تازہ ترین  

کاغذ کی کشتیوں میں کناروں کی آرزو
    |     4 months ago     |    شاعری
یاں صرف وہ روا ہے جو اس کو روا لگے
بستی اجڑ رہی ہے تو کیا اس کو کیا لگے

اس کویہ ضدکہ شہرہو اونچی فصیل ہو
اس کی بلاسے اس میں گھٹن ہو ہوا لگے

کاغذ کی کشتیوں میں کناروں کی آرزو
حیرت کہ لوگ اس پہ کنارے بھی جا لگے

پہلے کب اعتبار تھا موسم کی آنکھ پر
جو اب بدل رہی ہے تو جی کو برا لگے

لو چا ندنی چراغ کی آنکھوں میں پڑگئی
لو شب کے راز دار دریچوں سے آ لگے

ٹوٹےپروں سے پوچھئے ہجرت کی آگ کا
سینے لگی ہو آگ تو گھر قید سا لگے

ہم میر کی زبان سے واقف نہیں ہنوز
اندھوں کو,سیر باغ کا چسکا ہے,کیا لگے

زاہد زبور زند گی پڑھتا ہوں بار بار
شاید کہ نور آنکھ کا سینے سے آ لگے
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved