تازہ ترین  
loading...

جیب کترا
    |     1 month ago     |    طنزومزاح
 بس سے اتر کر جیب میں ہاتھ ڈالا ۔
میں چونک پڑا ۔
جیب کٹ چکی تھی ۔ جیب میں تھا بھی کیا؟
کل نو روپے اور ایک خط جو میں نے ماں کو لکھا تھا :

” میری نوکری چھوٹ گئی ہے، پیسے نہیں بھیج پاؤں گا ۔ “

تین دنوں سے وہ پوسٹ کارڈ جیب میں پڑا تھا، پوسٹ کرنے کی طبیعت نہیں ہو رہی تھی ۔ نو روپے جا چکے تھے ۔ یوں تو نو روپے کوئی بڑی رقم نہیں تھی ___ مگر جس کی نوکری چھوٹ گئی ہو اس کے لیے نو سو سے کم بھی نہیں ہوتی ہے ۔

کچھ دن گزرے ____ ماں کا خط ملا ۔

پڑھنے سے پہلے میں سہم گیا ۔ ضرور پیسے بھیجنے کو لکھا ہو گا ۔ لیکن خط پڑھ کر میں حیران رہ گیا !
ماں نے لکھا تھا :
” بیٹا ! تیرا بھیجا پچاس روپے کا منی آرڈر ملا ۔ تو کتنا اچھا ہے رے ! ____ پیسے بھیجنے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتا ۔ “

میں کافی دنوں تک اسی ادھیڑ بُن میں رہا کہ آخر ماں کو پیسے کس نے بھیجے؟

کچھ دن بعد ایک اور خط ملا ۔
آڑی ترچھی لکھاوٹ ۔ بڑی مشکل سے سے پڑھ سکا :

” بھائی نو روپے تمہارے اور اکتالیس روپے اپنے ملا کر میں نے تمہاری ماں کو منی آرڈر بھیج دیا ہے ۔ فکر نہ کرنا، ماں تو سب کی ایک جیسی ہوتی ہے نا !
وہ کیوں بھوکی رہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا جیب کترا

Like Apkibat on Facebook
www.facebook.com/apkibat1
loading...
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved