تازہ ترین  

دکھ
    |     6 months ago     |    شاعری
یہ بھی پیغام ہے کسی دُکھ کا
زندگی نام ہے کسی دُکھ کا

دُکھ ہزاروں اُسے ملیں گے، دوست!
جس کی بیٹی کو دُکھ کہیں گے، دوست!

خواب سارے بھلا دیے سُکھ کے
ہم خریدار بن گئے دُکھ کے

زیست کا راز پا لِیا ہے، جناب!
دُکھ کو سینے لگا لِیا ہے، جناب!

ابنِ آدم پہ اعتبار کِیا
بنتِ حوّا کو داغدار کِیا

جو خُوشی روٹیوں سے ملتی ہے
عمر بھر اُس کا انتظار کِیا

کیا سُناؤں کہ کیا کہانی ہے
دُکھ میں گُزری مِری جوانی ہے

رو رہی ہے گُلاب زادی جو
ابنِ آدم کی مہربانی ہے

ہم نے یہ سوچ کر نہیں کِیا، دوست!
عشق بھی نام ہے کِسی دُکھ کا

یہ بھی پیغام ہے کسی دُکھ کا
زندگی نام ہے کسی دُکھ کا





Comments

There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved