تازہ ترین  

کاغذ کی کشتیوں میں کناروں کی آرزو
    |     9 months ago     |    شاعری
یاں صرف وہ روا ہے جو اس کو روا لگے
بستی اجڑ رہی ہے تو کیا اس کو کیا لگے

اس کویہ ضدکہ شہرہو اونچی فصیل ہو
اس کی بلاسے اس میں گھٹن ہو ہوا لگے

کاغذ کی کشتیوں میں کناروں کی آرزو
حیرت کہ لوگ اس پہ کنارے بھی جا لگے

پہلے کب اعتبار تھا موسم کی آنکھ پر
جو اب بدل رہی ہے تو جی کو برا لگے

لو چا ندنی چراغ کی آنکھوں میں پڑگئی
لو شب کے راز دار دریچوں سے آ لگے

ٹوٹےپروں سے پوچھئے ہجرت کی آگ کا
سینے لگی ہو آگ تو گھر قید سا لگے

ہم میر کی زبان سے واقف نہیں ہنوز
اندھوں کو,سیر باغ کا چسکا ہے,کیا لگے

زاہد زبور زند گی پڑھتا ہوں بار بار
شاید کہ نور آنکھ کا سینے سے آ لگے





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved