تازہ ترین  

نقد ونظرکاکتابستان،میری نگاہ میں
    |     8 months ago     |    کالم / بلاگ
حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری شہیدؒ ،شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کا انتخاب اور ان کے تیار کردہ تھے۔حضرت لدھیانویؒ ہی کی حیات میں وہ دینی،علمی،تحقیقی موضوعات پر حضرت کی سرپرستی میں ان کی معاونت کے علاوہ مستقل تحریری کام بھی کرتے رہے،یوں ان کے تحریری جوہر کھلتے اور نکھرتے رہے،اور حضرت لدھیانویؒ کی شہادت کے بعد ان کی جانشینی کا فریضہ بحسن وخوبی نبھایا ۔اگر حضرت ؒ کے قاتلوں اورا ن کے پشتی بانوں کا جو مقصد تھا،کہ ان کی خدمات کاباب بند اور ان کی اس تحریری للکار اور تقریری یلغار کا سلسلہ دم توڑ جائے جس نے ایوانہائے کفر وباطل اور رفض ومرزائیت میں زلزلہ برپا کررکھا ہے،یہ مقصد کسی بھی درجے میں حاص ل نہ ہوسکا،تو اس میں حضرت مولانا سعیدا حمد جلالپوریؒ کا کردار سب سے نمایاں تھا۔
دشمن جب دلائل کے میدان میں چاروں شانے چت ہوجاتاہے تو قل وغارت گری پر اتر آتا ہے،سو شہید اسلام کے اس سچے اور لائق جانشین کو بھی اپنی تیغِ ستم کا نشانہ بناکربزدل دشمن نے ایک بار پھر اپنی شکست کا عملی طور پر اعتراف کرلیا۔مشن کبھی افراد کے جانے سے ختم نہیں ہوا کرتے،آواز حق اہل حق کے چلے جانے سے دب نہیں جاتی،بلکہ پہلے سے بڑھ کر قوت وشدت سے گونجا کرتی ہے،سو حضرت جلالپوریؒ کے چلے جانے کے بعد بھی بزدل دشمن اب ایک بار پھر فرط غیظ وغضب سے دانت پیسنے پر مجبور ہے،کیوں کہ ان کے تیار کردہ مولانا محمد اعجاز مصطفی صاحب ان کے کام وپیغام اور مش وکاز کو اسی جوش وولولے سے آگے سے آگے بڑھانے کے لیے شب وروز ساعی وکوشاں ہیں،جس جوش وجذبے اور خلوص وللہیت سے حضرت جلالپوریؒ نے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی شہادت کے بعد ان کے کام وپیغام اور مش وکاز کوآگے بڑھانے میں اپنی صلاحیتیں صرف فرمادی تھیں۔
حضرت مولانا جلالپوریؒ کی مختلف اخبارات وکتب اور رسائل وجرائد میں بکھری تحریروں کو یک جا کرکے اب تک وہ اپنے مخلص رفقائے کار بالخص وص مولانا محمد زین العابدین(مدرس مدرسہ امام ابویوسف،شادمان ٹاؤن،کراچی)کے تعاون سے متعدد ضخیم کتابیں تیار اور شایع کرچکے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب ’’نقد ونظر‘‘بھی اسی سلسل�ۂ مسعود کی ایک کڑی ہے۔مولانا ممدوح خود ’’پیش لفظ‘‘ میں ارقام فرماتے ہیں:
’’آپ ؒ نہ صرف ماہ نامہ ’’بینات‘‘ کا اداریہ لکھتے تھے،بلکہ اس دنیائے فانی سے کوچ کرجانے والی شخصیات کے تذکرہ وسوانح بھی ’’یاد رفتگان‘‘ کے نام سے لکھتے تھے،اور اس کے علاوہ مختلف موضوع ات پر ملک بھر سے چھپنے والی کتب پر ’’نقد ونظر‘‘ کے عنوان کے تحت تبصرہ بھی آپ ؒ فرمایا کرتے تھے،آپ ؒ نے مجموعی طور پر تقریباً355کتابوں پر پُر مغز و جان دار تبصرے کیے ہیں۔‘‘
مزید لکھتے ہیں:’’احباب کے پر زور اصرار اور حضرت اقدس حضرت مولانا سعید احمد جلالپوریؒ قدس سرہ کے علمی کام اور تحریرات کو محفوظ کرنے کی غرض سے ’’نقدونظر‘‘ کے عنوان سے آپ ؒ کی ان تحریرات کو اس کتاب میں جمع کیا گیا ہے۔‘‘
کتاب میں تبصروں کو موضوعاتی ترتیب سے بڑے سلیقے سے جمع کیا گیا ہے۔سب سے پہلے قرآنیات کے موضوع کے تحت قرآن اور علوم قرآنیہ سے متعلقہ کتب،پھر حدیث اور متعلقات حدیث،پھر عقاید،اس کے بعد فقہ وفتاویٰ،پھر تصوف ،احسان وسلوک،اس کے بعد سیرت انبیائے کرام ؑ وصحابہ کرامؓ،پھرتذکرہ وسوانح،حالات وواقعات،اس کے بعد تاریخ ،پھر وظائف اور دعاؤں سے متعلقہ کتب پر تبصرے دیے گئے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ مقالات ومضامین،مکتوبات،ادبیات،مواعظ وملفوظات،اصلاحی کتب،رسائل وجرائد پر تبصرے بھی کتاب کا حصہ ہیں۔بعض مشہور رسائل وجرائد کی خصو صی اشاعتوں پر کیے جانے والے تبصروں کو بھی کتاب میں جگہ دی گئی ہے۔فرق باطلہ کی تردید میں لکھی جانے والی کتب اور نصابی کتب کے علاوہ شروحات وتراجم وغیرہ سے متعلقہ کتب پر بھی چند تبصرے شامل ہیں،یوں فاضل مرتب نے اس کتاب کو ایک جامع کتاب بنانے کی کام یاب سعی وکوشش فرمائی ہے۔اس پر مستزاد وہ تبصرے ہیں ،جو حضرت مولانا سعید احمد جلالپوریؒ کی اپنی کتابوں پر معاصرسائل وجرائد میں شایع ہوئے،یوں یہ کتاب ہمیں صرف حضرت جلالپوریؒ ہی نہیں،دوسرے کئی مبصرین کے طرز تبصرہ سے بھی روشناس کرتی ہے۔
حضرت جلالپوریؒ کے ہر تبصرے کو،خواہ وہ چند سطری ہو یا کئی کئی صفحات کی ضخامت کا حامل،بغور پڑھنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انھوں نے ہر کتاب ،رسالے،شرح اورلٹریچر کا،جوان کے پاس بغرض تبصرہ بھیجا گیا،مکمل دیانت دارانہ،مخلصانہ،ناقدانہ وخیرخواہانہ جائزہ لیا ہے۔کتاب کے مشمولات کو وہ پوری دیانت داری سے قاری کے سامنے پیش کرتے ہیں،کتاب کی خوبیوں پر مخلصانہ تبصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر نقاد کی حیثیت سے اس میں موجود ظاہری ومعنوی اور لفظی وترتیبی نقائص کو واضح کرتے ہیں،جس کے لیے ان کا انداز طنزیہ وتمسخرانہ نہیں،بلکہ خیرخواہانہ ہوتا ہے،اور ساتھ ہی مصنف،مؤلف اور ناشر کو پوری ہمدردی وخیرخواہی سے ان نقائص کو دور کرنے کا نہ صرف مشورہ بلکہ قابل عمل حل بھی تجویز کرتے ہیں۔کتاب کے بارے میں ان کی ماہرانہ رائے کے مطالعے کے بعد قاری اس کتاب کے حصول اور اس سے استفادے کاجذبہ خود بخود ابھرنے لگتا ہے،اور یہی ایک اچھے تبصرہ نگار کی خوبی اور مصنف ،مؤلف اور ناشر کا مقصود ہوتا ہے۔
ہم آپ کے اور’’ نقد ونظر‘‘ کے درمیان مزید حائل نہیں ہونا چاہیے،لیجیے!کتاب حاصل کیجیے اور حظ اٹھائیے،کتابستان کی سیر کیجیے ،آپ کتاب کی جامعیت اور ظاہری ومعنوی خوبیوں کے معترف ہوئے بغیرنہ رہ سکیں گے۔
...............................
مولانا محمدجہان یعقوب
سینئر ریسرچ اسکالر،جامعہ بنوریہ عالمیہ،سائٹ کراچی





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved