تازہ ترین  

اک روشن ستارہ معدوم ہوا
    |     12 months ago     |    گوشہ ادب
بیتے لمحات بہت یاد آتے ہیں کبھی کبھی بیتے لمحے تاریخ کا حصہ بن کر عظیم داستانیں بھی چھوڑجاتے ہیں یہ دینا عظیم داستانوں سے بھری پڑی ہےجنکی مثالیں آج تک دی جاتی ہیں.
اس معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی پیدا ہوتے ہیں جو عظیم داستانوں کے عیوض رہتی دنیا تک ان کا نام زندہ رہتا ہےاور انکی داستانیں بھی سنہرے حروف سے لکھے جاتے ہیں ان عظیم داستانوں میں ایک عظیم داستان بابائے براہوئی نور محمدپروانہ کا بھی ہے.
نور محمد پروانہ براہوئی 15فبروری 1918 کو اوستہ محمد کے قریبی گاؤں صوبھاواہ میں پیدا ہوئے ان کے والدگرامی عالم دین ہونے کی وجہ سے اسے سب سے پہلے دینی تعلیم اور قرآن پاک حفظ کروایا. مزید تعلیم کے لیئےاوستہ محمد کے آچرپرائمری سکول میں داخلہ لیا وہاں سے چہارم جماعت پاس کرکے بارنس ہائی سکول سبی میں داخل ہوگئے جہاں پرائمری کے امتحان میں پورے سبی میں دوسری اور نصیرآباد ڈویزن میں پہلی پوزیشن حاصل کی.غربت آڑے آنے کی وجہ سے مزید تعلیم حاصل نہیں کر پائے.
انہی دوران برٹش بلوچستان میں میر عبدالعزیزکرد,عبدالصمد خان اچکزئی اور میر یوسف علی مگسی نے انجمن وطن کی بنیادرکھی تو نور محمد پروانہ اوستہ محمد برانچ کے صدر منتخب ہوئے اور 1940 میں قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی اور انجمن وطن کی توسط سے آپ کو سری نگر کے نزدیک ایک علاقے پام پور میں ٹیکنیکل ٹریننگ کے لیئے بھیج دیا گیااس ٹریننگ نے نورمحمد پروانہ کے صلاحیتوں کو ایک انقلابی رنگ میں تبدیل کردیا.
1941-42میں انکے رفقاء نے ایک سیاسی پارٹی بلوچستان نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھی جس میں آپ سیکٹری نشرواشاعت منتخب ہوئےاور تنظیمی امور کو مستقل مزاجی کے ساتھ نبھانے کے ساتھ جیکب آباد سے شائع ہونے والے اخبار کمال ہند میں کام کرنے کی وجہ سے آپ کے صحافتی تجربے میں بے پناہ اضافہ ہوا.1951 میں آل پاکستان براہوئی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکٹری منتخب ہوئے. مختلف تنظیموں اور اخبارات سے منسلک رہنے کی وجہ سے سیاسی وصحافتی تجربے نے آپ کے دل میں براہوئی قوم و زبان کی خدمت کا جزبہ جگایا.
کہتے ہیں کہ ستارے خود تو ڈوب جاتے ہیں مگر دوسروں کو روشن دن کا عظیم تحفہ دے جاتے ہیں.
1958میں نواب غوث بخش خان رئیسانی سے ملاقات کرکے براہوئی زبان کی ترقی وترویج کے لیئے ایک اخبار نکالنے کی خواہش ظاہر کی جس پر نواب غوث بخش خان رئیسانی نے انہیں ہر قسم کی تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی.
اسی طرح 4نومبر 1951اپنے ہم خیال رفقاء کے ساتھ ملکر ایک ادبی ادارے کی بنیاد رکھی مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے گزرکر آج براہوئی اکیڈمی کے نام سے جانا جاتاہے براہوئی اکیڈمی آج ایک سایہ دار درخت بن چکا ہے براہوئی زبان کے عالم ادیب اس ادارے اپنی علمی وادبی تسکین کر رہے ہیں بلوچستان کے بڑے شہروں میں اسکے برانچ قائم ہیں. نور محمد پروانہ براہوئی 1960 میں پندرہ روزہ ایلم کا اجراء کیا ابتداء میں ایلم کی اشاعت سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑامگر انہوں نے ان مشکلات کا دلیری سے مقابلہ کر کے براہوئی زبان سے محبت کا ثبوت دیا. بلاشبہ یہ ایک بہت بڑاادبی کارنامہ تھا جس کی وجہ سے براہوئی قوم,زبان و ادب کو تہلکہ خیز شہرت حاصل ہوئی اس پزیرائی نے نور محمد پروانہ براہوئی کی فکری عمل اور سچی لگن کو مزید جلا بخشی.
نور محمد پروانہ براہوئی برہوئی ادب کے عظیم مفکر نقاد اوراعلی پایہ کے تخلیق کار بھی تھے انکے تحریروں میں شعور و احساس کی گہرائی ظرافت کے رنگ اور غوروفکر کا مادہ صاف نظر آتا ہے ان کی شخصیت میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو ایک ادیب کا طرہ امتیاز ہیں انکی پوری زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند تھی شاعری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور لوہا منوایا انکی شاعری میں براہوئی قوم زبان وادب سے کا والہانہ اظہار موجود ہے. شاندار کارکردگی,براہوئی زبان سے محبت اور مسلسل ادبی خدمات پر انہیں براہوئی زبان کے تمام عالم وادیبوں نے انہیں بابائے براہوئی کا خطاب دیا.
بابائے براہوئی نورمحمد پروانہ جیسے ادیب صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں.وہ نہایت شفیق دردمند اور مہربان انسان تھے ہفت روزہ ایلم کا اجراء انہیں آج تک زندہ و جاوید رکھا ہوا ہے.عصر حاضر مں ہفت روزہ ایلم بابائے براہوئی کے نواسے محمد عظیم ذاکربراہوئی کے زیرصدارت میں شائع ہو رہا ہے.
آخر وہ دن آ پہنچا جو ہر جن و بشر کے لیئے مقرر ہے. 12دسمبر 1995 کے دن بابائے براہوئی نور محمد پروانہ ہمیں داغ مفارقت دے گئے اور ہمشہ کے لیئے ایک روشن ستارہ معدوم ہوا مگر آج تک انکا نام زندہ ہے اور زندہ رہے گا..

جار کردہ.. شاد پندرنی 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved