تازہ ترین  

غیرت اسلامیہ کا سقوط
    |     8 months ago     |    اسلامی و سبق آموز
بڑی حجاب نما چادر میں مستور ایک عورت بازار میں بغرضِ تجارت داخل ہوئی اور خرید و فروخت میں مصروف ہو گئی۔ بازار یہود کے قبیلے بنو قینقاع کا تھا یہود مغضوب علیھم نے اکیلی باپردہ مسلمان عورت کو دیکھا تو ازلی شرارت اور حق سے عداوت جو انکی رگ و جاں میں رچی بسی تھی ایک انگڑائی لے کر جاگ اٹھی

۔ اسی اثناء میں باپرہ مسلمان عورت ایک یہودی جوہری کی دکان پر جا بیٹھی تو یہود ملعون اس کا چہرہ کھلوانے کے لیے اصرار کرنے لگے اور بدبخت جوہری نے چپکے سے اس عورت کا کپڑا کسی کیل یا کُھونٹی سے باندھ دیا وہ عورت اٹھ کر جانے لگی تو اس کا نقاب کھل گیا اور چہرہ ظاہر ہو گیا اور یہود بے بہبود بے ہودگی سے قہقے لگانے لگے۔با حیا عورت اہانت و بے پردگی کے احساس سے چیخ اٹھی۔

راہ گزرتے ایک مسلمان نے یہ منظر دیکھ لیا تھا غیرت ایمانی سے سرشار اس مسلمان نے یہودی جوہری کو اسکی بے ہودگی کا بدلہ دینے کا ارادہ کر لیا آن کی آن میں بڑا خنجر بلند ہوا اور یہودی جوہری کے وجود میں اتر گیا جوہری جہنم واصل ہو گیااور پھر یہودی اس غیرت مند مسلمان پر ٹوٹ پڑے اور اسے شہید کر ڈالا۔

مسلمانوں کو اس سارے قصّے کی خبر ہوئی تو غم و غصہ سے بھر گئے آپ صل اللہ علیہ وسلم تک بھی خبر پہنچی آپ نے بنو قینقاع کے شر کو جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کر لیا اور مجاہدین کا لشکرِ جرار لیکر بنو قینقاع پر چڑھائی کر دی۔ بزدل یہودی قلعہ بند ہو گئے اور آپ صل اللہ علیہ وسلم نے پندرہ دن تک قلعہ کا محاصرہ کیے رکھا یہاں تک کہ یہود کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا اور انہوں نے اپنی جان کی بخشش مانگتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے

آپ صل اللہ علیہ وسلم نے گرفتار ہونے والے اس قبیلے کے تمام بالغ مردوں کو جنکی تعداد غالبا سات سو تھی قتل کرنے کا حکم دے دیا رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی گڑگڑا کر یہود کی جان کی بخشش مانگنے لگا آپ صل اللہ علیہ وسلم نے اسے سختی سے دور ہٹ جانے کا حکم دیا لوگوں نے آپ کے چہرہ مبارک پر سخت غصہ کے آثار دیکھے۔

مگر وہ مسلسل آپ کو پکڑے سوال کر رہا تھا کہ میرے معاہدین کو بخش دیں آپ صل اللہ علیہ وسلم نے یہود کی جان تو بخش دی اور تین دن میں مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا اور شدید ناراضگی میں یہود پر لعنت فرمائی اور انکے لیے بے برکتی کی دعا کی چناچہ یہودِ بنو قینقاع مدینہ چھوڑ کر شام چلے گئے نبی الملاحم صل اللہ علیہ وسلم کی بد دعا یہود کو لے ڈوبی اللہ نے انکی جڑ کاٹ دی اور ایک سال میں سارے بنو قینقاع ہلاک ہو گئے

قارئین کرام! غور فرمائیں ایک مسلمان عورت کی عزت آپ صل اللہ علیہ وسلم کو کتنی عزیز تھی صرف ایک عورت کا دوپٹہ کھیچنے پر آپکا غصہ کس انتہا کا تھا اگر عبد اللہ بن ابی آڑے نہ آتا تو یہود موقعے پر ہی قتل کر دیے جاتے۔

اور آج تو مسلمان عورتوں کی عزتیں تار تار کی جاتی ہیں۔ درجنوں اسلامی بہنیں کفار کی قید میں ہے اور ہماری بہن عافیہ صدیقی امریکی قید میں رب کو پکار رہی ہے اور اس کی تار تار عصمت اور امریکی جیل میں حاملہ ہونے کی خبر سب نے پڑھی مگر کسی مسلمان حاکم یا جرنیل کے کان پر جوں تک نہیں رینگی باون اسلامی ممالک اور انکے سربراہ اس بارے سوچنے کے لیے تیار نہیں۔

اور عافیہ بہن کو جسکا اصل "جرم" تو مسلمان ہونا ہے ایک بے بنیاد جھوٹے مقدمے میں اُس دن چھیاسی برس قید کی سنائی گئی جس دن خلافتِ اسلامیہ "خلافت عثمانیہ" کے سقوط کو چھیاسی برس مکمل ہوئے گویا امریکی عدالت نے پوری امتِ مسلمہ کہ منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کر کے کہا خلافت عثمانیہ کے بعد ہم تمہاری غیرتِ اسلامیہ کا بھی سقوط کر چکے ہیں

اٹھو مسلمانو! اے جرنیلوں! اے حکمرانوں اسلام کی بیٹی عافیہ تمہاری منتظر ہے۔ یہ عارضی عہدے، طاقت اور منصب اگر اس راہ میں قربان بھی ہو گئے تو آخرت میں ہمیشہ رہنے والے عہدے اور عزت تمہارے نام کیے جائیں گے

وہ دیکھو عافیہ انتظار کر رہی ہے کسی راہ گزر کا جو عافیہ بہن کی چادر کھیچنے والے کافر کے دل میں خنجر اتار دے اور اپنی بہن کو بازیاب کروائے۔ کسی غیرت کے امیں لشکر کا جو معتصم کی طرح ایک بہن کی خاطر کفر و ظلم کو ایوان تہ و بالا کرے۔ وہ دیکھو بہن عافیہ انتظار کر رہی ہے محمد صل اللہ علیہ وسلم کے کسی لشکر کا جو وقت کے بنو قینقاع کا قلعہ قمع کرے

اے مسلمانوں اے حکمرانوں اے جرنیلوں سوچ لو اتنے بڑے ظلم پر چپ رہ کر کیا نبی مہربان صل اللہ علیہ وسلم کا سامنا کر سکو گے؟ تمہاری خاموشی، سردمہری، بےحسی، خود غرضی اور لا پرواہی یہ ثابت کر رہی ہے کہ واقعی خلافت کے بعد غیرتِ اسلامیہ کا بھی سقوط ہو چکا ہے
انا للہ وانا الیہ راجعون






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved