۔ ایک عظمت ، دوسرا کمال، تیسرا اعتدال۔وسط کا لفظ اپنے اندر کمال ، بہتری اور اعتدال تینوں اوصاف کے معانی سموئے ہوئے ہے۔ وسط کا لفظ افراط وتفریط سے پاک بالکل درمیان کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ میانہ روی اور اعتدال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس کا پورا نظام معتدل ہے، اور اس کے تمام امور نقطہ واعتدال پر قائم ہیں۔ اس کے اعتقادات ، میں اعتدال ، اعمال وعبادات میں اعتدال ، معاشرت وتمدن میں اعتدال ، اقتصادیات وسیاسیات میں اعتدال ، معاملات وتعلیمات میں اعتدال۔ الغرض اس کے تمام امور نقطہ ،ا عتدال پر قائم ہیں۔ ذیل میں ہم اپنے دعویٰ پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔
اعتقادات میں اعتدال:
”اعتقادات میں اعتدال توحید ورسالت ہے یعنی اللہ کو ذات وصفات میں لاشریک اور یکتا سمجھنا،اور رسول کو بشر سمجھتے ہوئے عام انسانوں سے افضل وبرتر اور اعلیٰ معیار پر رکھنا ، لیکن اتنا بلند نہ کرنا کہ ان کا رشتہ اُلوہیت سے جا ملے۔“
عبادات واعمال میں اعتدال:
”عبادات واعمال میں بھی اعتدال کا وصف نمایاں ہے اور یہی وصف اس امت کا طرہ امتیاز ہے۔ یہاں نہ عیسائیوں کے مانند غلو ہے اور نہ ہی یہودیوں کی طرح تقصیر ،بلکہ یہاں تو نبی کریم ﷺ غلو یعنی جتنے کام کا شرعی حکم ہے اس سے زیادتی کو ” ایاکم والغلو“ فرما کر رد فرمایا ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ان صحابہ کرام پر بھی نکیر فرمائی جن میں سے ایک نے کہا تھا کہ میں رات بھر قیام کروںگا، دوسرے نے کہا تھا میںہمیشہ روزہ رکھو ںگا کبھی افطار نہیں کرونگا، اور تیسرے نے کہاتھا کہ میں شادی ہی نہیں کروںگا۔چونکہ یہ کام سنت وشریعت کے مطابق نہ تھے اور غلو فی الدین کے زمرے میں آتے تھے اس لئے اللہ کے رسولﷺ نے نکیر اور تردید فرمائی،علاوہ ازیں عبادات واعمال میں اعتدال اپنانے کے سلسلے میں ہمیں کتب احادیث میں ” باب القصد فی العمل“ کا مستقل باب اور عنوان ملتا ہے۔ جس سے یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ دینی امورکے ساتھ ساتھ دینوی امور میں بھی میانہ روی اور اعتدال مطلوب ہی نہیں بلکہ ازضروری ہے۔“
معاملات وتعلقات میں اعتدال:
”معاملات میں اعتدال پر یہ آیت واضح دلالت کرتی ہے” لایجرمنکم شنا¿ن قوم علی ا¿ن لا تعدلوا، اعدلو ھو ا¿قرب للتقوی“ یعنی کسی قوم کی عداوت ودشمنی تمہیں راہ اعتدال سے نہ ہٹادے، عدل وانصاف کا دامن تھامے رہو۔یہی تقویٰ سے قریب ہے۔ کیونکہ عموماً دشمنی میں انسان سے دامن اعتدال چھوٹ جاتا ہے۔ فرائض کے علاوہ دیگر اعمال صالحہ میں اعتدال اپنانے کا سبق ” احب الاعمال الی اللہ الخ“سے ملتا ہے۔“
اسی طرح تعلقات یعنی آپس میں میل جول ، دوستی و دشمنی ، بغض ومحبت اور تعلق میںا عتدال کی سب سے جامع ہدایت ہمیں ترمذی شریف کی اس حدیث مبارکہ میں ملتی ہے۔ ”احبب حبیبک ھونا ماعسی ان یکون بغیضک یوماً ما، وابغض بغیضک ھونا ماعیسی ان یکون حبیبک یوماً ماباب ترمذی باب ماجاءفی اقتصاد فی الحلب“۔
ترجمہ: اپنے دشمن سے بغض ودشمنی بھی دائرہ میں رہ کر کرو، ممکن ہے کسی دن وہ تمہارا دوست ہو جائے۔عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ آدمی دوستی ودشمنی میں اعتدال پر قائم نہیں رہ پاتا۔جب کسی سے دوستی کرنے پر آتا ہے تو ایسی ٹوٹ کرکرتا ہے کہ وہ ٹوٹنے کا نام نہیں لیتی،اور دوست کی تمام عیوب ونقائص ہیچ نظر آتے ہیں۔اور جب ٹوٹتی ہے تو تسبیح کے دانوں کی طرح دونوں بکھر جاتے ہیں، اور ایک دوسرے سے حد درجہ نفرت کرنے لگتے ہیں۔اسی طرح جب عداوت کرنے پر آتے ہیں تو حیوانیت کا لبادہ اڑ کر ایک دوسرے کے جان کے درپے ہو جاتے ہیں ۔ ایک دوسرے کی خون کی پیاسے بن جاتے ہیں،اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ دوسرے کی تمام تر خوبیاں آنکھوں میں تنکے کی ماند کھٹکنے لگتی ہیں۔ کسی نے خوب ہی کہا کہ:
کسی کو اتنا نہ چاہو کہ پھر بھلا نہ سکو یہاں مزاج بدلتے ہیں موسموں کی طرح
بول چال میں اعتدال:
بول چال میں اعتدال کی روشنی اس حدیث سے ملتی ہے” البلاءموکل بالمنطق“ ساری مصیبت بولنے میں ہے۔ آج کل لوگوں میں اپنی قابلیت وشیخیت بگھارنے،اوراپنی علمیت کا مرض عام ہوگیا ہے۔ نہ بڑوں کا پاس ولحاظ ، نہ آداب گفتگو کا پتہ،حالانکہ کے رسول ﷺ نے ضرورت کے مطابق اچھی بات کہنے اور بلا ضرورت گفتگو سے اجتناب کرنے اور خاموش رہنے والے کی حق میں دعا فرمائی ہے۔” رحم اللہ امرا¿ن قال خیراً فغنم، وان سکت فسلم“ (اللہ رحم کرے اس شخص پر جو اگربھلی بات کہے تو فائدہ میں رہے اور اگر خاموشی اختیار کرے تو سلامت رہے۔اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ سے بھی بول چال میں اعتدال اپنانے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ارشاد نبوی ہے” من صمت نجا“ (جو خاموش رہا اس نے نجات پائی) اس حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گفتگو کو اچھی اور ضروری باتوں تک محدود رکھا جائے اور بلا ضرورت گفتگو سے اجتناب کیا جائے۔
انفاق میں اعتدال:
انفاق میں اسراف اور بخل سے بچ کر اعتدال پر رہنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا” الاقتصا فی النفقہ نصف المعیشة“ یعنی خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرناآدھی معیشت ہے۔جبکہ قرآن مجیدمیں حکم ہواہے ”ولاتجعل یدک مغلولة الی عنقک ولا تبسطھا کل البسط فتقعد ملوما محسورا“ (نہ اپنا ہاتھ کنجوسی میں اپنی گردن سے باندھ کر رکھو اور نہ پورے کشادہ دست ہو جاو¿ کہ پہلی صور ت میں ملامت زدہ اور دوسری صورت میں حسرت زدہ ہو کر بیٹھ جاو¿۔
سورہ فرقان میں اللہ کے نیک بندوں کے منجملہ اوصاف میں ان کی صفت یہ بھی ذکر کی گئی ہے ” والذین اذا انفقوا الخ“ او ر وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل بلکہ دونوں کے بیچ کی راہ اپناتے ہیں۔
خلاصہ بحث:
الغرض آپ ﷺ کی پوری زندگی اعتدال کا محور و مرکز نظر آئیگی،ایک روایت میں آتا ہے ” ما خیرامرین الاختار ایسرھما“ (جب دو کاموں میں اختیار دیا گیا ہو تو آپ نے ان میں آسان کو اپنا یا) اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے۔” معتدل الامت غیر مختلف“( کام سے اعتدال تھا، اختلاف نہ تھا)۔مختصر یہ کہ اعتدال اور میانہ روی میں فائدہ ہی فائدہ ہے اور نقصان کا کوئی پہلو نہیں۔اگر آج ہم اعتدال کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے معاشرے کی بہت سی خرابیاں تھوڑی ہی مدت میں نیست ونابود نہ ہو جائیں۔
آئیے سچے دل سے عہد کریں کہ ہم کھانے ، پینے، خرچ کرنے، پڑھنے لکھنے،اوڑھنے ، دوڑنے ، بھاگنے، ہنسنے،بولنے، عرض ہر کام میں اعتدال اور میانہ روی سے کام لیں گے۔اللہ رب العزت ہم سب کو راہ اعتدال پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved