تازہ ترین  

ٹی 10 لیگ کرکٹ کا پہلا ایڈیشن کیرالا کنگز کے نام
    |     6 months ago     |    سپورٹس
فائنل میں پنجابی لیجنڈز کی ٹیم نے پہلے کھیلتے ہو
3 وکٹوں کے نقصان پر 120 رنز بنائے جن میں لیوک رونچی کے 34 گیندوں پر 69 اور شعیب ملک کے 14 گیندوں پر 26 رنز کی اننگز نمایاں رہیں. 121 رنز کے ہدف کے تعاقب میں کیرالا کنگز کی پہلی وکٹ تو صفر کے اسکور پر گر گئی لیکن بعد ازاں مورگن اور پاؤل سٹرلنگ نے پنجابی لیجنڈز کے باؤلروں کی ایسی درگت بنائی کہ 121 رنز کا ہدف معمولی دکھائی دینے لگا. مورگن کے 21 گیندوں پر 63 جبکہ پاؤل سٹرلنگ کے 23 گیندوں پر 52 رنز کی طوفانی اور زمہ دارانہ اننگز کی بدولت کیرالا کنگز نے 121 رنز کا ہدف صرف 8 اوورز میں پورا کر لیا

21 گیندوں پر 63 رنز کی طوفانی اننگز کھیلنے والے مورگن مین آف دی میچ جبکہ سیمی فائنل اور فائنل میں بلترتیب 60 اور 69 رنز اسکور کرنے والے پنجابی لیجنڈز کےلیوک رونچی مین آف دی ٹورنامنٹ قرار دئیے گئے. ٹورنامنٹ کی تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ مورگن کے نام رہا جنہوں نے فائنل میچ میں 14 گیندوں پر نصف سنچری اسکور کی جبکہ ٹورنامنٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز (69 رنز ) لیوک رونچی نے کھیلی. شاہد آفریدی کو ٹورنامنٹ کی پہلی ہیٹ ٹرک کرنے پر خصوصی ایوارڈ دیا گیا. شاہد آفریدی کی ٹیم مجموعی طور پر بہت اچھا ٹورنامنٹ کھیلی لیکن سیمی فائنل میں یہ غیر متوقع طور پر پنجابی لیجنڈز سے ہار گئی. احمد شہزاد کے 29 گیندوں پر 58 جبکہ آفریدی کے 17 گیندوں پر 41 رنز کی اننگز کی بدولت پختونز نے پنجابی لیجنڈز کو جیت کیلئے 130 رنز کا معقول ہدف دیا لیکن لیوک رونچی اور شعیب ملک کی ناقابل شکست جارحانہ اننگز کی بدولت پنجابی لیجنڈز نے 130 رنز کا ہدف پانچ گیندیں قبل ہی حاصل کر کے میچ 9 وکٹوں سے جیت لیا. لیوک رونچی نے 34 بالوں پر 60 جبکہ شعیب ملک نے صرف 17 بالوں پر 48 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی.

اگرچہ ٹی 10 لیگ میں باؤلرز اور بیٹسمینوں کے لیے انفرادی کارکردگی دکھانے کا کوئی زیادہ مارجن نہیں ہے لیکن پھر بھی ٹی ٹین لیگ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی نسبت زیادہ تیز اور دلچسپ ثابت ہوئی ہے. ایونٹ میں کھیلے جانے والے کل 13 میں سے 11 میچز میں پہلے کھیلنے والی ٹیم نے 100 سے زائد رنز اسکور کئے. جہاں ٹی ٹوئنٹی میں دوسری اننگز کے شروع میں ٹارگٹ کا تعاقب کرنے والی ٹیم کو 8 سے 9 رنز فی اوور بنانے ہوتے تھے، وہیں ٹی 10 لیگ میں یہ اوریج 12 سے 13 رنز فی اوور ہوتی ہے. اگرچہ ٹورنامنٹ میں پاکستانیوں کی دلچسپی قدرے کم رہی اور اس کی بڑی وجہ جنگ گروپ کا ٹورنامنٹ بارے منفی پروپیگنڈہ تھا تاہم مجموعی طور ٹی 10 لیگ کا پہلا ایڈیشن دنیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا. ٹی 10 لیگ کے چاروں دن شارجہ سٹڈیم ہاوس فل رہا. مستقبل قریب میں انڈیا، آسٹریلیا یا انگلینڈ میں کرکٹ کی یہ مختصر ترین لیگ کھیلی جانے لگی تو پھر ہر طرف " بس اب دس" کا ہی راج ہو گا

مظہر چودھری
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved