تازہ ترین  

ٹوٹی ہوئی سڑک میری نظر میں
    |     9 months ago     |    گوشہ ادب
محمد جمیل اختر کی ٹوٹی ہوئی سڑک میرے سامنے پڑی ،مجھ سے سوال کر رہی ہے۔جسے میں مکمل پڑھ چکا ہوں اور یہ اِن کی پہلی کتاب ہے۔ یہ ایک کتاب ہی نہیں بلکہ اس میں اِن کی زندگی کے نشیب وفراز بھی ہیں اور اگر میں یوں کہوں کہ پوری کائنات کے راز و نیاز ،درد و الم کی باتیں کرتی خوبصورت کتاب ہے تومیں حق بجانب ہوں گا۔
محمد جمیل اختر سے میرا دوستانہ تب سے ہے جب میں پہلا افسانوی انتخاب مرتب کر رہا تھا تو موصوف نے مجھے افسانہ بھیجا اور وہ ’’قفس میں رقص‘‘کی زنیت بھی بنا۔محمد جمیل اختر کی زندگی کے نشیب و فراز ان کی کتا ب ’’ٹوٹی ہوئی سڑک ‘‘سے آشکار ہو تے ہیں ۔ہر افسانے میں وہ کہیں نہ کہیں موجود ہیں ۔کہیں خاموشی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں تو کہیں چیخ چیخ کر زمانے کے ستم کی باتیں کرتے ہیں ۔
جب تک آپ ٹوٹی ہوئی سڑک کا حُرف حُرف نہ پڑھ لیں گے آپ کو کچھ بھی معلوم نہیں پائے گا کہ محمد جمیل اختر کیا کہتے ہیں اور کیا کہنا چاہتے ہیں ۔محمد جمیل اختر کے پاس کہانیوں کا جہاں آباد ہے ۔اُن کا قلم رواں ہے اور قاری اُن کی تحریر میں گم ہو جاتا ہے ۔
ٹوٹی ہوئی سڑک 120صفحات پر مشتمل خوبصورت معیاری اور اچھی کتاب ہے ۔جس میں کل سولہ افسانے اور 26مختصر کہانیاں ہیں ۔یہ کتاب پاکستان ادب پبلشرنے بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے جن کی پالیسی ہی No profit No lossہے ۔اس خوبصورت کتاب کی قیمت صرف 300روپے ہے اور اس کی پہلی اشاعت دسمبر2017ء میں ہوئی ہے۔
انتساب ’’ماں جی اور اباّجی کے نام کیا گیا ہے ۔پیش لفظ میں خوبصورت بات کہی گئی ہے کہ ’’میں نے جو کچھ کہنا تھا افسانوں میں کہہ دیا ہے ‘‘بڑی گہری بات ہے ۔یہ اب قاری پر منحصر ہے کہ وہ محمد جمیل اختر کی ٹوٹی ہوئی سڑک میں کہاں تک اُن کی بات سمجھ سکتے ہیں اور اُن کو تلاش کر سکتے ہیں ۔اِس کتاب پر جاوید انور ،اقبال خورشید اور محمد حامد سراج نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔یہ تینوں نام ہی معتبر ہیں اور محمد جمیل اختر کی خوش بختی ہے کہ ان لوگوں نے ان کی پہلی کتاب پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے ۔
ٹوٹی ہوئی سڑک کا پہلا افسانہ ’’ریلوے اسٹیشن ‘‘ہے۔ریلوے اسٹیشن کا بشارت اور کمال احمد ایک دوسرے کے دوست تو ہیں لیکن ان دونوں کو ملانے والا ریلوے اسٹیشن ہی ہے لیکن دونوں وقت کی بے رحم لہروں میں ایسے گم ہو جاتے ہیں کہ تیس سال بعد ایک دوسرے کو پہچان نہیں پاتے۔ وقت کی دُھول میں سب کچھ گم ہو جاتا ہے شاید ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے ۔
’’ٹک ٹک ٹک ‘‘وقت پر لکھا گیا خوبصورت افسانہ ہے ۔کہتے ہیں وقت بڑا بے رحم ہوتا ہے ،یہ کسی پر رحم نہیں کرتا ،کوئی مرے یا جیئے،یہ کبھی نہیں رُکتا اور یہی وقت ہے کسی پر قہر بن کر آتا ہے تو کسی پر گلستان بن کر ۔کسی کے لئے رحمت تو کسی کے لیے زحمت بن جاتا ہے۔کتنی عجیب بات ہے کہ وقت کو کوئی غم نہیں ہوتا اور اس کی رفتا ر بھی کبھی دھیمی نہیں ہوتی ۔
’’ایٹومو سو‘‘خوب صورت افسانہ ہے ۔خوف کوئی بھی ہو اِنسان کی زندگی کوروگ بنا دیتا ہے ۔کیا ہی اچھا ہوتا انسان کسی خوف و خطرے کے بغیر زندگی بسر کر پاتا ۔خوف نہ ہوتا تو زندگی کبھی ختم ہی نہ ہوتی۔’’وہ آنکھیں ‘‘آہ ! کیا افسانہ ہے ۔حقیقت آشکار کرتا عمدہ افسانہ ۔بے گناہ آنکھیں ،جیل گاڑی میں قید ہیں اور آزاد لوگوں سے سوال کر رہی ہیں کہ ہمارا قصور کیا ہے ۔کس جُرم کی سزا پائی ہے ۔
’’اُداس ماسی نیک بخت‘‘ماسی نیک بخت کے ارمان سسکیوں کے نذر ہو جاتے ہیں ۔وہ سب کچھ قربان کر چکی ہے لیکن جس گھر ،جس مٹی کے ساتھ اس کی یادیں وابسطہ ہین ۔ان کو چھوڑنا نہیں چاہتی حالانکہ اس کے سبھی ہمسائے اور عزیز یہاں سے چلے جاتے ہیں ۔ماسی نیک بخت اپنے شوہر کی یادوں کو سینے سے لگائے اکیلی رہ جاتی ہے ۔
’’میں پاگل ہوں‘‘کمزور دِل والے یہ افسانہ نہ پڑھیں ۔واقعی یہ پاگل کر دینا والا افسانہ ہے ۔اس کے اندر بہت گہر ی بات کی گئی ہے ۔اس کا کردار پاگل نہیں تھا لیکن سرمایہ دارانہ نظام نے پاگل بنا دیا اور خود کو پاگل بنا کر آخر پاگل خانہ میں چلا گیا۔
’’کس جُرم کی سزا پائی ہے ‘‘پاکستان کی جیلوں میں ہزاروں ایسے لوگ قید ہیں جن کو پتا تک نہیں کہ کس جُرم کی سزا پائی ہے۔بیچارے وہ خود سے ہی سوال کرتے ہیں کس جُرم کی سزا پائی ہے ۔ان کو یہاں تک خبر نہیں ہوتی کہ ہم جیلوں میں کیوں قید ہیں ۔یہاں کس لیے لائے گئے ہیں ۔بڑا درد ناک افسانہ ہے ۔
’’ٹوٹی ہوئی سڑک‘‘ کی بات کی جائے تو یہ اپنے اندر گہرے زخم لیے ہوئے ہے اس میں’’میں‘‘افسانہ کچھ اور ہی کہہ رہا ہے ۔خود کو تلاش کرتا ’’میں ‘‘خوبصورت استعارہ ہے ۔ٹکٹ چیکر میں خوبصورت بات کہی گئی ہے کہ بعض اوقات اِنسان جہاں ہوتا ہے حقیقت میں وہاں نہیں ہوتا ۔ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس کے زندگی کے قیمتی چالیس سال ٹکٹ کاٹتے گزر جاتے ہیں ۔اور اس کے بعد جب وہ ریٹائرڈ ہوتا ہے تو پاگل ہو جاتا ہے اور شہر کی گلیوں میں ’’ٹکٹ چیکر ‘‘کی آوازیں لگاتا ہے ۔آہ ! کتنا در د ہے اس افسانے میں ۔
ایک بوڑھا اور جنٹلمین بھی خوبصورت افسانہ ہے ۔’’دُنیا کا آخری کونا‘‘میں بے بسی ،اُداسی ،مایوسی کی انتہا کی باتیں کی گئیں ہیں ۔سچائی کا آئینہ دکھاتی خوبصورت تحریر ہے ۔اس کے کردار کی بزدلی کی انتہا دیکھئے ،زمانے کے درد و الم سے دلبرداشتہ ہو کر چھلانگ لگانے گیا تھا لیکن پھر بھی واپس لوٹ آیا۔اصل میں وہ زندگی سے پیار کرتا تھا ۔وہ مرنا نہیں چاہتا تھا۔
’’دُھند میں لپٹی شام‘‘میں موجود ہ دُور کے سب سے اہم المیہ کی طرف اشارہ دیا گیا ہے ۔یوں یہ افسانہ آج کے سیاسی ،حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے ۔اِنسان کو پڑھ لکھ کر بھی روز گار نہ ملے ،کوئی جاب نہ ملے اور ان پڑھ ایوانوں میں اقتدار سنبھالے بیٹھے ہوں تو انصاف کا خون نہیں ہو گا۔ایسے لوگ مجبور ہو کر ہتھیار ہی اُٹھالیتے ہیں اور پھر مجرم بن جاتے ہیں ۔یوں یہ مجبور اِنسان اپنے ساتھ ساتھ ،اپنے ساتھ وابستہ زندگیوں کا بھی خاتمہ کر جاتے ہیں ۔غریب کے بیٹے پڑھ لکھ تو جاتے ہیں لیکن اُن کا پڑھنا بے کار جاتا ہے۔
’’استاد جی ‘‘بہت پیارا افسانہ ہے ۔جس میں شاگرد کو پچھتاوے کی آگ میں جلتا ہوا پیش کیا گیا ہے ۔جذباتی فیصلہ ہی پشیمانی کا باعث بنتے ہیں ۔مختصر کہانیوں میں روشنی نے متاثر کیا۔کئی لوگ آنکھیں رکھتے ہوئے بھی روشنی سے محروم ہوتے ہیں اور کئی دِل کی روشنی سے دُنیا کو دیکھتے ہیں ۔’’حل‘‘میں مجبور،غریب باپ اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لیے یہ حل نکال لیتا ہے کہ میرے پاس بائیسکل ایک ہے،ریڑھی ایک ہے لیکن گردے دو ہیں ۔ایک گردہ فروخت کرکے اپنے بیٹے کی جان بچا سکتا ہوں ۔زمانے کو آئینہ دکھاتی مختصر کہانی ہے۔طوفان ،چاہے ریت کا ہویا پیٹ کا بڑا خطر ناک ہوتا ہے ۔’’خوف ‘‘ میں اگر انسان متبلا ہو جائے تو زندگی جی نہیں سکتا ۔جس سے ڈرنا چاہیے اُس سے تو انسان ڈرتا نہیں اور جن سے خوف نہیں کھانا چاہیے ان کے خوف میں مبتلا ہو کر زندگی کو عذاب بنا لیتا ہے۔اسی طرح موجودہ دُور کی وبا ’’سوشل میڈیا میں گِرا تنہا آدمی ‘‘حقیقت عیاں کر رہا ہے۔فیس بک پر ہزاروں دوست اور ہمسائے تک کی خبر نہیں ۔آج کا انسان کہاں کی ترقی کر گیا ہے۔اسی طرح’’ تیزاب‘‘ معاشرے کے ناسوز کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔
’’ٹوٹی ہوئی سڑک‘‘ میں خوبصورت اور حقیقت کے قریب تر تحریریں ہیں لیکن مکمل کتاب پڑھنے کے بعد میں لکھاری ’’محمد جمیل اختر سے اختلاف رکھنے میں حق بجانب ہوں ۔محمد جمیل اختر نے زمانے کے دُکھ ،درد ،تکلیفیں ،پریشانیاں عیاں کی ہیں لیکن قاری کے چہرے پر مسکراہٹ کے پھول کھلانے سے قاصر رہا ہے ۔دُکھوں کا پرچا ر تو ہر کوئی کرتا ہے کیا ہی اچھا ہوتا محمد جمیل اختر دُکھوں ،تکلیفوں کا آشکار کرتے کرتے قاری کو پل بھر کی خوشی بھی دے دیتا ہے۔
ٹوٹی ہوئی سڑک کتاب سفید اور خوبصورت کاغذپر شائع کی گئی ہے۔پوری کتاب میں کمپوزنگ کی صرف6غلطیاں ہیں ۔میں محمد جمیل اختر کو پہلی کتاب کی اشاعت پر مبارک باد دیتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں ان کا قلم اپنا سفر جاری و ساری رکھے گا اور اچھے اچھے افسانے تخلیق کرے گا۔انشااللہ!





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved