تازہ ترین  

بچیوں کے ساتھ درندگی آخر کب تک???
    |     6 months ago     |    کالم / بلاگ
سردیوں کی چمکدار صبح تھی شاید فروری 2001 ۔۔۔ ٹریفک اپنے معمول پر چل رھی تھی میں بھی حسب معمول آفس پہنچا سٹاپ پہ اترتے ھی تھوڑا آگے نطر پڑی تو کچھ لوگوں کا رش تھا یوں لگتا تھا جیسے کوئی ایسکسیڈنٹ ھواھو ۔۔قریب جاکر دیکھا تو اوسان خطا ھو گئے سڑک کنارے ایک نوجوان لڑکی کی لاش پڑی تھی جس کا منہ بری طرح جلا دیا گیاتھا شاید اس لئے کہ کسی کو مقتول کی شناخت نہ ھو سکے
رات کی تاریکی اور جنسی دردندگی کی تصویر بنی لاش سے کچھ پیچھےھٹ کر لوگوں میں مختلف باتیں گردش کر رھی تھیں توبہ توبہ استغفار کی آوازیں صاف سنی جا رھی تھیں کچھ دیر بعد پنجاب پولیس کی گاڑی آئی اھلکاروں نے 15 پر کال ھونے پر کاروائی کی پھر اس جلے منہ والی لڑکی کی لاش کو اٹھانے کا فیصلہ ھوا لاش سے تعفن و بدبو آ رھی تھی پولیس اھلکاروں نے لاش اٹھانے کا کہا تو میری طرح سب کے سب پیچھےھٹ گئے ایک بزرگ جو پاس ھی فیکٹری کے مالی تھے انہوں نے لاش کو اٹھایا اور کہا بھائی یہ بھی انسان کی بیٹی ھے اس سے اتنی نفرت کیوں کر رھے ھو ۔۔۔ لاش پوسٹمارٹم کے لئے گئی ھوگی
لاش کے ھینڈ پرنٹ لیکر دفنا دی گئی ھو گی اس پر ھونے والے ظلم کی داستان والی فائل نامعلوم مجرموں کے نام رپورٹ بنا کر بند کردی گئی ھوگی ۔۔ کسی ھسپتال کے سرکاری امام نے جنازہ بھی پڑھا دیا ھو گا ۔۔ مگر اس کا یہ حال کرنے والےدرندے آوارہ کتوں کی طرح آج بھی پھرتے ھوں گے اور آج بھی کہیں نہ کہیں اپنے شکار میں مست ھوں گے
یہ پرانی بات مجھے پچھلے سترہ سال میں بارھا یاد آئی جب بھی کہیں بنت حوا پہ ظلم ھوا حرص و ھوس کا واقعہ رونما ھوا ٹیلی فلم کی طرح سب کچھ سامنے چلنے لگا
زینب قتل کیس کا مجرم پکڑا گیا مظاھرے ھوئے ایف آئی آر عدالت کی کاروائی اور جیل تک کی معمول کی کاروائی ھوئی آھستہ آھستہ میت کی قبر کے ساتھ ساتھ بات بھی پرانی ھو گئی
میڈیا بھی خاموش ھو گیا ۔۔ آخر اس مجرم کا کیا بنا
کیا مجرم کا کچھ بن پائے گا
کیا اب ایسےواقعات تھم گئے ھیں یا مستقبل میں تھم جائیں گے
کیا اس منہ جلی جوان لڑکی کی روح ارباب اختیار کی کاروائی پر مطمئن ھے کیا زینب اور دیگر بیٹیوں نے ھمارے قانون کے علمبرداروں کو معاف کردیا ھو گا
۔۔۔ یہ ایسےسوالات ھیں جن کا جواب کسی کے پاس نہیں
جب تک یہ جوابات نہیں ملتے ھمارے معاشرے میں ھماری بچیوں کے ساتھ جانوروں والے سلوک ھوتے رھیں گے۔۔ نامعلوم بچیوں کی آبرو اور لاشیں ذلت کے کچرے پر گلتی سڑتی رھیں گی
خدارا قانون کچھ تو ایسا کرے کہ میں آپ اور سارا معاشرہ قانون پہ اعتماد کر سکیں
کچھ تو ایسا ھو کہ اللہ کریم کی رحمتیں نازل ھوں
اللہ کریم سے دعا ھے کہ اللہ ان معصوم کلیوں کی حفاظت فرمائے
پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائے اور ایسے حکمران عطا فرمائے کہ عدل عمری کی یاد تازہ ھو جائے
اور کچرا کنڈی سے ملنے والی لاشوں کی روحیں اطمینان محسوس کریں
ھزاروں منہ جلی لاشوں دردندگی کا شکار کائناتوں اور زینبوں پہ ھونے والے جرائم کا قلع قمع ھو سکے .






Comments

There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved