تازہ ترین  

اردو کو دنیا کی لغتِ اول بنا دیں۔ چوہدری محمد بشیر شاد یونان ۔۔۔۔ تعارف۔۔۔۔
    |     12 months ago     |    تعارف / انٹرویو
رپورٹ :اطہر اقبال مغل 

تعارف۔۔۔۔ اپنے چاہنے والوں کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان کے ہر سوال کی تشخیصی رنگت کو نمایاں کرنے کے لئے معدودے چند حروف آپ سب کی نذر گر قبول (چوہدری محمد بشیر شاد یونان)

نام تو میرا والدین نے دس اکتوبر انیس سو سینتالیس کو پیدا ہوتے ہی محمد بشیر رکھ دیا تھا اور ماں کی گود میں ایک صحت مند بچہ سب کو مسکراہٹیں دیتا ہوا ماں کی آنکھ کا تارا اس کے پیار بھرے دیے نام شاد سے بھی پکارا جانے لگا۔ والد محترم چوہدری برکت علی کی شفقت سے نسل نو کی آبیاری چوہدری محمد بشیر شاد سے موسوم ہوئی۔ زمیندار خاندان میں پرورش کے ایام گذرتے سن بلوغت تک رسائی کر گئے۔ میٹرک کا نتیجہ مجھے ضلع بھر میں اولیت پر لے گیا اور یوں کالج کی رعنائیوں میں قد طویل ہونے لگا۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے معاشیات انگلش نصاب میں کیا۔ آٹھ سال وزارت خارجہ میں سروس کی۔ دس سال بینک الجزیرہ اور بینک سعودی الفرانسی میں بالترتیب پی آر او اور کنٹرولر رہا۔ بینک سعودی الفرانسی میں ہی مجھے بینکنگ میں سلور میڈل ملا۔یہاں یہ بھی ذکر کرتا چلوں کہ بائیو کیمک ڈاکٹر گولڈ میڈلسٹ بھی ہوں!!۔۔۔ کوئی ناقابلِ فراموش واقعہ؟: فرسٹ اپریل فول منانے کے لئے کالج کے چند لڑکوں نے اسٹینڈ پر لگی ایک نہایت ذہین، ماں باپ کے اکلوتے چشم و چراغ کی سائیکل بریکس ختم کر دیں۔ جونہی وہ اسٹینڈ سے نکلتے ہی ڈھلوانی سڑک پر گامزن تھا تو رفتار تجاوز کر گئی جسے بوکھلاہٹ میں وہ قابو میں نہ رکھ سکا اور آگے ٹرالی پہ لدھا سریا جو ٹرالی سے باہر تھا اس کے سینے سے آر پار ہو گیااور اس نے وہیں جان دے دی۔ اس ناقابل فراموش واقعہ کو میں آج تک نہیں بھولا۔ اس شرارت میں اگرچہ میں شامل نہیں تھا لیکن ان لڑکوں کے اس عمل پہ میری سنجیدگی کا دور شروع ہوچکا تھا۔
یونان کس طرح پہنچے؟
یہ بھی میرے سفر نامے،، غم نداری شف بشر،، کی ایک کڑی تھی جس میں عراق، اردن، شام، ترکی، یونان، سوٹزرلینڈ، اسپین اور اٹلی شامل تھے، لیکن سوٹزرلینڈ جانے سے پہلے سب کچھ یونان میں چوری ہو گیا اور یوں ہم یونان کے ہو کے رہ گئے۔
آپ نے پہلا شعر کب کہا؟ کی روداد سن بلوغت کی مستی ہے، جوانی کا تیرھواں سال اور موسم بہار۔ انیس سو ساٹھ کے جشن بہاراں میں رنگ برنگی تتلیوں کا ہر نرم پتی پہ اپنے ہونٹ ثبت کرکے رعنائیاں بکھیرنا ہماری شاعری کا موجب بنا۔ اردو کے استاد محترم آزاد صاحب نے اسے کیا سراہا کہ ہمارے پر نکل آئے۔ قدرت کی رنگینیوں کے حسن سے قوس قزح جیسی شعاوں میں ہمارے اوپر بھی موسموں کے عکس نمایاں ہو گئے۔ آمد ہوتی گئی اور ہم اسے صفحہ قرطاس پہ نوک قلم سے تراشیدہ کرتے رہے اور آج تک شاعری کے جرم کی سزا بھگت رہے ہیں۔
شاعری کی جانب میلان کی وجہ؟،، حسن،، ہے۔ اب حسن کی تعریف بڑی طویل ہو جائے گی، بس اسی پہ اکتفا کروں گا کہ اس کائنات میں ہرذی روح میں لامتناہی حسن ہے جسے دیکھ کر قادر مطلق کی مصوری اور حکمت کی تعریف مختلف الفاظ میں شاعری مجموعے کا حصہ بن جاتی ہے۔
استادی و مرشدی کے ضمن میں اتنا ضرورعرض کروں گا کہ ایک اچھے استاد کا حصول ہی شاگرد کی منازل میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ بنا مرشد کوئی بھی اپنی راہیں استوارنہیں کر سکتا۔ اس سلسلے میں حضرت علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ میرے رہبر ہیں۔ انہیں کو پڑھتے پڑھتے سمجھنے میں کوشاں رہتا ہوں۔ رات کے آخری پہر کبھی کبھار قرآن پاک کو ترجمہ سے پڑھنے پرجو لذت و تقویت میسر آتی ہے وہ مذہبی اشعار کی رو پر چل نکلتی ہے۔ یہی تخلیق قادر کل کی عظمت کے گن گاتی ہوئی عوام الناس میں اپنا ایک مقام بنا لیتی ہے۔ یہی میری روح کی غذا کا موجب بن جاتی ہے۔
شعری سفر کی تفصیلات، مجموعہ کلام، شناخت و اعزازات نیز شعر کہتے وقت کا ذاتی تجربہ اور تخلیقی عمل جیسے حساسی شعبے میں جانے سے قبل اتنا ضرور کہوں گا کہ آپ نے ماضی اور حال کے سروں کو چھیڑ کر ہمیں اس مقام پہ لا کھڑا کیا ہے جہاں زندگی کے تمام لمحات پردہ اسکرین پر لانے کے لئے بہت سے ادوار کی ڈائری کے اتار چڑھاو کی ورق گردانی کرنی پڑے گی۔ شاعر کے تخیل کا تعلق ماحول سے منسلک ہے۔ دل و دماغ کے معاملات جب یکجا ہوتے ہیں تو تخلیق میں کج نہیں رہتی۔ یہ ہے رمزیہ کلام کی شناخت لیکن اگر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر شاعری کے شہپر اپنی اڑان پہ لگ جائیں تو تخلیق الگ رخ اختیار کر لیتی ہے۔ جوانی کی شاعری میں سن بلوغت کی رتیں عود کی ہوتی ہیں اور وہ جمالیاتی لمحات کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔ اسی سلسلے میں میری شاعری کی شروعات بھی کائناتی مونث و مذکر کے گرد گھومتی رہی۔ دھیرے دھیرے رموز شاعری کے ابواب پر بھی دسترس ہونے لگی۔ یہی دور شاعری کرنے اور اسے سمجھنے کا تھا۔ اگر غزل کی تعریف اس طرح کی جائے کہ ہرن کے دل میں تیر بھی پیوست ہو اور شکاری کتے بھی اس کے تعاقب میں ہوں تو اس وقت غزال کے حلق سے نکلنے والی آواز کو غزل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سو غزل، نظم، رباعی، قطعہ اور بہت سی اصناف کا وزن بہت ضروری ہے، بحر، ردیف، قافیہ، لاحقے، سابقے اور موضوع سخن پر کاربند رہنا شاعری کی معراج ہے۔ شعر کہتے وقت میرا یہ ذاتی تجربہ ہے، ان لمحات میں تمام معاشی محرکات جامد ہو جاتے ہیں اور شاعر کی تمام تر توجہ اپنی تخلیق پر مرکوز ہو جاتی ہے جس سے بعض اوقات نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے لیکن شاعر کی تسکین اس کی نئی تخلیق سے مربوط ہوتے ہوئے اس کی داد رسی کرتی ہے۔ یوں شاعر اپنی زندگی کی ڈگر پر رواں دواں رہتا ہے۔ اب آیئے اس سفر کا ایک اور شگوفہ کالج کی بزم ادبیات سے آپ کے روبرو رکھتے ہیں جہاں کچھ کرنے کا عزم جواں بھی ہوتا ہے اور ترقی کی منازل طے کرنے کا جذبہ شاعر کی بنیادوں کو مضبوط بھی کرتا ہے۔ بحیثیت شاعر پہلی شناخت وہیں سے شروع ہوئی جس کی آبیاری کرتے کرتے مختلف مراحل طے کئے۔ ہر مقام پر تعریفی اسناد ہمارے حصے آئیں لیکن سب سے پہلا اعزاز بارہ جون انیس سو ننانوے بہترین شاعر کا بولان انٹرنیشنل ایوارڈ کا حصول تھا جس نے میری محنت کو بام عروج تک پہنچا دیا۔ یونان میں عظیم شاعر محترم انور مسعود تشریف لائے اور ان کے ساتھ مجھے بھی شاعری پڑھنے کا موقع میسر آیا جسے بہت سراہا گیا۔ پروگرام کے آخر میں انہوں نے میری حوصلہ افزائی فرمائی اور مجموعہ،، جانو،، پہ نیک خواہشات کہہ کے اپنے دستخط فرمائے۔ بہترین شاعر کی شیلڈ بھی بہت بار میرے حصے میں آئیں۔ پہلا اردو شاعری کا مجموعہ،، قوس قزح،، کی تقریب رونمائی نو ا پریل دوہزار پاکستان رائٹرز گلڈ لاھور کے زیر اہتمام ہوئی یوں اس کی ممبر شپ کے ساتھ ساتھ،، پاک ٹی ہاوس،، کی ممبر شپ بھی ملی۔ وہیں پر پنجابی سنگت کی ممبرشپ حاصل کرکے پنجابی شاعری کا مجموعہ،، روگ اکھیاں دا،، کی رونمائی چودہ اگست سن دوہزارچھ کو ہوئی اور اس میں بھی کافی پذیرائی ملی۔ یکم مئی سن دو ہزار دس اردو شاعری کا مجموعہ،، شفق،، پڑھنے والوں نے سراہا جس کی اشاعتِ ثانی چودہ اگست سن دو ہزار تیرہ کی تقریب رونمائی قائم مقام سفیر پاکستان عزت مآب شفقت اللہ خان کے ہاتھوں سر انجام پائی۔ اس کی پھر سے تقریب رونمائی اب پیرس فرانس میں ہونے جا رہی ہے اور اگلا اردو شاعری کا مجموعہ،، پونم،، اپنی ابتدائی راہیں استوار کر چکا ہے اور انشا اللہ اس تعارف کے ساتھ بہت جلد منظرِ عام پہ آ جائے گا۔ اب تک میری اردو شاعری کے دس مجموعے اور پنجابی کے دو مجموعے مکمل ہیں۔

اردو افسانہ، اس کی روایت اور موجودہ جہت بہت عمدہ سوال ہے۔ جس کے لئے میرے نزدیک،، ہر وہ نثری تخلیق جس میں خاکہ ہو، کردار ہوں اور کہانی کا اتار چڑھاو،، افسانہ،، کا موجب بنتا ہے۔ افسانہ فارسی کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی جھوٹی کہانی،قصہ اور داستان ہیں لیکن اصطلاحی معنوں میں حقیقی کہانی کو افسانہ کہا جاتا ہے۔ انیسویں صدی کے آواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جن ادیبوں نے اپنی تخلیقات نثرمیں پیش کیں انہیں،، داستان گوئی،، یا،،قصہ گوئی،، کا درجہ دیا جاتا تھا جن میں مرزا ہادی رسوا بھی تھے جنہوں نے،، امراو جان ادا،، جیسا ناول تخلیق کیا گو کہ ڈپٹی نذیر احمد نے ناول نما قصے تحریر کئے لیکن ان کو ناول کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ خیر اس کا ذکر ناول کے موضوع پر مزید روشنی ڈالے گا اور اس پیراگراف میں افسانہ کی جانب واپس آتے ہیں۔ روایتی افسانوں میں اب بہت سی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں کیونکہ معاشرہ میں دن بہ دن نئی جہتیں اور پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں اور مزید متوقع ہیں جن کی بنا پر نقاد افسانہ کو اپنی کسوٹی پہ پرکھتے ہوئے جو تجزیہ کرتا ہے وہ افسانے کی اقسام میں منقسم ہو کر،، تجریدی افسانہ،، علامتی افسانہ اور مختصر افسانہ یعنی افسانچہ کی اشکال اختیار کر چکا ہے۔ ایک افسانہ نگار اپنی تخلیق اپنی سوچ کے مطابق کرتا ہے جسے نقاد اقسام میں تقسیم کر دیتے ہیں لیکن اردو ادب میں افسانہ وہ کہانی ہے جس کا مرکزی خیال ایک واقعے سے منسلک ہو یا کسی کہانی کے پس منظر میں بیان کیا ہو جو کہ بغیر دباو کے ایک ہی نشست میں ختم ہو جائے۔ افسانہ ایک ایسی فکری داستان کو کہتے ہیں جس میں ایک خاص کردار خاص واقع میں تحلیل ہو کر ایک تجربے یا ایک تاثر کی وضاحت کرئے جس سے اس کے مرکزی خیال کی تفصیل اس قدر منظم و مربوط ہو کہ اس سے تاثر کی وحدت نمایاں ہو جائے۔ اردو افسانے کی عمر ایک صدی سے تجاوز کر چکی ہے اور اس میں امتیازی خصوصیات محدودیت میں ڈھل کر ایک جمالیاتی توازن برقرار رکھتے ہوئے اختصار میں جامعیت پیدا کرکے زمان و مکاں پر قائم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تا کہ افسانے کے واقعات اور وقت پر مطابقت ہو۔ کسی کردار کے برعکس افعال بھی افسانے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور موضوع سے مطابقت نہیں رہتی۔ افسانے میں ایسی خامیاں دلچسپی کے عنصر کو زائل کر دیتی ہیں اوریوں افسانہ مربوط نہیں رہتا۔ مشاہدے کی گہرائی افسانہ نگار کو نظم و ضبط جیسی نعمت سے مالا مال کرتی ہے۔ وہ مرکب پلاٹ کو کردار نگاری کے ذریعے قاری تک پہنچاتا ہے۔ جس جانفشانی سے منظر کشی وہاں کے ماحول کے مطابق ہو گی وہ وہاں کی تہذیب و معاشرت، جغرافیائی ماحول اور عادات و اطوار کی منہ بولتی تصویر ہو گی۔ موضوع کا انتخاب، عنوان، تمہید، مرکزی خیال، مکالمے، افسانے کی پیچیدگیاں اور اس کے نقطہ عروج پر خاص دھیان دیتے ہوئے اسے اختتامیہ تک لے جانے میں ایک ایسی اضطرابی کیفیت برقرار رکھنی ہو گی کہ قاری آخر وقت تک افسانے سے اپنی دلچسپی برقرار رکھے۔ انیس سو ساٹھ کے بعد افسانے میں ایک نیا رنگ ابھرا جس میں افسانہ کو،، جدید افسانہ،، میں تقسیم کر دیا گیا۔جس میں اختصار در اختصار اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اب جدیدیت میں مماثلت اور علامت کا دخول عام قاری کی دسترس سے باہر ہو جاتا ہے اور کچھ رائے استوار کرنے والے اشاروں کنایوں کو نہ سمجھتے ہوئے ایک کردار کے ماضی میں ہی رہتے ہیں جب کہ اس کا حال اور مستقبل ایک اعلی سوسائٹی میں اپنی حالت بدل چکا ہوتا ہے۔ یہ سب اختصار کی مہربانیاں ہیں۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت اس مقام پر پہنچ جائے گی کہ کھانسنا، ہنسنا وغیرہ کو افسانہ سمجھتے ہوئے اس کی بھی اقسام تلاش کی جائیں گی اور ادبی تحاریر سکڑ کے رہ جائیں گی جس کی تلافی کسی صورت نہیں ہو پائے گی۔ میرے پچپن افسانے اس وقت تک مکمل ہیں جو ایک دوسرے کے موضوع سے مختلف ہیں ان میں ایک افسانہ،، دوریاں،، جو کہ اسی نام سے ناول میں ڈھل چکا ہے کی مثال دیتے ہوئے افسانہ اور ناول کا فرق ظاہر کرتا ہوں کہ ناول زندگی کا کل ہے اور افسانہ زندگی کا ایک جز۔ ا فسانہ میں اختصار اور ناول میں طوالت، داستان، افسانہ، افسانچہ، ناول، ناولچہ، قصے اور ڈرامہ سب بنیادی طور کہانی ہونے کے باوجود اپنے فنی قوائد و ضوابط کی بنا پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ میں اس وقت تک چھ ناول مکمل کر چکا ہوں اور ساتویں پر طبع آزمائی کر رہا ہوں۔ ایک سفر نامہ،، غم نداری شف بشر،، کے بعد قائد اعظم اور رفقا کی کاوشیں ناولچہ،، آزادی کی خاطر،، میں سمو کر کئی اور موضوعات کی تلاش میں ہوں۔
قدیم دیوی دیوتاوں کی کہانیوں کا مسکن، سمندری ساحلوں کی دلکشی، چہار موسموں کے تغیرات، یورپ کا دروازہ، مفکر اور فلاسفروں کی آماجگاہ اور جمہوریت کے پرستاروں کی سر زمین یونان میں سفر نامہ کی روداد قلمبند کرنے کے لئے چند دنوں کے لئے آیا مگر سب کچھ چوری ہونے کی بنا پر یہیں کا ہو گیا۔ اپنا بینک بیلنس یہاں لگا کر کاروبار شروع کر دیا اور اردو ادب کی ترویج و ترقی کے لئے ماہنامہ،، حقائق انٹرنیشنل،، حج نمبر کا اجرا اپریل انیس سو ستانوے کر دیا۔ یونان میں پہلا اسٹیج ڈرامہ،، ہیرو،، کی ہدایت کاری کرتے ہوئے مرکزی کردار بھی ادا کیا۔ پھر قندیل آرٹ سو سائٹی کی بنیاد رکھی اور فن اور فنکار کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔ ستائس فروری انیس سو اٹھانوےء ہفت روزہ اردو اخبار،، ندائے وقت،، کا اجرا کر دیا،دوسرا اسٹیج ڈرامہ،، بابا پسوڑی،، تحریر و ہدایت کاری کے ساتھ مرکزی کردار بھی کیا۔ اس ڈرامے میں دو بولان انٹرنیشنل ایوارڈ ز بھی ملے۔ پاکستان کمیونٹی اسکول کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے بحیثیت پرنسپل خدمات سر انجام دیں۔ کمیونٹی کی ڈرائیونگ مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے یونانی زبان سے اردو میں ترجمہ کرکے،، ڈرائیونگ سیکھیئے،، کتاب کمیونٹی کو دی جس پر سفارتخانہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے مورخہ تین مئی دو ہزار پانچئمجھے تعریفی اسناد سے نوازا۔ یونانی حکومتی ریڈیو ایف ایم ایک سو چھ اعشاریہ سات پر متواتر چھ سال بحیثیت نائب پروگرام پروڈیوسر اردو پروگرام کیا۔ اسی طرح بلدیاتی ریڈیو ایف ایم ایک سو چار اعشاریہ چار پر پروگرام پروڈیوسر اور براڈ کاسٹر کی زمہ داریاں پوری کرتے ہوئے فن اور فنکاروں کی نہ صرف پذیرائی کی بلکہ مشاعروں کے ذریعے شاعروں کی بھی محفل جمتی رہیں۔ اسٹیج ڈرامہ، قندیل آرٹ سوسائٹی،کے تحت،، پاگل کون،، میں بہت سے نئے چہروں کو متعارف کروایا۔ رائٹرز فور م یونان کا چیئرمین منتخب ہونے۔رائٹرز فور م یونان کا چیئرمین منتخب ہونے پر نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پروگراموں کو فروغ دیا۔ ہفت روزہ اخبار،، ندائے وقت،، ماہنامہ حقائق انٹرنیشنل،، کا مینجنگ اور چیف ایڈ یٹر ہفت روزہ اخبار،، ڈان،، اور ایتھنز ایکسپریس،، کے ساتھ کثیر اللغات ہفت روزہ اخبار انٹرنیشنل ٹائمز کے انگلش اور اردو صفحات کی ذمہ داریاں بیک وقت بحیثیت چیف ایڈیٹر سر انجام دیتا رہا۔ وینس ٹی وی پر میزبانی کرتے ہوئے بہت سے موضوعات پر بحث و تمحیص ہوتی رہی اور اس کے ساتھ تکبیر ٹی وی کی میزبانی بھی کرنی پڑی۔ ایکسپریس میڈیا اور بزم تکبیر کا منتظم اعلی اور سنیئر اینکر پرسن ہفتہ وار پروگراموں میں اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہ نبھاتا رہا۔ کرکٹ کے میدان میں سفارت خانہ پاکستان ایتھنز یونان کی جانب سے بحیثیت چیف آرگنائزر اعلی خدمات پر شیلڈ سے نوازا گیا۔،، پاکستان کلچرل فورم،، کی بنیاد رکھتے ہی یونانی اور یونیسکو کے پروگراموں میں اپنی ایشیائی ثقافت کو دن بہ دن اجاگر کر نے میں کوشاں ہوں۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ کتاب،، ہرکولوبوس اور ریڈ پلانٹ،، جو کہ دنیا کے چھیاسی ممالک اور پنتالیس زبانوں میں دستیاب ہے خوش قسمتی سے اس کا اردو ادبی ترجمہ مجھے سونپا گیا اور شرائط میں صرف ترجمان کو اس کا معاوضہ مل سکتا تھا لیکن اس کا نام کتاب میں شامل نہیں کیا جاتا۔ ترجمہ میں نے کر دیا اور پنتالیس ترجمانوں میں میرے کام کو سراہتے اور اولیت دیتے ہوئے میرا نام بحیثیت ترجمان کتاب،، ہرکولوبوس اور سرخ سیارہ،، میں موجود ہے جو کہ اردو ادب کی خدمت میں ایک اہم قدم ہے۔ جسے سراہتے ہوئے عزت مآب ڈاکٹرمحمد سعید خان مہمند سفیر سفارتخانہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایتھنز نے اپنے دستِ راست سے تعریفی سند دے کر میری حوصلہ افزائی فرمائی۔ اسی طرح،، محبِ وطن شاعر،، کی تعریفی سند محترم شفقت اللہ خان سیکرٹری سفارتخانہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایتھز یونان سے ملی۔ یونانی قوانین جو بھی نئے پاس ہوتے ہیں ان کا ترجمہ بھی اردو لغت میں کرتا رہتا ہوں تا کہ یونان میں مقیم تارکین وطن کو بروقت ہر قانون سے واقفیت ہو سکے۔ جہاں اسٹیج ڈراموں کی جانب ہمارا مکمل رحجان ہے وہاں یونان میں میری تحریر کردہ پہلی

ٹیلی فلم،، چیک پوسٹ،، تو ٹی وی پہ چل چکی ہے اور دو مزید ڈبوں میں بند ہیں۔ اسٹیج ڈرامے اور بھی لکھے جا چکے ہیں جو اپنی اپنی باری پر انشا اللہ کھیلے جائیں گے۔ ہماری شاعری کے بہت سے گیت، رمزیہ کلام، نعتیں اور ملی نغمے خوش الہان گلو کاروں نے گائے ہیں۔ ہم نے انٹرنیٹ پہ،، آئی بی ایس ریڈیو،، اور،، ٹی وی فار یو،، کو بھی روشناس کروا دیا ہے جو کہ ہماری ویب سائٹ،، اخبار ڈاٹ جی آر،، میں موجود ہے۔
آخری سوال اردو مر رہی ہے پر ضرب کاری کا احساس ہو رہا ہے کیونکہ جو اقوام اپنی زبان کو فروغ دینا چاہتی ہیں وہ دنیا میں صف اول کی زبان ہو جاتی ہے۔ ہر زبان کا اپنا ایک ذائقہ ہوتا ہے اور یہ بولنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اپنی زبان کی کتنی حفاظت کر سکتا ہے۔ اس کی ادائیگی اور تلفظ پر کتنا دھیان دیتا ہے۔ اگر اپنی زبان میں دوسری زبان کو شامل کرکے کوئی فخر محسوس کرتا ہے تو وہ یوں ہی سمجھیئے،، کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی گیا بھول،،۔۔۔ التماس۔۔۔ اردو ادب کی ترویج و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجیئے اور اردو کو دنیا کی لغتِ اول بنا دیں۔ شکریہ (چوہدری محمد بشیر شاد یونان



۔۔۔۔ تعارف۔۔۔۔ اپنے چاہنے والوں کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان کے ہر سوال کی تشخیصی رنگت کو نمایاں کرنے کے لئے معدودے

چند حروف آپ سب کی نذر گر قبول (چوہدری محمد بشیر شاد یونان)





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved