تازہ ترین  
loading...

سفیرِ ادب شاہینہ کشور
    |     3 weeks ago     |    تعارف / انٹرویو
ادبی شخصیات کے قلم سے عوام کے جذبوں کی ترجمانی ہوتی ہے ۔ شاعر ہو یا ادیب ، کالم نگار ہو یا مزاح نگار، وہ ان تمام مسائل بشمول سیاسی ، سماجی ، واردات قلبی کو نوکِ قلم کرتے ہیں اور معاشرے میں زندگی کی رمق پیدا کرتے ہیں اگر یہ لوگ بھی نہ ہوں تو معاشرہ مختلف استحصالی قوتوں کے ہاتھوں دم توڑ دے ۔ اسی لیے تو یہ لوگ معاشرہ کی آنکھ اور عوام کے دلوں کے ترجمان ہوتے ہیں۔شاہینہ کشور عہد حاضر کی ابھرتی ہوئی وہ شاعرہ ہیں جنہیں نسائی جذبوں ، سفیرِ محبت اور محبت کو نیا آہنگ و انداز دینے والی خوبصورت شعروں کی مالک خیال کیا جاتا ہے۔ ’’محبت آخری دکھ ہے‘‘ پہلی کتاب کا نام ہے جس میں انہوں نے بہت خوبصورت اندازِ اسلوب اور لفظی چناؤ سے محبت کے ساتھ ساتھ ، رشتہ داروں کی محبت اور عزیزو اقارب کے ساتھ دوستوں اورسکھیوں کے ساتھ جو اظہارِ محبت اپنایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔
وہ لگتا ہے مجھ کو اپنا اپنا سا
اور میں اس کو اپنی اپنی لگتی ہوں
شاہینہ کشور شہر اقبال میں پیدا ہوئیں ، گریجوایشن اسی شہر نایاب سے اور پھر لاہور کو اپنا تعلیمی مسکن بناتے ہوئے ایم ۔اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد ملتان شہر اولیاء میں ملازمت کا سلسلہ شروع کیا اور چند سالوں بعد ہی پیا گھر سدھا ری گئیں اور کینیڈا کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔ ادبی حلقوں میں شاہینہ کشور کو سفیر ادب کے لقب سے جانا اور پہچانا جاتا ہے جس کی وہ واقعتا مستحق بھی ہیں وہ ایک عرصہ سے کینیڈا میں مقیم ہیں مگر ان کے انگ انگ میں وطن کی محبت کا جذبہ بحرِ طلاطلم کی طرح موجزن رہتا ہے جس بنا پر وہ اکثر پاکستان کا چکر لگاتی رہتی ہیں اور جاتے ہوئے وطن کی ادبی خوشبو کے ساتھ ساتھ مٹی ، دھول کو بھی شعروں کی پٹاری میں بند کر کے لے جاتی ہیں جو تارکینِ وطن سے شعری پیرائے میں مختلف مشاعروں میں سخن فہموں کے گوش گزار کرتی ہیں تو ہر سو دادوتحسین اور واہ واہ کی خوشبو بکھیر دیتی ہیں ۔ 
مراد علی شاہد کی مزید تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
میں ایسے لوگوں کو کیسے بھولوں
جو میرے نخرے اٹھا رہے ہیں
’’محبت آخری دُکھ ہے‘‘ محض نظموں، غزلوں کا مجموعہ ادب نہیں بلکہ محبت ، سکھ، دکھ، ہجروفراق، طلب و جستجو ، ماں کی دعا اور صنفِ نازک کے لطیف جذبات کا ایک ایسا گلِ سرسید ہے کہ جس کی ایک ایک پتی سے شاہینہ کشور کے قلم سے لکھے حرف حرف میں جذبات و احساس کی خوشبو ہر سو بکھیرتے ہیں مگر دلِ بے چین کو سکوں پھر بھی میسر نہیں ۔ کوئی ادبی تخلیق ہو یا محبت ، نئی جستجو اور تلاش کو فلسفہِ زندگی خیال کرتی ہیں ۔
کہاں ہوا ہے سکوں میسر؟
ابھی بھی ہم کو تری طلب ہے
کمال دکھ ہے نئی محبت
نئے دنوں کی نئی طلب ہے
شاہینہ کشور کی شاعری کو معراج کمال میرے خیال میں اس وقت نصیب ہوا جب انہوں نے کوچہ دل کے نہاں خانوں میں ’’معراج محبت‘‘ کو بسا لیا یعنی عشق مصطفی ﷺ ۔ ان کی شاعری میں جب مودبانہ شعور و فکر اپنی معراج کو پہنچتا ہے تو یہی جذبہ عقیدت و احترام ، اسم محمدﷺ کے سامنے جھکی نگاہیں ، دراصل ان کی شاعری کو امر کردینے کے لیے کافی ہے۔ اللہ ان کے قلم میں محبت اور صرف محبت بھر دے (آمین)
اسم محمد کا صدقہ ہے
ارض وسما میں ہریا لی ہے 
loading...
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved