تازہ ترین  
Tuesday
12-12-17

گلگت بلتستان اور امریکہ میں مماثلت
    |     3 weeks ago     |    کالم / بلاگ
امریکہ کی باون ریاستیں ہیں۔برطانیہ ان ریاستوں پر قابض ہوگیا،اور ایک عرصہ دراز تک یہ لندن سے بیٹھ کر اُن پر حکومت کرتارہا۔چونکہ برطانیہ امریکہ میں تجارت بھی کرنا چاہتاتھا ۔اور وہاں کے لوگوں سے ٹیکس بھی وصول کرنا چاہتا تھا،اور دوسری طرف جمہوریت کے افکار بھی وہاں پہنچنے شروع ہوگئے تھے۔اس لیےایک مرحلہ ایسا آیا کہ برطانیہ نے ان کے اوپر ٹیکس میں اضافہ کرنا چاہا۔تو امریکہ کے لوگ اس کے آگے کھڑے ہوگئے، اور کہنے لگے کہ ہم ٹیکس نہیں دیں گے،اور اس کے نتجیے میں انہوں نے بالاخاخر یہ فیصلہ کر لیا ہم برطانیہ سے الگ خودمختار اپنی ریاستیں یہاں پر قائم کریں گے اور اب برطانیہ کے زیرنگیں ہوکر نہیں رہیں گے۔اس غرض کےلیے انہوں نے برطانیہ سے لڑائی لڑی،اور اس لڑائی کے نتجیے میں جارج وشنگٹن کامیاب ہوا اور اس نے امریکہ کی الگ حثیت کا اعلان کردیا۔جب جارج واشنگٹن نے یہ اعلان کیا تو اس وقت یہ کہا کہ امریکہ کی جو مختلف ریاستیں ہیں،ان کو ملاکر ایک جمہوری نظام قائم کیاجائے گا۔یہ اعلان ”اعلان آزادی

(Declaration of independence )
کہلاتاہے
۔اس اعلان کا آغاز ان ان جملوں سے ہوتا ہےکہ انسان ماں کی پیٹ سے آزاد پیدا ہوا ہے، لہذا کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ انسان کو اپنا غلام بنائے۔(اور در حقیقت یہ قریب قریب وہی جملہ ہے جو حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت عمرو بن عاصؓ سے فرمایاتھا کہ:
ترجمہ::
یعنی تم کب سے لوگوں کو غلام بنالیا جبکہ ان کی ماٶں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟(کنزالعمال ١٢:٤٤حدیث نمبر٣٦٠١)
جس وقت امریکہ نے آزادی کا اعلان کیا اس کے 12 سال بعد فرانس میں انقلاب رونما ہوا۔۔
بعینہ یہی مثال گلگت بلتستان کا پاکستان کے حوالے سے ہے،
یکم نومبر 1949ء سے لے کر ابھی تک گلگت بلتستان کے قسمت کے فیصلے پنجاب سے ہوتےرہیےہیں۔
بالکل برطانیہ کے طرح پنجاب بھی گگت بلتستان میں تجارت بھی کرناچاہیتےہیں۔اور یہاں کے لوگوں سےٹیکس وصول کرنا بھی چاہیتےہیں۔اور دوسری طرف یہاں بھی جمہوریت کے افکار بھی پہنچنے شروع ہوگئےہیں۔اب تو یہاں پر ایسا مرحلہ آیاہے باقاعدہ ٹیکس نافذ بھی کردیا گیا ہے۔اس وقت گلگت بلتستان کے عوام اس غیر آئینی ٹیکسز کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔اور یہی کہتےہیں کہ پہلے ہمارے حقوق دو، پھر ٹیکس لو وارنہ ہم ٹیکس نہیں دیں گے،اور جی بی کے باسیوں نے بالاخر یہ فیصلہ کرلیا ہے، کہ جب تک ہمارا آئینی اور قانونی سٹیٹس نہیں ملتا تب تک آئین کے اندر رہتے ہوے اپنے آواز کو انٹرنشنل لیول تک اٹھائیں گے۔اور اب 2009 کی صدارتی حکم نامےکی بیساکھی کے زیرنگیں ہوکر نہیں رہیں گے۔ اس غرض کےلیے یہاں کے عوام نے سپریم کورٹ آف پاکستان اور وزیر آعظم پاکستان کو بھی خط لکھا ہے۔
ہم شروع سے لیکر اب تک پاکستان سے بلا مشروط محبت کرتے آئے ہیں۔ہم نے یہاں سے اٹھنے والی چھوٹی موٹی تحریکوں مقابلے میں ہمشہ پاکستان کی صرف حمایت نہیں بلکہ قربانیاں بھی دیا ہیں۔۔۔۔۔خدا را اب ہمیں مزید امتحان میں نہ ڈالیں۔۔۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹیکس کے ہاتھوں مجبور ہو کر گلگت بلتستان کے عوام میں سے بھی کوئی جارج وشنگٹن نہ نکلیے۔۔۔۔
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved