تازہ ترین  

پانی پت
    |     9 months ago     |    شاعری
مجھے کیوں خود سے وحشت ہو رہی ہے
مری الجھن
مرے سینے کی دھڑکن
وقت کے میدان میں نوبت کے پٹنے
خودوں پر آہنی ڈھالوں کی تالوں سے
کسی بھونچال کے اٹھنے کا کیوں سندیش دیتی ہے
یہ کیسی جنگ ہے
جو خیمہ گاہ ہست کو ہر گاہ
گرجتے بادلوں کا لشکری مسکن بتاتی ہے
انہیں جینے سے نفرت
موت سے نظریں ملانے، رجز گانے،
گردنوں سے بہنے والے خون کی خوشبو سے بہکے موسموں کے
نت نئے نخرے اٹھانے
ساعتوں کا زر لٹانے، اور اجل کے بازوؤں میں رقص کا آدیش دیتی ہے
یہاں ہستی کے رن میں سورما لشکر کا سینہ چیرتے
ڈھالوں سے نیزوں کی اناؤں کو دھنادھن پیٹتے
دشمن کی شمشیروں کو اپنی شہہ رگوں پر مانگتے
بدمست فیلوں کی طرح وحشت میں بس ڈکرا رہے ہیں
مگر دشمن تو دشمن ہے
بھلا دشمن کے دل سے رحم کی امید کیسی
دین کا امکاں کہاں،
اور ایسے میں رہائی کا کسی کو سوچنے سے کیا ملے گا
اور رن برپا رہے گا
کہ میری جان پانی پت کا وہ میدان ہے جس میں
شکست و کامرانی لشکروں کی آرزو یا خوف کا محور نہیں بنتی
یہ وہ لشکر نہیں جن کو
کسی بھی فیصلے کی راہ سے قصد رہائی ہو
یہاں کوئی نہیں ایسا اجل جسکو نہ لائی ہو
کہ اب ان لشکروں کی زندگی بس بے سبب لڑنا
سو لڑ کر بے طرح برباد ہونا ہے
یہی تو دل کا رونا ہے
مرا دل رو رہا ہے
اور اس رونے سے میری سانسوں کی الجھن بڑھ رہی ہے





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved