تازہ ترین  

یہ قندیلِ حیاء ہے یارب!
    |     11 months ago     |    پاکستان

شہر میں قحط سالی تھی، لوگ پریشان تھے۔ مرد ، عورت، بچے ، بوڑھے اور مویشی میدان میں جمع تھے۔ نماز استسقاء ادا کی جا رہی تھی۔ رو رو کر اللہ سے بارش کی دعائیں مانگی جا رہی تھیں۔ لیکن ابرِ رحمت کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ اسی حالت میں عصر کا وقت ہو گیا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک نوجوان اونٹ کی رسی تھامے پیدل آ رہا ہے۔ اونٹ پر کوئی سوار ہے۔ آنے والے نے پوچھا: ’’ تم لوگ یہاں کیوں جمع ہو؟ لوگوں نے کہا ’’شہر میں قحط سالی کا دور دورہ ہے ، بارش ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ ہم یہاں نماز استسقاء ادا کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔‘‘ اس نوجوان نے اونٹ پر سوار شخص سے کچھ کہا، چند ساعتوں میں چھم چھم بارش شروع ہو گئی۔ سب حیران ہو گئے۔ یہ کیا ہوا؟ مجمع میں موجود علماء نے نوجوان سے پوچھا ’’آخر معاملہ کیا ہے؟ یہ اللہ کی رحمت اچانک کیسے آئی؟ ہم صبح سے یہاں بیٹھے ہیں، لیکن ابر رحمت کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے ۔ تم آئے ، سوار سے کچھ کہا اور فورا بارش شروع ہو گئی؟‘‘ نوجوان بولا ’’اونٹ پر میری والدہ سوار ہے۔ انہوں نے پوری عمر عفت و حیاء والی زندگی گزاری ہے۔ میں نے اپنی ماں کا پلو پکڑ کر اس کی عفت و حیاء کے وسیلے سے اللہ تعالی سے دعا مانگی ہے۔ اللہ نے فورا اسے قبولیت سے نواز دیا۔‘‘
حیاء کا لغوی معنی ہے وقار، سنجیدگی اور متانت۔شرعی اصطلاح میں حیاء کا مطلب ہے ’’وہ صفت جس کی موجودگی میں انسان قبیح اور ناپسندیدہ کاموں سے پرہیز کرتا ہے۔‘‘ حدیث مبارکہ میں حیا کا تذکرہ ان الفاظ میں موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کا سبب ہے۔ اور بے حیائی جفا (زیادتی) ہے اور جفا جہنم میں جانے کا سبب ہے۔‘‘ ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے ’’جب شرم و حیاء نہ رہے تو جو چاہے مرضی کر۔‘‘ حیاء اتنی اہم چیز ہے کہ شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں نے کیا تو اللہ تعالی نے اسے قرآن مجید کا حصہ بنا دیا۔ حیاء انسان کی دینی و دنیاوی ترقی کا ضامن ہے۔ اس کے ذریعے قول و فعل میں حسن آتا ہے اور انسان دنیا والوں کی نظر میں پرکشش بن جاتا ہے۔ جیسے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اپنی حیاء والی صفت کی وجہ سے عشرہ مبشرہ میں شمار ہوئے، ذوالنورین بنے، حتی کہ فرشتے بھی ان سے حیاء کرتے تھے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ’’حیاء سرا سر خیر ہے۔‘‘
حیاء کا ایمان سے گہرا تعلق ہے۔ مومن باحیاء ہوتا ہے۔ اس کی زندگی پاک دامن ہوتی ہے۔ حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی علیہ السلام کے بارے میں فرماتی ہیں کہ ’’آپ میں حیاء کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ تھا۔‘‘اللہ تعالی نے عورتوں میں حیاء کا مادہ زیادہ رکھا ہے۔ لیکن جب اس مخلوق سے حیاء رخصت ہوتا ہے تو پھر معاشرے میں بگاڑ آ جاتا ہے۔ نوجوان نسل بد راہی کی منزل پر گامزن ہو جاتی ہے۔ جب حیاء کی دیوی گھر سے نکل پڑتی ہے تو معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی کا پھیلنا لازم امر ہے۔ اس لیے آج کے دور میں حیاء کے فقدان کے سبب رزق اور اخلاق کریمانہ میں بھی کمی آ گئی ہے۔
حیاء والی صفت پیدا کرنے کے لیے ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا۔ شرعی پردہ کی پابندی کرنی ہوگی۔ عورتوں و مردوں کے اختلاط سے اجتناب برتنا ہوگا۔ مخلوط تعلیم سے پرہیز اور بدنظری سے بچنا ہوگا۔ رشتوں کی اہمیت پہچاننی ہوگی۔ انٹرنیٹ، سیل فون، اور کیبل وغیرہ کا استعمال شرعی حدود میں رہتے ہوئے کرنا ہوگا۔ اپنے لباس، بول چال، رہن سہن اور طرزِ معاشرت کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا ہوگا۔ یاد رہے جب تک مسلمانوں میں غیرت، حیاء اور پاک دامنی نہ آئے گی ، عورتیں باپردہ ہو کر گھروں سے نہیں نکلیں گی، اس وقت تک ہم اچھے معاشرے کا خواب پورا ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔
یہ قندیل حیاء ہے یارب! رہے فانوس کے اندر
یہ جسم پارسا ہے یارب! رہے ملبوس کے اندر 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved