تازہ ترین  

دیا عشق میں جانا سنبھل کے
    |     4 months ago     |    شاعری
دیار عشق میں جانا سنبھل کے
اگر جانا تو پھر آنا سنبھل کے 

بہت پر پیچ ہیں جیون کی راہیں
تم ان راہوں پہ بل کھانا سنبھل کے

کہیں خوش ہو کے پتھر دے نہ مارے
کسی پاگل کو سمجھانا سنبھل کے 

نظر آتی نہیں تعبیر جن کی
مجھے وہ خواب دکھلانا سنبھل کے

تمہارا دل ہے شیشے کی طرح کا
اسے پتھر سے ٹکرانا سنبھل کے 

نہیں محفوظ اب آنچل کسی کا
جو لہراٸو تو لہرانا سنبھل کے

بہت نازک ہیں یہ زلفیں تمہاری
کسی شانے پہ بکھرانا سنبھل کے

مجھے تم سے گلہ کوٸی نہیں ہے
مگر اب سامنے آنا سنبھل کے 

کسی کے پیار میں لکھی غزل ہوں
مجھے ارشاد فرمانا سنبھل کے
.....................
شاعرہ: رقیہ غزل
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved