تازہ ترین  
Wednesday
17-01-18

معروف شاعر و دانشور نویدمرزا کی ادبی خدمات
    |     1 week ago     |    گوشہ ادب
تاریخ کے اوراق کا عمیق مطالعہ کیا جائے تو میدان علم و ادب میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والی شخصیات کے ناموں کی طویل لسٹ سامنے آتی ہے جنہوں نے فروغ ادب کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ جن ہستیوں نے اردو ادب کے فروغ کے لیے مثالی کردار ادا کیا ان میں داغ دہلوی ، مرزا اسداللہ خان غالب ، سعادت حسین منٹو ، نظیر اکبر آبادی ، میر ببر علی انیس ، مرزا رفیع سودا ، محمد ابراہیم ذوق ، مومن خان مومن ،خواجہ حیدر علی آتش ، محمد حسین آزاد ، الطاف حسین حالی ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ، ابو الکلام آزاد ، فرحت اللہ بیگ ، ابن انشا، مشتاق احمد یوسفی ، انتظار حسین ، منشی پریم چند ، عبد الحلیم شرر ، ڈپٹی نذیر احمد، بانو قدسیہ اور دیگر کے نام نمایاں حیثیت کے حامل ہیں جنہوں نے ادب کی مختلف صنفوں کی صورت میں اس کی ترقی و ترویج میں بے مثال کردار ادا کیا۔ کسی نے شاعری کے ذریعے اردو ادب کی خدمات انجام دیں تو کسی نے نثر کی صورت میں اپنا حصہ ڈالا، کسی نے افسانوی طریقہ سے قارئین کے دلوں پر اثرات مرتب کیے تو کسی نے ڈرامائی شکل میں اپنا لوہا منوایاالغرض ان عظیم ہستیوں نے ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر اس کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں جس کے بدولت آج ان ہستیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
دورِ حاضرمیں علم و ادب کی ترویج و ترقی میں مثالی کردار ادا کرنے والوں میں نوید مرزا کی ادبی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔پاکستان ملٹری اکاؤنٹس سے وابستہ جواں امنگوں کا ترجمان نوید مرزا تین دہائیوں سے علم و ادب کی تخلیق میں مصروف عمل ہے ۔نوید مرزا نے احمد ندیم قاسمی ، مرزا ادیب ، ڈاکٹر وحید قریشی ، ڈاکٹر انور سدید ، شہزاد احمد ، مظفر علی سید ، امجد اسلام امجد ، سید قاسم محمود ، پروفیسر عبد الحمید یزدانی ، اظہار شاہین اور اختر رومانی جیسی مایہ ناز شخصیات کے سایہ شفقت سے مستفید ہوکر میدان علم و ادب میں بھر پور حصہ ڈالا ہے۔ نوید مرزا نے اپنا ادبی سفر 1990 میں صرف اکیس برس کی عمر میں "ٹھنڈا سورج" کے نام سے شعری مجموعہ منظر عام پر لاکر شروع کیا اور ادبی حلقوں میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے۔ آج نوید مرزا کی شخصیت ادب کے انسائیکلو پیڈیا کی سی ہے۔انہوں نے کالم نگاری ، شاعری اور ادب اطفال میں بھر پور کام کیا ہے اور تمام صنفوں میں کامیابیاں ان کا مقدر بنی ہیں ۔گزشتہ دنوں الحمراء ادبی بیٹھک لاہور میں ہر دلعزیز شخصیت جناب ابصار عبد العلی کی زیر صدارت نوید مرزا کی دو کتابوں "رُوبرومحبت ہے" اور" شرح شکوہ و جواب شکوہ "کی تقریب رونمائی ہوئی۔"رُوبرومحبت ہے"نوید مرزا کی غزلیات کا مجموعہ ہے جس کا دوسرا ایڈیشن آ چکا ہے جبکہ" شرح شکوہ و جواب شکوہ " ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کی شاعری کی شرح ہے جس کی مدد سے قارئین کو کلام اقبال ؒ سمجھنے میں مدد ملے گی۔نوید مرزا کی شاعری کے اب تک چار مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں جن میں "ٹھنڈا سورج ، چہروں سے بھری آنکھیں ، فرصت کے رات دن اور روبرو محبت ہے " شامل ہیں جبکہ ان کی مرتب کردہ اردو کے سوقدیم و جدید شعراء کے کلام پر مبنی کتاب "چاروں طرف محبت ہے"بھی خوب پذیرائی حاصل کر چکی ہے۔
نوید مرزا نے شاعری کے ساتھ ساتھ نثر نگاری میں بھی خوب طبع آزمائی کی ہے اور ان کا ناول "زندہ ہیں شاہین" خوب پذیرائی حاصل کر چکا ہے جبکہ بچوں کے لیے"سُراغ زندگی" اور "مقدر کا ستارہ" کے ناموں سے کتب تخلیق کر چکے ہیں جن کو اکادمی ایوارڈز اور نقد انعام ملنے کے ساتھ ساتھ اب تک ان کے پانچ پانچ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔بچوں میں فکر اقبالؒ اجاگر کرنے کے لیے انہوں نے اقبال کہانی پر مشتمل "لوح و قلم ، استاد کا احترام ، زندہ قوم اور میرا اقبال " کے ناموں سے نثری مجموعے لکھے ہیں جو اشاعت کے مراحل میں ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ نوید مرزا کے "غبارے والا اور سرزمین پاک "کے ناموں سے بچوں کے لیے نظموں کے دو مجموعے بھی منظر عام پر آنے کو تیار ہیں۔نوید مرزا صاحب سال 2018 میں نعتیہ مجموعہ "سعادتیں" بھی شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔شاعری اور نثر نگار ی کے علاوہ انہوں نے کچھ عرصہ معروف ادبی جریدے ماہنامہ ادب لطیف اور سہ ماہی سائنس میگزین کے ایڈیٹر کے طور پر بھی بطریق احسن فرائض سرانجام دیئے ہیں۔نوید مرزاصاحب سادہ طبیعت کے مالک ہیں اور ہر سینئر و جونیئر سے محبت و الفت کے جذبات سے لبریز ہو کر ملتے ہیں ۔ داد و تحسین کے حصول سے بالا تر ہو کر دل جمی سے تخلیق علم و ادب میں مصروف نوید مرزا صاحب کا خوبصورت اور دلنشین کلام ہی ان کی پہچان ہے۔ ان کی حالیہ آنے والی کتاب "رُوبرومحبت ہے "میں سے نمونہ کلام پیش خدمت ہے۔
میں آئنہ ہوں میرے رُوبرو محبت ہے
جہاں پہ میں ہوں وہاں چار سُو محبت ہے
۔۔۔۔۔۔۔
طلب رکھتا نہ تھا اِک بوند بھی شبیر پانی کی
مگر ہاری ہوئی تھی اس گھڑی تقدیر پانی کی
۔۔۔۔۔۔۔
چپ چاپ مجھ کو دے کے صدائیں چلا گیا
لگتا ہے جیسے وقت کی اپنی زبان ہے
۔۔۔۔۔۔۔
میں کسی وقت اکائی کی طرح ہوتا تھا
مجھ کو تقسیم زمانے نے کیا ذاتوں میں
۔۔۔۔۔۔۔
ایک معصوم تمنا بھی سلامت نہ رہی
لے گیا چھین کے بچے سے غبارہ کوئی
۔۔۔۔۔۔۔
ذرا سی دیر میں ہر شے کو راکھ کر دے گی
تمام شہر جلاتی ہے ایک ہی تیلی
۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنے جسم کے گنبد سے بھی باہر نکل آؤں
میرے مولا کبھی تو میرے چہرے سے ہٹا مٹی
۔۔۔۔۔۔۔
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




There is no item in the database table to display at the moment.



Comments

There is no Comments to display at the moment.



Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved