تازہ ترین  

پانی پت
    |     4 months ago     |    شاعری
مجھے کیوں خود سے وحشت ہو رہی ہے
مری الجھن
مرے سینے کی دھڑکن
وقت کے میدان میں نوبت کے پٹنے
خودوں پر آہنی ڈھالوں کی تالوں سے
کسی بھونچال کے اٹھنے کا کیوں سندیش دیتی ہے
یہ کیسی جنگ ہے
جو خیمہ گاہ ہست کو ہر گاہ
گرجتے بادلوں کا لشکری مسکن بتاتی ہے
انہیں جینے سے نفرت
موت سے نظریں ملانے، رجز گانے،
گردنوں سے بہنے والے خون کی خوشبو سے بہکے موسموں کے
نت نئے نخرے اٹھانے
ساعتوں کا زر لٹانے، اور اجل کے بازوؤں میں رقص کا آدیش دیتی ہے
یہاں ہستی کے رن میں سورما لشکر کا سینہ چیرتے
ڈھالوں سے نیزوں کی اناؤں کو دھنادھن پیٹتے
دشمن کی شمشیروں کو اپنی شہہ رگوں پر مانگتے
بدمست فیلوں کی طرح وحشت میں بس ڈکرا رہے ہیں
مگر دشمن تو دشمن ہے
بھلا دشمن کے دل سے رحم کی امید کیسی
دین کا امکاں کہاں،
اور ایسے میں رہائی کا کسی کو سوچنے سے کیا ملے گا
اور رن برپا رہے گا
کہ میری جان پانی پت کا وہ میدان ہے جس میں
شکست و کامرانی لشکروں کی آرزو یا خوف کا محور نہیں بنتی
یہ وہ لشکر نہیں جن کو
کسی بھی فیصلے کی راہ سے قصد رہائی ہو
یہاں کوئی نہیں ایسا اجل جسکو نہ لائی ہو
کہ اب ان لشکروں کی زندگی بس بے سبب لڑنا
سو لڑ کر بے طرح برباد ہونا ہے
یہی تو دل کا رونا ہے
مرا دل رو رہا ہے
اور اس رونے سے میری سانسوں کی الجھن بڑھ رہی ہے
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved