تازہ ترین  

دیا عشق میں جانا سنبھل کے
    |     8 months ago     |    شاعری
دیار عشق میں جانا سنبھل کے
اگر جانا تو پھر آنا سنبھل کے 

بہت پر پیچ ہیں جیون کی راہیں
تم ان راہوں پہ بل کھانا سنبھل کے

کہیں خوش ہو کے پتھر دے نہ مارے
کسی پاگل کو سمجھانا سنبھل کے 

نظر آتی نہیں تعبیر جن کی
مجھے وہ خواب دکھلانا سنبھل کے

تمہارا دل ہے شیشے کی طرح کا
اسے پتھر سے ٹکرانا سنبھل کے 

نہیں محفوظ اب آنچل کسی کا
جو لہراٸو تو لہرانا سنبھل کے

بہت نازک ہیں یہ زلفیں تمہاری
کسی شانے پہ بکھرانا سنبھل کے

مجھے تم سے گلہ کوٸی نہیں ہے
مگر اب سامنے آنا سنبھل کے 

کسی کے پیار میں لکھی غزل ہوں
مجھے ارشاد فرمانا سنبھل کے
.....................
شاعرہ: رقیہ غزل





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved