تازہ ترین  

میاں محمداشرف عاصمی کا قومی کارنامہ ’’قانون کی حاکمیت‘‘
    |     4 months ago     |    گوشہ ادب
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی نامی گرامی شخصیت ہیں موصوف کے کالم پاکستانی اخبارات میں تسلسل سے شائع ہوتے رہتے ہیں موصوف کی تحریریں گالم گلوچ یا چٹ پٹے پکوانوں کی وضاحت نہیں دیتیں بلکہ مادرِ ملت میں ستر دہایؤں سے الجھی قانونی پیچیدگیوں کا حل پیش کرتی ہیں موصوف کو قانون پر گہری دسترس حاصل ہے جناب اشرف عاصمی صاحب ممتاز محقق اور ریسرچ سکالر ہیں ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ موصوف عقیدت اہل بیت اورحب مصطفی سے سرشار ہیں جو ایک مسلمان کے ایمان کا بنیادی جز ہے موصوف کا تعلق لاہور ہے جو پنجاب کا دل ہے اورپنجاب پاکستان کا دل ہے موصوف بزرگ صوفی حکیم عنائیت قادری نوشاہی ؒ کے زیرتربیت رہے اعلیٰ تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی گزشتہ دوعشروں سے درس وتدریس سے وابستہ ہیں موصو فبرصغیر پاک وہند کے عظیم صوفی بزرگ حضرت حافظ میاں محمد اسماعیل ؒ المعروف حضرت میاں وڈا صاحبؒ لاہوری کے خانوادے سے تعلق ہے صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کے دادا حافظ میاں محمد اسماعیلؒ اور پرداد حضرت حافظ میاں محمد ابراہیمؒ متحدہ ہندوستان میں پولیس کے محکمہ میں بطور افسر خدمات انجام دیتے رہے ہیں ان کا خاندان صدیوں سے لاہور میں رہائش پذیر ہے لاہور میں بھاٹی دروازے کے بائیں جانب مسجد ابراہیمؒ اِن کے پرداد اکے نام سے منسوب ہے جو اُنھوں نے تعمیر کروائی تھی محترم عاصمی صاحب انسانی حقوق کے حوالے سے انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں ہیومن رائٹس کمیٹی پنجاب لاہور ہائی کورٹ بار کے چےئرمین ہیں اور تحفظ ناموس رسالتﷺ کمیٹی لاہور بار ایسوسی ایشن کے بانی و چےئرمین ہیں محترم صاحبزادہ عاصمی صاحب کی زیرنظر کتاب’’ قانون کی حاکمیت ‘‘ قارئین کے لیے ایک لاجواب تحفہ ہے عام وخاص اس سے مستفید ہوسکتے ہیں یہ وہ خدمت ہے جس پر محترم صاحبزادہ عاصمی صاحب کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے وہ اس لیے کہ اگر انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو پاکستان کے مروجہ قوانین کی تحقیق کے حوالے سے بہت کم لکھا گیا ہے جس پر بہت پہلے لکھا جانا چاہیے تھا مگر نہیں لکھا گیا اس سقم اورکمزوری بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ کام اہل ارباب علم دانش پر قرض تھا اس قرض کو احسن طریقے سے اہل علم کے کندھوں سے اتارنے کی خدمت صاحبزادہ میاں محمداشرف عاصمی کے حصہ میں آئی ہے کہ اعلی عدلیہ کے فیصلہ جات اور قانونی نظائر کی عام فہم تشریحات کا مجموعہ کتابی صورت میں تحریر کیا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اِس کے باسیوں کے مابین رہنے سہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھے بُرے برتاؤ کے کچھ اصول و ضوابط ہوا کرتے ہیںیہ اصول و ضوابط ہر معاشرے کے لیے الگ الگ ہوتے ہیں گویا ہر معاشرے یا گروہ ایک دوسرے سے الگ الگ زندگی کے اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔اسی رہن سہن کے نفاذ کے سبب ہی اس معاشرے کی پہچان ہو پاتی ہے جو لوگ اپنے اپنے معاشرے کی پیروی کرتے ہیں وہی لوگ اس معاشرے کے پرامن شہری کہلاتے ہیں پر امن شہری سے مراد پر امن ماحول، پرامن ملک اس لیے عالمی سطح پر اقوام کے مابین طے پاجانے والے معاہدے عالمی اصول و ضوابط کی شکل اختیار کر جاتے ہیں جنہیں اقوام عالم کے مابین تعلقات کو پرامن بنانے کے لیے زیر بحث لایا جاتا ہے گویا آج کا انسانی ذہن اس بلند ترین سطع تک رسائی حاصل کر چکا ہے جہاں سے آسانی سے ہر کوئی یہ کہتا نظر آتا ہے کہ قوانین سے عدم آگہی و عدم شناسی ناقابل قبول بہانہ ہے یہ بات نہ صرف انسانی نقطہ نظر کی ترقی بلکہ معاشری ترقی کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے مگر وہ معاشرے جہاں لوگوں میں ناخواندگی کی شرح بہت زیادہ ہو علم کی کمی ہو سکولوں میں تعلیم ادھورہ چھوڑنے کا رحجان بہت زیادہ ہو بنیادی انسانی حقوق سے محرومی بلکہ ناواقفیت بھی عام ہو وہاں کون قانون طلب و رسد کی بات کرے اگر کوئی کرے بھی تو کس حد تک کرسکتا ہے جبکہ تیسری دنیا کے ممالک نو آبادیاتی نظام کا حصہ رہے ہیں اس لیے ان ممالک میں ایک بڑا مسئلہ قومی زبان کا بھی ہے ایسے ممالک میں عام طور پر حکمران ممالک کی زبان میں کاروبارحکومت چلا رہا ہوتا ہے جس کے سبب ان ممالک کے عوام علوم وفنون اور خصوصاً قانونی معاملات اور اپنے بنیادی حقوق سے نابلد رہتے ہیں یا انہیں جان بوجھ کر نابلد رکھا جاتا ہے موصوف نے علم آگہی کی شمع کو روشن کرنے کی بے مثال سعی کی ہے اس معاشرے میں جہاں کروڑوں افراد صحت و صفائی اور پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں ناخواندگی کی سطع خطے کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں سب سے بلند ہے سکول و کالج کی بنیادی تعلیم سے لاکھوں افراد دور رہنے پر مجبور ہیں جہاں شعور کا فقدان ہووہاں حقوق کا تحفظ کیسے ممکن ہے جہاں بنیادی قانونی کت غیرملکی زبان میں ہوں وہاں کے افراد قانون کی پیچیدگیوں سے کیسے آشنا ہوسکتے ہیں کیسے اپنادفاع کرسکتے ہیں اس سقم اورقرض کو ادا کرنے کے لیے زیرنظر کتاب" قانون کی حاکمیت " خصوصاً قومی زبان اُردو میں تحریر کی ہے جس میں خصوصیت کے ساتھ ایسے قانونی موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے جو کہ عوام النا س کی زندگی کے قریب ہیں صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے کتاب میں انتہائی ریسرچ کے حامل مضامین لکھے ہیں یہ کتاب نہ صرف قانون کے طالب علموں، صحافت سے وابستہ افراد اور عام قارئین کے لیے انتہائی سود مند ہے بلکہ اِس کے ساتھ ساتھ یہ کتاب سول جج، ایڈیشنل سیشن جج، پبلک پراسیکیوٹرز کے امتحانات میں بھی ممدو معاون ثابت ہو گی زیرنظر کتاب ہر اعتبار سے قابل مطالعہ ہے یقیناًیہ کتاب ہمارا قومی اثاثہ ہے میں دل اتھاگہرائی سے جناب صاحبزادہ میاں اشرف عاصمی صاحب کو پیشگی مبارک باد پیش کرتا ہوں اللہ تعالیٰ موصوف کی اس خدمت کو شرف قبولیت سے نوازے کتاب کو شائع کرنے کا شرف عرفان لاء بکس پبلشرز ٹرنر روڈ نزد ر ہائی کورٹ لاہور کو حاصل ہوا ہے کتاب کی طباعت نہایت دیدہ زیب اوردلکش ہے کتاب کا ضرور مطالعہ کریں دوست احباب کوتحفہ دیں تاکہ عام وخاص قانون کی حاکمیت سے باخبرہو اور قانون کی افادیت اوراہمیت سے آشنا ہواللہ تعالیٰ موصوف کو کامیاب وکامران کرے اور موصوف کی کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے شکریہ عاصمی صاحب۔ 
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved