تازہ ترین  

سن لو اے وطن کے عزیزو! کشمیر ہمارا ہے
    |     4 months ago     |    پاکستان

کشمیر کا لفظ اہلِ پاکستان کے لئے ایک محبوب، مقدس اور محترم حیثیت رکھتا ہے۔ اس خطہ ارضی سے اہلِ پاکستان کی محبت بلکہ عشق آج کا نہیں۔ یہ تو ’’ قصّہ ہے صدیوں کا‘ دوچار برس کی بات نہیں‘‘ والا معاملہ ہے۔ آزاد کشمیر ریاست جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہے جو اس وقت پاکستان کے زیر انتظام ہے۔کشمیر برصغیر پاک و ہند کا شمال مغربی علاقہ ہے۔ تاریخی طور پر کشمیر وہ وادی ہے جو ہمالیہ اور پیر پنجال کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان میں واقع ہے۔
اس کا باقاعدہ نام ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے جس پر پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعہ ہے۔کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان میں تنازعے کی اہم ترین وجہ یہ ہے بھارت سارے کشمیر کے وسائل لوٹنا چاہتا ہے اور پاکستان کشمیرکو آزادی دلوانا چاہتا ہے۔ 1947 میںہندوستان کی تقسیم کے وقت تمام ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں کسی ایک سے الحاق کر لیں یا اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھیں، کشمیر مسلم اکثریتی ریاست تھی ، اسلئے ریاست کی عوام نے ہندو مہاراجہ کا بھارت سے الحاق کا فیصلہ تسلیم نہیں کیا اور عوام اس فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، بھارت نے ہندو مہاراجہ کے الحاق کو جواز بنا کر ریاست میں اپنی فوجیں داخل کردیں، دوسری طرف مجاہدین نے کشمیر کے بہت سے علاقوں پر مہاراجہ کا قبضہ ختم کرکے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقے پاکستان کے زیر انتظام دے دیئے۔لیکن آج تک بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کو کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا اور اب تک لاکھوں کشمیری شہید ہوچکے ہیں اور مسلسل قابض بھارتی افواج کی بربریت کا شکار ہیں۔دونوں ممالک کشمیر پر تین جنگیں لڑچکے ہیں جن میں 1947ء کی جنگ، 1965ء کی جنگ اور 1999ء کی کارگل جنگ شامل ہیں جو کہ 1971 کی جنگ بنگال کی وجہ سے ہوء ت?ی۔.بھارت اس وقت خطہ کشمیر کے سب سے زیادہ حصے یعنی 101،387 مربع کلومیٹر پر جبکہ پاکستان 85،846 اور چین 37،555 مربع کلومیٹر پر قابض ہیںآزاد کشمیر کا علاقہ اس وقت 13،300 مربع کلومیٹر (5،135 مربع میل) پر پھیلا ہے۔ آزاد کشمیر کا دار الحکومت مظفرآباد ہے اور ریاست آزاد جموں و کشمیر کی آبادی اندازہ 40 لاکھ ہے۔
حسین و خوبصورت،آبشاروں کی جھرْمٹ میں،سرسبز وادی کشمیر اللہ تعالی کی تخلیق کردہ خوبصورت شاہکاروں میں سے ایک شاہکار، پھل پھول،پودے، چرند پرند ، پہاڑوں اور نہروں کی خوبصورتیوں سے ہر وقت جگ مگ کرتا،دنیا میں جنت کا احساس دلانے والی خوبصور ت وادی جی ہاں ! یہ بات ہورہی ہے جنت کا ٹکڑا یعنی وادی کشمیر کی۔انہی خوبصورت مناظر کی وجہ سے مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر نے کہا تھا کہ "کشمیر زمین پر جنت ہے"وادی کشمیر پہاڑوں کے دامن میں کئی دریاؤں سے زرخیز ہونے والی سرزمین ہے۔ کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی اور دلکش مناظر کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور سیر و تفریح کے لیے لوگ بڑی تعداد میں آزاد کشمیر کا رْخ کرتے ہیں۔اقبال مرحوم نے کشمیر کے ظاہری حسن اور خوبصورتی کا نقشہ کس خوبصورتی کے ساتھ کھینچا ہے: پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب ،مرغان سحر تیری فضائوں میں ہیں بیتاب اوریہاں پہاڑی،ہندکو،گوجری،پنجابی اور پشتو زبان بولی جاتی ہیں۔آزاد کشمیر کی شرح تعلیم 65 فیصد ہے۔لیکن افسوس !اس بات پر ہے کہ یہ ہی حسین و سرسبز وادی یعنی وادی کشمیر کے لوگ ہمیشہ ہی ظلم وستم کا نشانہ بنے رہتے ہیں اور اسطرح یہ جنت کا حسین ٹکڑا جلادوں کے شکنجہ میں گھراہو ا ہے۔آئے دن یہ خبریں سننے کو اور دیکھنے کو ملتی ہیں کہ بھارتی جلاد پسند وں نے کشمیر کو جنگ کا میدان بنایا ہوا ہے۔ بہیمانہ تشدد اور بے گناہوں کا خون سر عام بہانا بچوں کو بوڑھوں کو اذیت ناک موت کے گھاٹ اْتارنا اور یہ ہی نہیں بلکہ عورتوں کی عزت و آبرو کو پامال کرنا بھی بھارتی جلادوں کے ظلم و ستم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ایک نہ ختم ہونے والی جنگ آج تک کشمیر کے معصوم اور بے گناہ عوام برداشت کر ہے ہیں ہر روز کئی کئی گھرانے اْجاڑ دینا اور یہ ہی نہیں بلکہ ایسی روح کانپ جانے والی سزائوں سے کشمیریوں کے دن کا آغاز ہوتا ہے کہ رات تک کئی بچے یتیم ،کئی عورتیں بیوہ اور کئی گھرانے بے آسرا ہوجاتے ہیں اور پھر اس طرح ظلم و ستم کی حالت میں غم سے نڈھال ،چور چور یہ لوگ جلد ہی موت کو گلے لگا لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں
کشمیر میں اسلام چودھویں صدی کے شروع میں ترکستان سے صوفی بلبل شاہ قلندر اور انکے ایک ہزار مریدوں کے ساتھ پہنچا۔آزاد کشمیر کی 98فیصد آبادی اور شمالی علاقہ جات کی 78 فیصدآبادی مسلمان ہے۔ کیونک? 12فیصد بلتستان میں اثنا عشری شیعہ جبکہ گلگت میں 10فیصد اسماعیلی شیعوں کی ہے۔ آزاد کشمیر میں اکثریت 98% فیصدآبادی سنی مسلم ہے۔
آج 5فروری ہے اور پوری قوم ‘ یوم یکجہتی کشمیر منا رہی ہے۔حالا نکہ ہر ذی عقل کو اس بات کا شعور ہے کہ کشمیر ڈے منانے سے ،ہڑتالیں،جلسے جلوس منانے سے کشمیر آزاد نہیں ہوسکتا ہے۔اس کے لیے جوانوں کا جذبہ ،حکمرانوں کا اقدام ،اعلی اقتدار میں سچے وعدے ،پاک فوج کی سرپرستی ،علمائے کرام کے سجدے وسجود کی دعائیں، مجاہدین کا خون ہی ہمارے کشمیر کو آزاد کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہے۔
اس کیلئے تاریخ کشمیرکا دلچسپ اور افروز واقعہ کا تذکرہ ضروری سمجھتی ہوں۔
13 جولائی 1931ء کا دن کشمیر کی تاریخ میں اس اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ یہی وہ تاریخ ساز دن ہے جب کشمیر کے بائیس فرزندان توحید نے یکے بعد دیگرے اذان دیتے ہوئے ڈوگرہ پولیس کی گولیوں کے نتیجے میں جام شہادت نوش کیا۔ اور یوں اپنے مقدس خون سے تحریک آزادی کشمیر کا نقطئہ آغاز کیاہے، وہاں یہ اس حقیقت کا بھی واضح طور پر تعین کر دیتا ہے کہ اس تحریک کے پیچھے کار فرماجذبہ بھی پہلے دن سے اسلام اور صرف اسلام تھا۔ اور نصب العین بھی اسلام اور صرف اسلام ہے۔
آج تک متحدہ اور ساری دنیا یوں ہی چپ سادھے بیٹھی تماشا دیکھتی رہتی ہے اس بحث کو کہ کشمیر پاکستان کا ہے؟ یا بھارت کا؟حالانکہ یہ بات بہت ہی واضح ہے اور وہ ایسے کہ بھارت کا یہ دعوی کرنا کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے بالکل غلط ہے کیونکہ یہ بات میں نہیں کہہ رہی بلکہ خود بھارتیوں کے رویوں سے ثابت ہے۔اگر کشمیر واقعی بھارت کا ہوتا یا پھر بھارت واقعی کشمیر کو اپنا مانتے تو یوں ہر روز اْن پر قیامت نہ ڈھاتے۔یوں جلاد وں کی طرح ہر روز ان کو موت کے گھاٹ نہ اْتارتے بلکہ اگر واقعی کشمیر کو وہ اپنے وطن کا حصہ مانتے تو اپنے ملک بھارت کی طرح کشمیر میں بھی امن و امان کی صورتحال قائم ہوتی۔ویسے ہی ترقیاتی منصوبوں کو تشکیل دینے میں سرگرم رہتی جیسے بھارت کی زمین میں مشغول ہیں۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ خدارا ! اقوام متحدہ کو اسطرح بے حس نہیں بیٹھنا چاہیے کہ جیسے کشمیر کا مسئلہ ناقابل حل بن گیا ہو انکے لیئے۔۔۔ آج صرف آپ لوگوں کے ایک منصفانہ فیصلے سے یہ جنت کا ٹکڑا جلادوں کے ہاتھوں سے تباہ و برباد ہونے سے بچ سکتا ہے۔آپ بھی ایک مرتبہ انسانیت کی خاطر اْٹھ کھڑے ہوں اور باقاعدہ بھارت اور پاکستان کے درمیان الیکشن کروالئے جایئں تو خود پتا چل جائے گا کہ کشمیر کل بھی پاکستان کے دل میں سمایا ہوا تھا اور آج بھی کشمیری عوام پاکستان کو ہی اپنا اصل وطن مانتے ہیں۔کشمیر ہمارا ہے !یہ دنیا کو بتا دو
بہت دیکھ چْکے ہم جلتے ہوئے لاشے
دریاوں میں بہتے ہوئے خوں کے دھارے
آزادی کے پروانوں کی ہر ایک قربانی
رائیگاں نہ ہوگی توْ جتنے بھی ستم ڈھالے
میرے وطن کے لوگو ! بھارت کو یہ کہے دو
کشمیر ہمارا ہے !یہ دنیا کو بتا دو
سہہ چکے بہت ہم !کشمیر سے بچھڑنے کا غم
یہ جنت ہے ہماری!اسے کھو نہیں سکتے ہم
تیری کوئی بھی تدبیر اب کام نہ آئے گی
آزادی کا نعرہ ہے!جو کبھی نہ ہوگا کم
یہ جاں ہے ہماری!ہمیں ہے مرنا بھی گوارا
ہر چشم میں ہے زیبا!اسکا ہر دل آویز نظارہ
ہم چھین لیں گے بھارت سے!اس حسین گلستاں کو
لوگو!ناز ہے ہم کو ازل سے!سن لو !ہے کشمیر ہمارا!
میرے وطن کے لوگو ! بھارت کو یہ کہہ دو
کشمیر ہمارا ہے !یہ دنیا کو بتا دو 
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved