تازہ ترین  
Wednesday
17-01-18

غازی/شہیدنائیک محمد حسین شاہ2آزادکشمیر رجمنٹ کی یاد میں
    |     5 days ago     |    کالم / بلاگ
پاک فوج میں اکثریتی زمینی کمک ،اُسکے بعد سمندر ی اور پھر ہوائی فوج میں جہاں بھی جس سطع پر دیکھیں ۔تربیت و مہارت کے سلسلے سے لیکر روٹین کے طریقہ عمل تک ،ہر جگہ قرآن و حدیث کی طرف رجوع کیا گیا ہے ۔کہیں قرآن حکیم کی کسی آیت مبارکہ کے ذریعے فوجی زندگی ،اہداف و مقاصد کی اہمیت واجع کی گئی ہے ۔اور کہیں کسی حدیث مبارکہ سے ۔۔یہی وجہ ہے کہ جب ایک عام نوجوان فوج میں بطور سولجریا کمیشنڈ آفیسر شمولیت اختیار کرتا ہے ۔تو تربیت و مہارت کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد اُسکی زندگی انقلابی تبدیلیوں کی شاہکار بن چکی ہوتی ہے۔ عمومی طور پر مسلح افواج میں شمولیت اختیار کرنیوالوں میں دلچسپی کی بنیادی وجہ ’’باوقار روزگار‘‘کا میسر آنا ہے ۔نہ کہ اپنی جان کو (چاہے ملک و ملت کیلئے سہی)داؤ پر لگانے کا عزم و ارادہ ۔۔۔۔یہ سب فوجی زندگی کا کرشمہ ہے کہ ہر افسر /جوان میں وہ تمام خوبیاں اُبھاری و نکھاری جاتی ہیں کہ جن کے ساتھ ہر فوجی میں وطن کی خدمت ،وطن کیلئے جان دینے اور جان لینے کا جذبہ موجزن ہوتا ہے۔مسلح افواج میں شمولیت اختیار کرنیوالوں میں ایسے جوانوں کی ایک خاص تعداد ہمیشہ سے آرہی ہے ۔جو اس جذبے کیساتھ فوجی زندگی اختیار کرتے ہیں کہ ملک اور ملت کیلئے خدمات انجام دیں ۔اور ضرورت پڑنے پر اپنی جان سے بھی گزرنا پڑے تو دریغ نہیں کریں گے۔نائیک سید محمد حسین شاہ کا شمار اُن جوانوں میں ہوتا ہے ۔جو وطن عزیز کے دفاع کیلئے اپنے جان قربان کرنے کا جذبہ لئے فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔نائیک سید محمد حسین شاہ 1942ء میں مظفرآباد سے سرینگر کی جانب 32میل دُور بانڈی سیداں گاؤں(چکوٹھی سیکٹر)میں زمیندار سید سید احمد شاہ کے ہاں پیدا ہوئے ۔تقسیم برصغیر سے پاکستان بنا ،تب چھ سال کی عمر تھی ۔ تقسیم برصغیر کے بعد ریاست جموں و کشمیر میں ہندوستان کی فوجیں اُترنے اور قبائل کی مظفرآباد کی طرف سے آمد کے نتیجہ میں ریاست میں اُبھرنے والی خونی لکیر کو دیکھتے ہوئے محمد حسین شاہ نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ۔اس دوران وہ اکثر پاک فوج کے قافلے اگلے موچوں کی طرف جاتے دیکھا کرتے ۔منفرد سا ماحول بھی میسر آیا ۔پاکستان کیساتھ محبت کا جذبہ ورثے میں مِلا ۔کشمیر کی آزادی کی تڑپ دل میں تھی ۔
ابتدائی تعلیم مقامی لوئر مڈل سکول بانڈی سیداں میں حاصل کی ۔بچپن میں ہی اپنے ہم عصروں میں طبعاََ مختلف دیکھے گئے ۔سوالہ سترہ سال کی عمر میں دراز قد ،مضبوط جسامت کیساتھ نمایاں نظر آتے ۔تعلیمی سلسلہ کیساتھ زمینداری کے کام میں اپنے والد اور بھائیوں سید مظہرحسین شاہ ،فضل حسین شاہ کا ہاتھ بٹاتے ۔نائیک سید محمد حسین شاہ شہیدکے قریبی رشتہ داروں میں سجاول حسین شاہ (برادرنسبتی)قبل از آزادی برطانوی فوج میں بھی رہے ۔سید محمد حسین شاہ نے ابتدائی طور پر پاکستان آرمی کے’’ میڈیکل کور ‘‘AMCمیں شمولیت اختیار کی ،تاہم مادر وطن کیلئے جذبہ جہاد شوق شہادت دل میں موجزن تھا۔اس واسطے اُنھوں نے بحیثیت نرسنگ سولجر5 سالہ خدمات کے بعد باقاعدہ استدعا کرکے بحیثیت لڑاکا فوجی آزادکشمیر رجمنٹ کی سیکنڈ(انفینٹری بٹالین )میں چلے گئے جہاں خدمات انجام دیتے ہوئے 1965 کی جنگ لڑی ۔غازی بنے ۔ متعدد مشنزمیں کامیابی نے قدم چُومے ۔اورپھر1971کادسمبر آیا ۔جب دشمن نے ایک طرف مشرقی پاکستان میں اپنے آلہ کاروں کے ذریعے عوام کو فوج کے مدمقابل لاکھڑا کردیا ۔تو دوسری طرف مغربی پاکستان کی مشتقی سرحد سے جنگ مسلط کردی ۔ایسے عالم میں نائیک سید محمد حسین شاہ کی بٹالین چھمب جوڑیاں سیکٹر میں تعینات تھی ۔جہاں دشمن کیساتھ جنگ میں نائیک محمد حسین شاہ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔شہید کی موت ہی قوم کی زندگی کی ضمانت ہوتی ہے۔چنانچہ مادر وطن کے بہادر سپوت نائیک محمد حسین شاہ نے فوج میں شمولیت کے بعد اپنے دئیے ہوئے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔اس طرح نائیک محمد حسین شاہ سمیت دیگر ہزاروں شہدائے1965/71ملک و قوم کیلئے اپناسب سے قیمتی نذرانہ دیکر سرخُرو ہوگئے ۔
جنگ ختم ہوئی ۔تب 34ویں دن شہیدکے بھائیوں (سید مظہر حسین شاہ ،سید فضل حسین شاہ )نے سیکٹرگئے ۔اور امانتاََ دفنائے گئے نائیک سید محمد حسین شاہ شہید کے تابوت کے ساتھ گاؤں آئے ،جہاں شہید کے جسد خاکی کو حسیب روایت فوجی وردی میں قبر میں اُتارا گیا ۔شہید کو پاک فوج کی طرف سے اعزازات سے نوازا گیا ،جبکہ کمانڈنگ انچیف ،ایڈجوٹینٹ جنرل زاہد علی اکبر،آزادکشمیر رجمنٹل سنٹر کمانڈربرگیڈئیر غوث نے شہید کے اہلخانہ کے نام اپنے علیحدہ علیحدہ خطوط میں شہیدکے جذبے ،بہادری اورقربانی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔شہید وطن نائیک سید محمد حسین شاہ کے چار حقیقی بھائیوں میں سے دو بھائی پاکستان آرمی میں خدمات انجام دینے کے بعد غازی بن کر لوٹ آئے ،جبکہ خاندان کے بیسیوں افراد پاک فوج کے مختلف شعبہ جات میں خدمات انجام دے چکے ، شہید کا اکلوتا بیٹاپاک فوج کیساتھ شانہ بشانہ کئی جہت سے اپنے حصے کا کردار ادا کیا ہے۔جبکہ پوتا نائیک شاہد کاظمی بھی پاکستان آرمی میں ہی خدمات انجام دے رہا ہے۔
بااختیار قوتوں کی توجہ کیلئے !
مادر وطن کی حفاظت کی مختلف جہتیں ہیں ۔کسی بھی جہت سے حفاظت کا مقدس فریضہ انجام دیتے ہوئے جان دیدی جائے ۔جانباز سرخُرو ہوجاتا ہے۔اُسکا مقام و مرتبہ ہمالیہ کی طرح بلند ہوجاتا ہے۔بظاہر ایسے ہی ہے۔مگر فوج اور عوام کے سامنے سرخُرو ہونیوالے جانباز (شہید)کے گھرانوں میں بعد ازاں کیا مناظر ہوتے ہیں ؟؟ منظر کشی بہت تکلیف دہ اور بہت ہمت وحوصلہ کی بات ہوگی۔تاہم موقع کی مناسبت سے سرسری طور پر ہی سہی اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے۔کہ فوجی وردی میں بڑے ٹھاٹھ باٹھ کیساتھ نظر آنیوالے جوانوں / افسروں کو اگر اپنی زندگی میں وہ سارے مناظر کہیں خواب میں بھی نظر آجائیں تو شاید ہی کچھ فوجی اپنی جانیں دینے پر مائل رہ سکیں ۔۔۔۔۔مثلاََ 1965/1971اس سے پہلے اور بعد میں کرگل تک ،جتنے فوجیوں نے اپنی جانیں دیں ۔افسروں ،جوانوں میں غالب اکثریت گھرانوں میں دلخراش مناظر دیکھنے میں آئے ۔بہت سی شہیدوں کے گھرانے تو جیتے جی مر گئے ۔۔۔۔کچھ پنشن کیوجہ سے ۔۔۔۔۔کچھ زمین و جائیداد کی وجہ سے ۔۔۔۔اور پھر نہ فوج اور نہ کوئی حکومت پلٹ کر خبر لے سکی۔ایک خاندان کا جوان فوجی شہید ہوگیا۔فوج نے واجبات/پنشن دیدئیے۔فرض پورا ؟؟؟؟حکومت نے کوئی ایک دو خط لکھ دئیے ۔۔۔فرض پورا؟؟؟؟اب مرحلہ آگیا ۔واجبات ٹھکانے لگانے کا ۔اگر شہید کے پیچھے صرف والدین ،یاکوئی بھائی ہے تو پھر کوئی جھگڑا نہیں ہوگا۔واجبات بھی اپنے ،اور جائیداد بھی اپنی ہی رہ گئی ۔اگر شہید کے پیچھے اولذکر کے علاوہ بیوہ بھی رہ گئی تو یہاں سے ایک دنگل شروع ہوگا ۔واجبات ،پنشن سے شروع ہونیوالے یہ دنگل اس قدر وسعت اختیار کریگا ۔کہ گاؤں ،محلہ ،قصبہ شہر میں ہر طرف اسکا چرچا ہوگا۔۔۔اس سارے بکھیڑے میں ’’شہید ‘‘کی قربانی کسی کیلئے اہمیت کی حامل نظر نہیں آئیگی ۔البتہ واجبات ،پنشن کی کشمکش میں شہید کا ذکر ضرور ہوگا۔فوج میں کیوں گیا ؟؟جان کیوں قربان کی ؟؟مقصد (نصب العین)کیا تھا؟؟کسی کو سروکار نہیں ۔۔۔۔۔۔یہ تماشا کئی دہائیوں تک ہوتا رہا ۔ایک عام سادہ اور سیدھے جوان میں ایک مکمل فوجی کردار تراشنے والے بھی عجیب ہیں۔قرآن و حدیث سے فوجی مقاصد واضع کرنیوالوں نے اب تک ایک فوجی کی کا کردار مکمل کردیا ۔مگر شاید یہ بُھول گئے ۔کہ فوج میں شمولیت اختیار کرنیوالا ،کسی درخت پر پھل کی طرح نہیں لگا ،نہ کہیں کھیت میں فصل کے طور پر اُگا ہے ۔بلکہ وہ ایک گوشت پوست کا انسان ہے ۔جسکے والدین ہیں ۔پھر بیوی بھی ہے ۔اور بچے بھی ہوسکتے ہیں۔لہذا فوجی زندگی میں باقاعدہ یہ ضابطہ بھی ہونا چاہیے ۔کہ ہر فوجی ،اپنی شہادت کی صورت میں واجبات ،پنشن کے سلسلے میں باقاعدہ طور پر ’’وصیت ‘‘میں متعلقین یعنی والدین ،بیوی بچوں کو یکساں شامل کرے ۔اس طرح کم ازکم یہ تماشا کافی حد تک ختم ہوسکتا ہے۔کسی بھی فوجی کی شہادت کے بعد اگر یہ تماشے نہ لگیں ۔تو پھر فوجی کی شہادت کا تذکرہ ہوگا ۔اور اُن مقاصد پر بات ہوگی ،جن کے تحت ایک فوجی جان دینے پر تیار رہتا ہے۔۔۔۔لیکن کرگل سے پیچھے جنگوں /محرکوں میں شہید ہونیوالے فوجی افسروں/جوانوں کے گھرانوں کو جس قدر نقصان ہوا ۔اُسکا ازالہ ؟؟؟؟سوالیہ نشان کیوں ؟اگر چہ فوج نے 2012سے شہداء کی یاد میں تقریبات کا ایک سلسلہ شروع کررکھا ہے ۔مگر اب تک ان تقریبات میں شہیدوں کے جذبوں اور فوج کے ارفع و اعلیٰ پیشہ وارانہ کردار کو کس قدر موضوع بنایا گیا؟نہ ہونے کے برابر ۔۔۔وجہ؟؟1948سے 1965اورپھر1971کے شہیدوں کو کب کا بُھلایا جاچکاہے۔اب تو اُنکی تفصیلات بھی ؟؟؟جس طرح نائیک سید محمد حسین شاہ اپنے جذبوں کیساتھ دشمن کے مقابلے میں شہید ہوئے ۔فوج نے اُنھیں شہید کے طور پر وقت کیمطابق واجبات دئیے ۔پنشن بھی دی ۔میڈلز بھی دئیے ۔۔لیکن شہید کے پیچھے والدین اور رہ جانیوالے بیوی بچے بھی شہید ہوئے ؟اُنھیں کس نے پوچھا؟کبھی اُنکی ویلفیئر ہوئی؟؟؟؟حالت یہ ہے کہ’’رواں سال یوم دفاع پر مظفرآباد میں منعقدہ مری گریژن کے تحت تقریب شہدائے پاکستان کے دوران نائیک سید محمد حسین شاہ کے لواحقین کے طور پر راقم نے آندھی طوفان کی زد میں آکر تباہ شدہ مکان کی تعمیر کیلئے وسائل مہیا کرنے کی تحریری استدعا کی تھی ۔لیکن اب ساڑھے تین ماہ گزر چکے ۔گراؤنڈ چیک تک نہیں کیا گیا ۔چہ جائیکہ عملی طور پر کوئی پیش رفت ہوتی ۔۔۔۔۔۔حالانکہ ’’شہداء کی یاد میں فوجی تقریبات کے دوران فوج کے اعلیٰ افسران/جرنیل ’’براہ راست‘‘ باقاعدہ طور پر شہداء کے گھرانوں سے اُنکو درپیش مسائل ومشکلات بارے معلومات لیتے ہیں ۔اس کے باوجود اگر توجہ دلائے گئے مسائل پر کوئی عملی پیش رفت نہ ہوتو؟؟؟؟؟؟ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان آرمی کی لیڈر شپ حالیہ سالوں سے جاری اصلاحاتی عمل میں سست روی کے خاتمے پر توجہ دے ۔اور 1948سے لیکر پاک بھارت جنگوں ،معرکوں اور نئی طرز کی جنگ کے شہیدوں تک سب کے گھرانوں کی جانب فوری توجہ کا عمل یقینی بنائے ۔اور جہاں تک ممکن ہو ۔جس علاقے میں کوئی شہید مدفن ہے ۔وہاں مقامی بٹالین ،فارمیشن کی نگرانی میں سالانہ تقریب کا اہتمام یقینی بنایا جائے ۔تاکہ ہر شہید کے متعلقہ علاقہ میں موجود بعض مسائل اُسی تقریب کی وساطت سے حل ہوں ۔نیز فوج اور عوام میں مضبوط روابط کیلئے شہداء سے متعلق علاقوں میں گاہے بگاہے مسائل بارے معلومات لی جائیں تو اس سے بھی شہید کی قربانی کی اہمیت و احترام کا تاثر بڑھے گا ۔اور مقامی لوگوں میں فوج کے وقار میں اضافہ ہونے کیساتھ ساتھ مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل ہوسکیں گے۔۔۔۔اللہ رب العزت پاکستان کا حامی و ناصر ہو ،کشمیریوں کو اپنی منزل نصیب ہو اور ارباب اختیارکو شہیدوں کی قربانیوں کا احترام واحساس کرنے کی توفیق ملے۔آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ازقلم :سفیرحسین کاظمی ،چیئرمین شہدائے وطن میڈیا سیل اے کے زون 
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




There is no item in the database table to display at the moment.



Comments

There is no Comments to display at the moment.



Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved