تازہ ترین  

تعبیرو تفہیم :تجزیاتی مطالعہ
    |     8 months ago     |    گوشہ ادب
مہذب اور غیر مہذب قوموں کے درمیان فرق صرف کتاب کا ہے۔کتاب افراد اور قوم کو تہذیبی لطافتوں سے ہمکنار کرتی ہے، انسانی زندگی کو سنوارنے اورنکھارنے کے ذیل میں کتاب کی اہمیت کونظر انداز نہیں کیا جاسکتا،کتاب ایک گلِ تر کی صورت ہوتی ہے جو اپنی مہک ،نرمی اور رنگوں سے ماحول کو خوش گوار بنا دیتی ہے۔ادبی حلقے میں عبدالعزیز ملِک کسی تعارف کے محتاج نہیں ان کا تحقیقی کام کوئی طویل عرصہ پر محیط نہیں مگر انہوں نے تھوڑے ہی عرصے میں اردو ادب کو انتہائی قیمتی سرمایہ مہیا کیا جس کی اہمیت کا اندازہ وقت ہی کرے گا۔ان کاادبی ذوق ہی اس بات کی دلیل ہے کہ آئے روز کوئی نہ کوئی مضمون کسی نہ کسی ادبی رسالے،تحقیقی مجلے اور ادبی فورم کی زینت بن کر منظرِ عام ہوتا ہے۔ ان کا پہلا تحقیقی کام’’مجلس ترقی ادب کی بیس سالہ خدمات‘‘ایم اے کے مقالے کی صورت میں سامنے آیا’’اردو افسانے میں جادوئی حقیقت نگاری‘‘ نے اردو ادب کو ایک نئی جہت سے روشناس کرایا۔’زبان وادب‘’انگارے‘’ققنس ‘اور پیلوں جیسے شماروں کے ساتھ ان کی وابستگی حقیقی معنوں میں ادب کے ساتھ محبت کی روشن مثال ہے۔ زِیرمطالعہ کتاب’’ تعبیروتفہیم‘‘ مثال پبلشرزفیصل آباد سے حال ہی میں چھپ کر منظرِ عام پر آئی یہ اکیس مضامین پر مشتمل ہے اس میں ایسے مضامیں شامل ہیں جو مختلف رسائل وجرائد کی زینت بنے ان کو کتابی صورت میں پیش کرکے اردو زبان و ادب کو نہایت قیمتی آراء سے مستفید کیا۔
’’جنگل والا صاحب‘‘بیپسی سدھوا ایک منجھی ہوئی ادیب کے روپ میں سامنے آتی ہیں انہوں نے اپنے ناولوں میں ہندوستان کی معاشرت میں پائی جانے والی روایات کی ایسی پرتیں کھولیں جن کی جانب کسی ادیب کی نظر نہ پہنچ سکی ۔فن ناول نگاری میں انہوں نے بے انتہاء علمی و ادبی ذخیرہ مہیاکیا حالات جیسے بھی آئے انہوں نے اپنی بصیرت کے مطابق اقلیتی افراد کی نمائندگی کو طرزِ تحریر کا حصہ بنایا۔ بیپسی سدھوا نے انگریزی ادب میں اپنے اس فن کا مظاہرہ کیا زیرِ مطالعہ ناولThe crow Eaterہندوستان میں موجود پارسی مکتبہ فکرکے افراد میں پائی جانے والی رسومات کی گرہیں کھولتا نظر آتا ہے جب یہ ناول منظر عام پر آیا اس کو بے انتہا ء تنقیدی نگاہ سے دیکھا گیا محمد عمر میمن نے اس کو اردو زبان کے قالب میں ’’جنگل والا صاحب‘‘کے نام سے ڈھال کر بہت سی مخفی باتوں سے پردہ اٹھایا یہ ناول بین الاقوامی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔بیپسی کے تمام ناول متنوع موضوعات کے حامل ہیں اور ہر موضوع کا برتاودیگر موضوعات سے یکسر مختلف ہے’’ جنگل والا صاحب ‘‘ میں عبدالعزیز ملِک کی تنقیدی فکر کُھل کر سامنے آتی ہے۔
’’گارشیا مارکیزاورمعاصرلاطینی امریکی فکشن‘‘اس مضمون میں گارشیا مارکیزاوراُس عہد میں تخلیق ہونے والے ادب کاپس منظرجغرافیائی اورمعاشرتی حالات کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔جب کسی ملک میں انسانی حقوق کی پامالی،غیر مساوی انسانی نظام،جبر،اعلی انسانی اقدار کی بے حرمتی،اپنے وطن سے بے دخلی،حقوقِ نسواں اوربچوں کا تحفظ،اپنے وطن میں بکھری یادوں کاکرب جب انسان کے ذہنی دریچوں کو ہلا ہلاکرپاش پاش کر دیتا ہے تو اُس وقت جو ادب تخلیق ہوتا ہے اُ س میں داستانوی رنگ کی آمیزش ضروری ہو جاتی ہے۔لاطینی امریکہ میں کچھ ایسا ہی ماحول نظر آتاہے جس سے چھٹکارااور ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے مارکیزاور اُس عہد میں لکھنے والوں نے ایسا منظر نامہ پیش کیا جسے عوام وقتی طور پرذہنی سکون اور وقت گزاری قرار دیتے ہیں کچھ ایسا ہی ادب برصغیر کے اندر نو آبادیاتی عہد میں پروان چڑھا۔
’’نو مارکسیت اورلوسی ایں گولڈ مان‘‘ انقلابِ فرانس جس میں مزدور اتحاد نے شہنشاہت کی بنیادیں چکناچور کر دیں اور دنیا میں آزادی کی ایسی نوید سنائی دینے لگی جس نے مزدوروں کو ایک مرکز پر جمع کر دیا جس کے نتیجے میں دنیا کے اندر بد امنی کی ایسی لہر اُٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس دوران کارل مارکس کا رسالہ’’کیپیٹل مینوفیسٹو‘‘منظرعام پر آیا جس کو مزدور اتحاد نے اپنا منشور بنا لیا اور آزادی کی جدو جہد شروع کر دی۔اس دوران تخلیقی ادب میں سرمایہ داروں کے استحصالی نظام کو موضوع تنقید
بنایا گیا ۔مارکسی نظریات کو ولادی میر لینن نے تقویت بخشی اور انقلاب روس رو نما ہوا مارکسی نظریات کے حامی ہر دور میں نظر آتے ہیں جن میں انٹونیولبر یولا،فرنزمحرنگ،کاؤٹسکی اور پلیخانوف کے نام قابلِ ذکر ہیں ان مفکریں نے مارکس اور اینگلز کی وفات کے بعد لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت تک کیمونسٹ پارٹی کی فکری قیادت کی ۔انہوں نے ذرائع پیداوار اور آلاتِ پیداوار کی تبدیلی کی صورت میں انسانی ذہن کی تبدیلی کو موضوع بنایااس رجحان میں’’انفراسٹرکچر(اساس یا معاشی ڈھانچہ)‘‘اور سپر سٹرکچر(بالائی ساخت) کی بحثیں شامل تھیں جبکہ مارکسی تنقید کا دوسرا دور جس کو نو مارکسی دور کہا جاتا ہے اس میں برتولت بریخت،تھیوڈواوڈرنو،میکس ہورخی مر،ہربرت مارکیز،والڑربخجمن اور لوسی این گولڈ مان کے علا وہ فرینکفرٹ سکول کے مفکریں شامل ہیں ان میں لوسی ایں گولڈ مان اہمیت کا حامل ہے جس نے مارکسیت کو نئی آہنگ سے متعارف کرایا اس کا سارا کام ایک ہی سوال کے گرد گردش کرتا نظر آتا ہے’’ ادبی اور فلسفیانہ متن میں کون مخاطب ہے؟‘‘ اس نے سماجی ساخت کو بین انفرادی عمل سے جوڑنے کی کوشش کی اس نے واضح کیا کہ پیداوری عمل میں بہت سے ہاتھ ملوث ہوتے ہیں اس نے اساس،اور بالائی ساخت کے بارے میں کہا کہ معاشرے کا سیاسی نظام میں، مذہب، قانون، فلسفہ ادب اور فنون سبھی معاشی پیداوار کے ذرائع متعین کرتے ہیں اسی بنیاد پر اس کو نو مارکسی نقاد تسلیم کیا جاتا ہے۔
’’کشور ناہید کی تحریروں میں تانیثی رجحان‘‘اس مضمون میں کشور ناہید کی تحریروں میں پائی جانے والی نسوانیت کی مہک کو بنیاد بناکر اپنے خیالات کی عکاسی کی گئی ہے جن میں کشور ناہید کی شاعری میں سے ایسے کلام کو منتخب کیا گیا ہے جس میں عورت کا وہ چہرہ پیش کیا گیا ہے جو اس کو زمانے کے مردوں نے عطا کیا ہے۔ عورت ماں،بہن اوربیٹی کے روپ میں جلوہ گر ہو تو خدا بھی اس پر نازاں ہے معاشرے نے عورت کوباندی بنا کر رکھ دیا ہے آئے روزاس کے حقوق کی پامالی اس کا مقدر نظر ا تی ہے جس سے معاشرے کا مکروہ چہرہ سامنے آتا ہے اس جدید دور میں بھی اس کو بولنے کی ہمت نہیں بخشی جاتی اس پربرُے برُے الزامات لگا کر موت کی نیند سُلا دیا جاتا ہے۔کشور ناہید نے اس گھٹن زدہ معاشرے میں اپنی ذات کو منوانے کے لیے سخت ریاض کیا مگر اس کوکبھی غزل گو شاعر نہیں بننے دیا گیا کشور ناہید اپنی شاعری کے ذریعے رہتی دنیا تک خواتیں کی نمائندگی کرتی نظر اتی رہیں گی۔
’’1984 ء کا فکری تجزیہ‘‘ایرک آرتھر بلیئر،نے بیسویں صدی کے آغاز میں ناول نگاری سے بہت نام کمایا۔اینمل فارم اور نائیٹین ایٹی فور(1984)جیسے ناولوں نے اس کو بامِ عروج تک لیے جانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اس مضمون میں ایرک آرتھر کے ناول نائیٹین ایٹی فور کو حاصل بحث بناکر ناول کے پسِ منظرکو اُجاگر کیا گیا ہے اس ناول کے مطالعہ سے ایسے حقائق سے پردہ اُٹھتا معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح حکومت کی آئیڈیالو جی کو فروغ دیا جاتا ہے عوام میں پائی جانے والی بے ہیجانی کیفیت کو دبایا جاتا ہے اور اپنے نظریات کے مطابق ہر اُٹھنے والی بغاوت کو خوش اسلوبی سے دبادیا جاتا ہے۔دنیا میں ہونے والی دو عظیم جنگوں نے عوام کو نفسیاتی مریض بنا دیا جس کے نتیجے میں عوام کا حکومت سے اعتماد اُٹھتا دیکھائی دیتا ہے حکومت جاسوسی کے نظام کوتیز کر دیتی ہے تا کہ ہر بغاوت کی لہر کو اُٹھتے ہی دبا دیا جائے انسانی مساوات کی بنیاد پر حاصل کیے گے ملکوں میں بھی عوام کے حقوق کی پامالی نظر اتی ہے اس موضوع کوایرک آرتھر بلئیر نے انتہائی جاندار انداز میں پیش کر کے تنقید کے نئے در واء کر دیے ۔
’’ارسطو کا تصوِر تنقید(بوطیقا) کی روشنی میں‘‘ جب بھی علوم و فنون کی ابتداء کے بارے میں ورق گردانی کی جاتی ہے توا نسان کی پہلی نظر قبل از مسیح دنیا کی عظیم ریاست ایتھنز پر جاکر ٹھہر جاتی ہے اسی طرح تنقید کی ابتداء کے شاخسانے یونان سے پھوٹتے دیکھائی دیتے ہیں ارسطو کا تعلق یونان کی عظیم ریاست سے تھا اُس نے تنقید کے علاوہ بہت سے موضوعات پر کام کیا مگر فنِ شاعری پر لکھی جانے والی کتاب میں اس نے اپنے اُستاد افلاطون کے ایسے نظریات کی وضاحت کی جو اُس نے شاعری کے متعلق دیے ’’بوطیقا‘‘ کو تنقید نگاری میں ابتدائی صحیفہ قرار دیا جاتا ہے جس میں ارسطو نے نفسیاتی علاج،تحلیل نفسی اور اخلاقیات کو اکٹھا کر کے افلاطون کے سوالات کا جواب دے دیا ارسطو نے شاعری کی وضاحت ان اصناف کو متعارف کر کے کی ۱۔رزمیہ ۲۔المیہ ۳۔طربیہ ۴۔غنائیہ بوطیقا میں غنائیہ کو عام انداز میں بیان کیا گیا ہے جب کہ رز میہ، المیہ اور طربیہ کو جاندار انداز میں بیان کر کے آنے والے مفکرین کو ایک وسیع میدان دیا المیہ کو اُنہوں نے چھ حصوں میں تقسیم کر کے بیان کیا جس میں پلاٹ۔،کردار، فکری مواد ،زبان وبیان، نغمہ وموسیقی اور منظر یا سٹیج شامل ہیں۔ ارسطو نے شاعری میں ’’کیتھارسس‘‘ کی اصطلاح وضع کی اور اس کا تعلق انسانی نفسی خواہشات سے جوڑ دیا ارسطو کے بعد آنے والے معتبر نقادہوریس،لان جائنس،فلپ سڈنی،گوئٹے،کولرج،میتھوآرنلد،ہنری جیمس اور کرسٹو فر کارڈیل سے لے کر ٹی ایس ایلیٹ تک آنے والے نقاد بہت کوشش کے باوجود ارسطو سے متاثر نظر آتے ہیں اسی بنیاد پر ارسطو کو تنقید کا باوا آدم کہا جاتاہے۔
’’نیر مسعود بطور افسانہ نگار‘‘اس مضمون میں اردو ادب کے مائیہ ناز ادیب نیر مسعود کی افسانہ نگاری کو موضوع بنایا گیا ہے انہوں نے نیر مسعود کے افسانوں کو سرئیلزم،ڈاڈا ازم، فینٹسی،مابعد نو آبادیت،علامتیت، جدیدیت اور مابعد جدیدیت اور جادوئی حقیقت نگاری کے تناظر میں پرکھنے کی شاندار کوشش کی ہے جس میں نیر مسعود کے ہاں تہذیبی زوال اورثقافت کی گم شدگی واضح نظر اتی دیکھائی دیتی ہے ان کی افسانہ نگاری میں مرکزی خیال اوجھل ہوتا ہے مگر قاری کی دلچسپی برقرار رہتی ہے قاری اپنی مرضی سے اس کو عنوان دیتا چلا جاتا ہے اور افسانے کا اختتام ہو جاتا ہے یہ فن دنیا کے مائیہ ناز ادیبوں ماریو برگاس یوسااور ہیمنگوے کے ہاں بھی دیکھائی دیتا ہے وہ کہانی کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیتے ہیں جو کہانی میں تہ داری کا باعث ہوتے ہیں نیر مسعود ہمہ جہت شخصیت کے حامل ادیب دیکھائی دیتے ہیں انہوں نے تنقید، افسانہ نگاری، غالبیات اور ترتیب وتدوین میں خوب طبع آ زمائی کی مگر تخلیق میں الگ حیثیت کے حامل ہیں جن میں مافوق الفطرت،ہولناکی،اذیت،زندگی کی ہیئت کذائی، بدنظمی،بدلتی ہوئی اقدار اور عجوبہ پن نمائیاں ہیں۔
’’ اسد محمد خان کی افسانہ نگاری:ایک جائزہ‘‘ اس مضمون میں محقق نے اسد محمد خان کی افسانہ نگاری کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی ہے اسد محمد خان نے ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیااُن کی پہلی نظم ’’نو منزلہ عمارت‘‘ نے اُن کو پہچان کی بلندی تک پہنچا دیا جب اُنہوں نے افسانہ نگاری کی جانب توجہ دی تو فن افسانہ نگاری ایسا منفرد تھا کہ اُس نے رفعت ایسی عطا کی کہ سب دیکھتے ہی رہ گے اُن کے افسانوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلے افسانے تاریخی نو عیت کے جبکہ دوسرے افسانے مذہبی منظر نامہ پیش کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ تاریخی لحاظ سے وہ شیر شاہ سوری کی انسان دوستی کے گرویدہ معلوم ہوتے ہیں وہ شیر شاہ سوری کو سلطان محمد تغلق سے کئی درجے بہتر حکمران تصور کرتے ہیں۔ مذہبی افسانوں میں وہ حکمرانوں پر طنز کے تیر برساتے ہیں کہ کس طرح یہ لوگ اپنا اثر ورسوخ قائم رکھنے کے لیے مذہب کو ڈھال بنا لیتے ہیں مگر یہ طنز کے تیر منٹو کی طرح بے لگام نہیں ہوتے ان کے افسانوں میں پائے جانے والے کردار برصغیر پا ک و ہند کے معاشرے کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں وہ ہمیشہ نچلے طبقے کے نمائندہ کرداروں سے اپنے افسانے کی کہا نی کو نکھارتے ہیں اور وحدت تائثر پیدا کرتے ہیں چھوٹے چھوٹے وا قعات کی مدد سے ساری کہانی کو مکمل کرتے ہیں اور قاری کو ذہنی کوفت محسوس تک نہیں ہوتی بے شک وہ ا فسانے کی دنیا میں ایک الگ مقام کے حامل شخص ہیں۔
’’(قید) ایک استعاراتی ناول‘‘ فاضل محقق نے عبداللہ حسین کے ناول ’’قید‘‘ کو استعاراتی تناظر میں پیش کیا ہے اور یہ واضح کرنے کی کو شش کی ہے کہ ناول کی تاریخ میں اس کو استعا راتی لحاظ سے بلند مقام دیا جا سکتا ہے ۔ عبداللہ حسین نے اردو ادب میں بہت کم لکھا مگر ناول ’’اُداس نسلیں‘‘ نے ان کو ثرُیا کی بلندی عطا کر دی ناول ’’قید‘‘ میں بھی اُنہوں نے اپنے فن کاخوب صورت استعمال کیااور اس ناول میں ایسے افراد کو موضوع بنایا گیا جو مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہیں خانقاہوں اور درگاہوں پر بیٹھنے والے افراد مذہب کا لبادہ اُوڑھ کر سادہ لوح انسانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ نو آبادیاتی اور مابعد نو آبادیاتی عہد میں خانقاہی اور جاگیر درانہ نظام نے یہاں کے باسیوں کو اپنی قید میں رکھا یہ لوگ سیاست میں آنے کے لیے مختلف قسم کے حیلے بہانے بنا کر عوام کو بے وقوف بناتے ہیں اور جب ان کو اختیارات مل جاتے ہیں تو اُن کا بے دریغ استعمال کر کے بنی نوع انسان کو غلامی کا طوق پہنا دیتے ہیں یہ لوگ اپنی جائیدادوں کو بڑھاتے ہیں تمام اداروں سے یہ افراد اپنا کام آسانی سے نکال لیتے ہیں جب کہ غریب اور مفلِس لوگ جو حقیقت میں ان لوگوں کو اپنے ووٹ سے یہ مقام دیتے ہیں ان کا کوئی بھی پرسانِ حال نہیں ہوتا ۔اس ناول میں نفسیاتی قید بھی دیکھائی دیتی ہے جب ایک بچہ بوڑھی عورت کو ننگا دیکھتا ہے تو وہ طرح طرح کے خیالات میں گم ہو کر اسِ عورت کی ان دیکھی دنیاکے بارے میں سوچنا شروع ہو جاتا ہے عبداللہ حسین نے ایسے تمام افراد کی کار گزاریوں کو بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔
’’ انتظار حسین :ہمہ جہت ادبی شخصیت ‘‘ محقق نے اس مضمون میں انتظار حسین کی ادبی شخصیت کے تمام پہلو اُجاگر کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے انتظار حسین ادب کی دنیا میں انفرادیت کے حامل شخص ہیں انہو ں نے ادبی دنیا میں سنگلاخ زمین کو منتخب کیااور آخری وقت تک اس کی آبیاری کرتے نظر آتے ہیں انتظار حسین وسیع المطالعہ شخص ہیں انہوں نے اپنی کہانیوں کے موضوعات اساطِیر سے حاصل کیے اور اُن کو الگ معانی اور مفہوم کے قالب میں ڈھال دیا وہ جرمن ادیب کافکا، ہرمن ہسے،ٹامس مان اور روسی ادیب چیخوف سے متاثر دیکھائی دیتے ہیں اکثر ناقدین اُن کے ہاں ہجرت کا کرب محسوس کرتے ہیں کہ پون صدی کے گزر جانے کے بعد بھی وہ بٹوارے کے دُکھ سے نہیں نکل سکے۔اُن کی اپنے فن پر گرفت انتہائی طاقت ور نظرآتی ہے کہ کس طرح داستانوی ماحول کونئے افسانوی اسلوب میں ڈھالا جاسکتا ہے انتطار حسین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کہنے کا فن جانتا ہے وہ افراد اور تہذیب کے باطن میں جھانکنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے وہ کالم نگار،ناول نگار، افسانہ نگار،نقاداورمدیرکے روپ میں نظر آتے ہیں انہی خصوصیاب کی بنیاد پر ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
’’تانیثیت پسندی:اردو ناول کے تناظر میں(آزادی سے قبل)‘‘اس مضمون میں اردوناول میں موجود تانیثی عناصر کو زیرِ بحث لا کر اس کی تاریخی اہمیت کو اُجاگر کیا گیا ہے جس میں یہ بات واضح انداز میں بیان کی گئی ہے کہ برصغیر میں بٹواڑے تک ناول میں خواتین کو صرف اپنی ضرورت کے تحت زیرِ بحث لا کر ادب کو پروان چڑھایا گیا عورت کواُس کی پوشیدہ صلاحیتوں سے محروم رکھا گیا جن میں مذہبی، معاشی اورتہذیبی عوامل کی بنیاد پر اس کو اس کے ایسے حقوق سے محروم رکھا گیاجس کی بنیاد پر وہ معاشرے میں اپنی خدمات بہتر اندازسے سر انجام دے سکتی تھی اس کو ہمیشہ گھر کی لونڈی جیسے حقوق دیے گئے اس موضوع کو تین حصوں مین تقسیم کر کے بات کو اگے بڑھایا گیا ۱۔تانیثیت کا تاریخی وتہذیبی پس منظر ۲۔تانیثیت کی بین الا قوامی تحریک ۳۔اردوناول میں تانیثی عناصر ۔پہلے حصے میں مختلف مذاہب میں موجود عورت کے مقام اور مرتبے کو واضح انداز میں بیان کیا ہے کہیں تو عورت کو دیوی اور دیوتا کا روپ حاصل ہے کہیں اس کو اپنے پتی کے ساتھ آگ میں جلنا پڑتا ہے اور کہیں اس کو برابری کی بنیاد پر مقام و مرتبہ عطا کیا گیا اور اپنے رب کے ہاں تقویٰ کو فوقیت بخشی گئی اور مرد کی گرفت ڈھیلی دیکھائی دینے لگی۔دوسرے حصے میں عورت کو شعرو ادب میں استعمال تو کیا گیا مگر اس کے حقوق سے اس کو امحروم رکھا گیا انقلابِ فرانس کے کچھ عرصہ بعد’’میری وولسٹن کرافت ‘‘ نےA Vindication of the Raghts of Wowenکے نام سے کتاب تحریر کی اس میں عورتوں کی تعلیم کے بارے میں پہلی بار کُھل کر بات کی گئی یہ کتاب ابتدائی نوعیت کی ہے اس کے بعد بہت سی تنظیمں آزادیء نسواں کا نعرہ لے کر اُبھریں اورعورت کو حقوق دیلانے کی جانب گامزن ہو گیءں۔آخری حصے میں اردو ناول کے اندرعورت کے کردار پر روشنی ڈالی گئی داستانوی ادب جس میں عورت کو صرف جنسی لذت کے طور پر استعمال کیا گیا اور وہاں عورت سے ارفع درجے کے کام بھی لیے گئے اسی کے ساتھ ناول کی میں روائت میں پائے کے ناول نگاروں کے ہاتھ بھی اس کی ستم ظریفی کی جانب گامزن رہے جن میں ڈپٹی نذیر احمد، رتن نارتھ سرشار، مرزاء ہادی رسواء، علامہ راشد الخیری، پریم چند،سجاد حسین انجم جیسے ناول نگاروں نے عورت کو محض گھریلو اور طوائفانہ زندگی عطا کی یہ افراد عورت کی تعلیم کے خواہاں تو ہیں مگر گھریلو زندگی کی حد تک ۔عورت کو وہ آزادی نہ مل سکی جو اس کومِلنی چاہیے تھی اس کے بعد عِصمت چغتائی کے ہاں عورت کے جذبات کی عکاسی بہتر انداز میں ملتی ہے یہ جذبات صرف عورت ہی کی زبانی بیان ہو سکتے ہیںیہ مرد کے اختیارات سے باہر معلوم ہوتے ہیں عِصمت چغتائی اپنی تحریروں میں عورت کے حقوق کی ترجمانی کرتی نظر اتی ہیں انہوں نے پہلی بار گونگی بہری اور بینائی سے محروم خواتین کو اپنے کرداروں کا حصہ بنایا ان کے ہاں ڈارون اور کارل مارکس کے خیالات کو بھی تلاشا جا سکتا ہے ان کے ہاں خواتین کے مسائل اور نفسیات کی عکاسی کی گئی ہے انہوں نے عورت کو پہلی مرتبہ بہتر پہچان عطا کی۔
’’منیر نیازی:عصری حسیت کا شاعر‘‘اس مضمون میں منیر نیازی کی شاعری کو موجودہ عہد کے تناظر میں بیان کرنے کی کو شش کی گئی ہے ان کی شاعری کو مختلف حوالوں سے بیان کر کے زمانے کی ایسی تصویر پیش کی ہے جو عام طور پر نظر نہیں آتی معاشرے کے اندر پایا جانے والے خوف کو منیر نیازی انتہائی ہنر مندی اپنی شاعری میں اس طرح ڈھال دیتے ہیں کہ وہ تمثال کاری کا اعلیٰ نمونہ بن جاتی ہے ان کی شاعری میں ایسا خوف نظر آتا ہے جس نے انسان کو ایک معاشرتی گروہ کے اندر رہنے پر مجبور کر دیا ’’جنگل‘‘ کو علامتی طور پر ایک صنعتی شہر کے لیے استعمال کرتے ہیں جنگل میں اگر رات بسر کی جائے تو اس میں طرح طرح کی آوازیں انسان کی نیند حرام کر دیتیں ہیں اسی طرح شہر کی زندگی میں انسان کو سکون میسر نہیں ہوتا اسی طرح ریل کی سیٹی سفر کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ منیر نیازی فطرت کی شاعری کے علاوہ مایوسی اوربے بسی کی منظرنگاری میں بھی یدطولا رکھتے ہیں اجڑی بستیاں ،جادوئی اورواہموں سے بھری نظموں میں ماضی کے حسیں جھڑوکوں کو لفظوں کا روپ دے کرحال سے پیوست کرتے دیکھائی دیتے ہیں ان کی شاعری قاری کوگُل و گلزار اور حسین مناظر کی وادیوں میں مسرت اور طمانیت کا ساماں مہیا کر دیتی ہے ان کے ہاں طنز کے علاوہ ہندی اساطیر ہندی دیو مالا اور اسلامی اساطیر کی آمیزش بھی دیکھنے کو ملتی ہے بے شک منیر نیازی اپنی شاعری کو ایسی صورت حال سے متاثر نہیں ہونے دیتے۔
’’کپاس کا پھول:تجزیاتی مطالعہ ‘‘ اس مضمون میں احمد ندیم قاسمیؔ کے افسانوں پر مبنی مجموعہ کپاس کا پھو ل کی گرہیں کھول کر بیان کیا گیا ہے اردو ادب میں احمد ندیم قاسمی کسی تعارف کے محتاج نہیں شاعری، کالم نگاری، خاکہ نگاری ، فلپ نگاری اور افسانہ نگاری میں انہوں نے ایسا نام کمایا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا کپاس کا پھول ان کا نمائندہ افسانہ ہے جو ۱۹۶۵ء کی جنگ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے ان کے اکثر افسانے جنگ کے منفی اثرات کو نمائیاں کرتے نظر آتے ہیں جن میں امن جیسی پاکیزہ چیز کی پامالی نظر آتی ہے وہ اپنے افسانوں میں انسانیت کے علمبردار کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں ان کے افسانوں سے قاری ایسی چیزوں سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے جو معاشرے میں بے راہ روی کا باعث ہوتی ہیں اس افسانے میں ’’مائی تاجو‘‘ مرکزی کردار کے روپ میں زمانے کی بے بسی کی علامت کے طور پر اُبھر کر سامنے آتی ہے کپاس کی فصل جو کپڑا بنانے کے کام آتی ہے اس میں موت کی علامت تصور کی جاتی ہے اس جنگ میں مائی تاجو کا بیٹا مر جاتا ہے جو اس کی زندگی کا واحد کفیل تھا اس کی جدائی میں وہ در بدر کی ٹھوکریں کھاتی ہے اور جلد ہی مر جانے کی دُعا کرتی ہے وہ بڑی محنت سے اپنا کفن خرید کر رکھتی ہے اور منہ بولی بیٹی ’’راحتاں‘‘ کو بتا دیتی ہے کہ میرا کفن اس صندوق میں ہے ۔ مصنف انتہائی کمال ہنر مندی سے ساری صورت حال سے پردہ کُشائی کرتا نظر آتا ہے ایسی صورت حال جس میں موت کی تمنا کی جائے ہمارے منہ پر طمانچہ ہیں اس افسانے میں جنگوں کے اثرات کو نمائیاں کیا گیاہے احمد ندیم قاسمیؔ دیہاتی منظر کو ہنر مندی سے افسانوی روپ عطاکرتے ہیں۔
’’منشایاد کا افسانوی مجموعہ:تماشا...... ایک نظر‘‘ اس مضمون میں تحقیق نگار نے منشا یاد کے افسانوی مجموعہ’’ تماشا‘‘ کو حاصل موضوع بنا کر اس پر سیر حاصل گفتگو کی ہے منشا یاد کا شمار اردو ادب کے عظیم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ان کے افسانوں میں ما بعدالطبعیاتی فِضا جدید دور کے مابین عبوری دور کی ترجمانی کا ساماں میسر ہے یہی خصوصیت ان کو دیگر افسانہ نگاروں سے منفرد مقام عطا کرتی ہے اس مجموعہ میں تماشا نام کا کوئی افسانہ شامل نہیں ہے بلکہ ایک افسانہ ’’تماشا میرے آگے‘‘کا افسانہ اس میں شامل جس کوبنیاد بنا کر اس افسا نوی مجموعہ کا نام رکھا گیا ہے اس میں زیادہ افسانے بیانیہ تیکنیک کے تحت سماجی اور اشتراکی حقیقت پسندی کا سامان فراہم کرتے ہیں اس مجموعہ میں پندرہ افسانے شامل ہیں۔ اس میں مجموعہ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ان کے افسانو ں میں فکر انگیز،تحیرزا،انوکھی اور انسانی ناموس کی بحالی کے سوز میں جکڑی ہوئی کہانیاں ہیں جو اسے اردو افسانے کی روایت میں ایک بلند مقام پر لا کھڑا کرتی ہیں انہوں نے افسانے کو واپس اصلی روپ میں بحال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اپنے افسانوں کو علامت کی نظر نہیں ہونے دیا۔
’’احمد ندیم تونسوی اور جدید افسانہ‘‘ اس مضمون میں احمد ندیم تونسوی کی افسانہ نگاری کو بیان کیا گیا ہے جس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ احمد ندیم تونسوی نے افسانے کو جدید آہنگ میں پرو کر معاشرے میں موجود سیاسی صورت حال کو علامتی منظر کشی کے ساتھ بیان کیا ہے احمد ندیم تونسوی اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں میں سے خود کو پامال راہوں سے بچاتے ہوئے نئی راہیں تلاشتے نظر آتے ہیں ’’ غبارہ مومنٹ‘‘ ایک ایسا افسانہ ہے جس میں مشرف کے دورے حکومت کو تنقید کی بھٹی میں پکاتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اس میں ہوا کی مدد سے اڑنے والے غباروں کے ساتھ محتلف حکومت مخالف نعرے اور بینر آویزاں کر کے اڑا دیے جاتے ہیں اور اپنے جذت کی عکاسی کی جاتی ہے اس صورت حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے غباروں پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔’’گوتم‘‘ افسانے میں مرکزی کردار اپنی شناخت گم کر بیٹھتا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنے لاشعور کو اپنے شعور سے جوڑ کر ذہنی دباؤ سے چٹھکارا حاصل کرتا ہے یہ رجحان جدید اردو افسانے میں خاصا نمائیاں ہے اور خاص طور پر انتظار حسین نے اس کو اپنی جاتک کہانیوں میں استعمال کیا یہ افسانہ بھی اسی طرزِ احساس کا آئینہ دار ہے متعدد موضوعات ایسے ہیں جن کو تونسوی نے اپنے افسانوں میں ڈھال دیا جن میں لفظ اور معنی کا کھیل ان کا دلچسپ موضوع ہے ان کے افسانوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے روسی ہیئت پسند وکٹر شکلو وسکی، رومن جیکب سن، سوسیئر کی ساختیات، دریڈاکی ردِ تشکیل، ژاک لاکاں کی ساختیاتی نفسیات ،مارکس اور اینگلزکے ادبی نظریات کو نہ صرف پڑھا بلکہ ان کو اپنے ادبی پیرائے میں استعمال بھی کیا بے شک احمد ندیم تونسوی اپنے افسانوں میں لفظوں کو معنی کے اتنے لباس پہنا دیتے ہیں کہ اُتارتے اُتارتے وقت گزر جاتا ہے اور معنی کی تہ داری ختم نہیں ہوتی۔
’’قدیم ہندوستان کی ادبی روایت: عہد بہ عہد جائزہ‘‘اس مضمون میں محقق نے ہندوستان کی ادبی روایت قبل اَزمسیح سے لیکر ساتویں صدی عسوی تک کا عہد بہ عہد کا جائزہ انتہائی جاندار انداز میں پیش کر کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے برصغیر میں جہاں تک ادبی روایت کا تعلق ہے اس کی ابتداء ہندوستان میں آریوں کی آمد سے شروع ہو جاتا آریوں کی آمد دو ہزار قبل مسیح سے لے کر چھ سو قبل مسیح تک ہے۔ آریہ درہ خیبر اور درہ بولان کے راستے برصغیر میں داخل ہوئے یہ مقامی قبائل کی نسبت زیادہ طاقت ور اور ظالم سماج کے مالک تھے انہوں نے مقامی قبائل کو غلامی میں جکڑ لیا اور اُن کے مال اسباب اور جائیداد پر قبضہ کر کے تمام علاقے فتح کر لیے انہوں نے اپنے نظام کو کامیاب کرنے اورمقامی افراد کو زیرِ نگیں رکھنے اوراپنی روایات کے فِروغ کے لیے’’ موریہ براہمی‘‘ رسم الخط ترتیب دیا جو صدیوں بعد سنسکرت رسم الخط میں بدل گیا۔ آریوں نے پہلی مرتبہ اپنی مذہبی کتاب ’’رگ وید‘‘ تحریر کی جو مختلف بھجنوں کا مجموعہ تھی یہ بھجن دیوتاؤں کی مدح میں لکھے گئے تھے ’’رگ وید‘‘ کے بعد دوسرا اہم وید’’یجر وید‘‘ہے جوایک ہزار سے آٹھ سو قبل مسیح تحریر ہوا یہ مختلف ابیات کا مجموعہ ہے چھ سو قبل مسیح’’سام وید‘‘اور’’ اتھر وید‘‘ سام وید پہلی ویدوں کی ایک کڑی ہے جبکہ اتھر وید جادو ٹونے اور جنتر منتر کی کتاب ہے ان چاروں ویدوں کو ’’سم ہتا‘‘ کہا جاتا ہے اسکے بعد جو مذہبی کتابیں منظر عام پر آئیں ان کو ’’برہمن ‘ ‘ کہا جاتا ہے ان میں قربانی کے بارے میں تفصیل سے درج ہے اسکے بعد ’’آرنیک‘‘کا دور آتا ہے جو ’’برہمن کی ترقی یافتہ شکل ہے اس نے’’ اُپنشدوں‘‘ کے لیے راہ ہموار کی یہ ویدوں کے آخری حصے ہیں یہ دور آزاد خیالی رسوم کی پابندی کو توڑتا ہوا نظر آتاہے’’ اُپنشدوں‘‘ کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں بارہ انتہائی اہم تصور کیے جاتے ہیں جن کو ’’مہا بھارت‘‘ کا نام دیا جاتا ہے یہ چٹھی صدی عسوی کی تصنیف ہے یہ ایک طویل رزمیہ داستان ہے جس میں کوروں اور پانڈوں کی جنگ کا ذکر ہے’’ مہا بھارت‘‘ کے زمانے میں ’’رامائن‘‘ تحریر کی گئی اس میں اچھائی اور برائی کے بارے میں بتایا گیا ہے اس میں اخلاقی رہنمائی کا درس دیا گیا ہے اس کے بعد ادب بدھ مت کے نظریات کے تحت پروان چڑھا جس نے کروڑوں افراد کو متاثر کیا اس دور میں ادب ’’جاتک کہانیوں‘‘ کے روپ میں سامنے آتا ہے ان کہانیوں کے بعد ایک اور سلسلہ سامنے آتا ہے جس کو ’’پنج تنتر‘‘ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے یہ کتاب دو سو قبل مسیح کے دور میں لکھی گئی ’’پنج تنتر‘‘ سے کئی اور کہانیاں سامنے آتی ہیں جن میں’’برہت کتھا‘‘ ’’کتھا سرت ساگر‘‘ اور’’ ہتو پدیش‘‘ نمایاں ہیں اس کے بعد ’’چنامنی بھٹ‘‘کی تالیف کردہ’’شک سپتتی‘‘ قدیم کہانیوں کی ایک اور کتاب ہے جس کو ’’پنج تنتر‘‘ کی طرز پر لکھا گیا ہے اس کے بعد لکھے جانے والے ادب پر فارسی ادب کے اثرات نمایاں دیکھے جاسکتے ہیں یہ مضمون انتہائی اہم نوعیت کا حامل ہے اس سے برصغیر میں پروان چڑھنے والے ادب سے رہنمائی ملتی ہے۔
’’انور سدید کے افسانے’’ نیلی رگیں ‘‘کا تجزیاتی مطالعہ‘‘ اس مضمون میں انور سدید کے افسانے ’’نیلی رگیں‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ اور اُس کے پسِ منظر کو زیرِ بحث لایا گیا ہے’’ انور سدید کے خوابیدہ افسانے‘‘نقش گر راولپنڈی اور سرگودھا سے شائع ہوئے’’ نیلی رگیں‘‘ اس مجموعے میں شامل تھا اس کی کہانی کا پلاٹ خطِ مستقیم کی بجائے قوس کی شکل اختیار کرتا ہوا دائرے کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے اس میں ادیب نے فلیش بیک تکنیک سے مخصوص بنت کاری سے کام لیا ہے اس میں محبت بھری کہانی کو ہندوستان کے نو آبادیاتی نظام کے تحت معاشرے میں موجود عدم توازن کی کیفیت سے بھر دیا ہے اس میں مرکزی کردار’’ڈاکیہ بابو‘‘اور ’’گوراں‘‘ نامی لڑکی کا ہے ساری کہانی ان دونوں کے گرد گھومتی ہے ۔ افسانے میں دیہاتی اور شہری زندگی کے مناظر خوب صورت انداز میں سجا دئیے گئے ہیں اس میں نو آبادیاتی نظام کے تحت بھرتی کیئے جانے والے نوجوانوں کا ذکر ملتا ہے جو پرائے دیسوں میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر رہے تھے اپنے دیس میں ان کے خطوط کا انتظار کسی موت سے کم نہیں تھا نو جوانوں کے عزیزو اقارب کی پریشانی کا اندازہ ان کے افسردہ چہروں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ’’ڈاک والا بابو‘‘ ہر موقع پر افسردہ افراد کی مدد کرتا نظر آتا ہے’’ گوراں‘‘ بھی ایک بہادر لڑکی کے روپ میں جلوہ گر دیکھائی دیتی ہے یہ کہانی قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور ساری صورت حال آنکھوں کے سامنے تصویری شکل میں ظاہر ہو جاتی ہے۔
’’ڈاکٹر انور سدید:کثیرالجہت ادبی شخصیت‘‘ اس مضمون میں انور سدید کے ادبی کام پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور ان کی ادب کے میدان میں خدمات کا تعارف پیش کیا گیا ہے جس میں تاریخ ادب،اردو تنقید، خاکہ نگاری، طنزو مزاح،ادبی کالم نگاری، انشائیہ اورتبصرہ نگاری شامل ہے انہوں نے جس موضوع کی جانب قلم بڑھایا اس میں کوئی کسراُٹھا نہ رکھی۔ محکمہ نہر میں بطور انجینئر ملازمت اختیار کی مگراپنے ذوقِ طبع کی خاطر ادب میں بھی کام شروع کردیا ۔ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا جو مختلف رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے کوئی افسانوی مجموعہ نہیں ۲۰۱۵ء میں ذوالفقار حسین مدیر ’’اسالیب‘‘نے ان ’’ انور سدید کے خوابیدہ افسانے ‘‘ کے نام سے یکجا کردیا ان میں دیہات کی زندگی سے اپنے موضوعات کشید کیے گئے ہیں ان میں دیہات کے گھبرو جوان اور دیہات کی مٹیاریں اپنی سچی اور پاکیزہ محبت میں جلوہ دیکھا تی ہوئی کہانی کوپائیہ تکمیل تک لے جانے میں مدد فراہم کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر وزیر آغاکے ساتھ ان کی محبت ساری زندگی رہی اور ان کے مشوروں کو پلے باندھے رکھا آپ ان سے اندھی عقیدت رکھتے تھے وزیر آغا کے کہنے پر انہوں نے ایم۔ اے اردو کیا اور پی۔ ایچ۔ ڈی کے مقالے کے نگران وزیر آغا ہی تھے ’’ اردو ادب کی تحریکیں‘‘ ان کا پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ تھا جس نے ان کو بامِ عروج تک پہنچا دیا یہ کتاب ہی ’’اردو ادب کی مختصر تاریخ‘‘ کا سبب بنی خاکہ نگاری’’قلم کے لوگ‘‘ ۱۹۹۰ء میں چھپ کر سامنے آئی اس میں پندرہ ادبا ء کے خاکے شامل ہیں ان کے خاکے ادبی توازن کا شکار نہیں ہوتے وہ شخصیت کے باطن میں اُتر کراس کے اندر موجود شخص کو کھینچ کر باہر لے آتے ہیں انور سدید نے جہاں افسانہ، تنقید،تحقیق، انشائیہ نگاری، اور خاکہ نگاری میں کام کیا وہیں شاعری میں بھی اپنے جوہر دیکھائے انور سدید کی آپﷺ سے محبت کا اظہار ان کی شاعری میں بھی ہوتا ہے ان کے ہاں مایوسی اورقنوطیت کا عنصر موجود نہیں وہ ہمیشہ امید اور رجائیت کے پہلو کو نمائیاں کرتے نظر آتے ہیں انہوں نے اپنی تمام زندگی ادب کی خدمت کے لیئے وقف کر دی اور ادب کی خدمت کرتے کرتے اپنی جان دے دی اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے علمی ذخیرہ محفوظ کر دیا اور ہمیشہ کے لیے اردو ادب میں اَمر ہو گئے۔
’’ساحر لدھیانوی کی نظم پرچھائیاں کا نوآبادیاتی مطالعہ‘‘ یورپ میں جب مشینری اور انڈسٹری نے اپنا اثر رسوخ اُجاگر کیا تو بھوک اور افلاس نے اپنے پنجے جمانا شروع کردیے جس کے نتیجے میں حکمرانوں نے اپنی عوام کا پیٹ پالنے کے لیے غریب اور پسماندہ ملکو ں کے قدرتی وسائل پر قبضہ جمانا شروع کر دیا جس کو نوآبادیات کا نام دیا جاتا ہے جس میں روم،پرتگالی،اسپینی،فرانسیسی اور انگریزوں قوموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا انگریز تاجر ایست اندیا کمپنی کو صورت میں برصغیر میں داخل ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیااور ساری باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی عوام کو بے راہ روی کا شکا ر بنا دیا گیا۔انگریزوں نے یہاں کے موجودہ ہرنظام کو متاثر کیااورسائنسی یلغار نے مقامی زبان کے ساتھ ساتھ طرزِ معاشرت کو بھی بدل کے رکھ دیا جس سے مقامی اور غیر مقامی علوم و نظریات میں عدم توازن کی کیفیت پیدا ہو گئی انگریزوں نے یہاں سرمایہ درانہ اور جاگیر درانہ نظام قائم کر دیا جس کے نتیجے میں مزدور طبقے کا استحصال ہونے لگا اس دوران مزاحمتی ادب تخلیق ہونے لگا ’’ساحرلدھیانوی‘‘نے اس ماحول میں آنکھ کھولی جس میں ذہنی خلفشار پوری شدت سے موجود تھا اس دوران دو عالمی جنگوں نے دنیا کے سیاسی اور معاشرتی نظام کو بے حد متاثر کیا۔ ساحرلدھیانوینے اس دوران’’پرچھائیاں‘‘ نام کی نظم تخلیق کی جس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلا حصہ رومانوی اور دوسرا حصہ انقلابی نوعیت کا ہے سادہ اور عام الفاظوں نے اسے عام آدمی میں مقبول بنا دیا ساحر نے غیر مانوس الفاظ سے اسے ثقیل نہیں ہونے دیا مذکورہ نظم میں انہوں نے نو آبادیاتی نظام کے خلاف کھل کر بغاوت کی اس نظم سے ان کی وطن سے محبت، انسان دوستی اور جذبہ محبت ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کس طرح برصغیر کے بنیادی مسائل کی جانب توجہ دیلاتے ہیں جو قاری کوزندگی کی حقیقتوں سے روشناس کراتی ہے۔
’’ سلیم آغا قزلباش کے افسانوں کا موضوعاتی مطالعہ: صبح ہونے تک :کے تناظر میں‘‘اس مضمون میں ڈاکٹر سلیم آغا قزلبا ش کے افسانوی مجموعے کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے جس میں موجود ثقافتی اور تہذیبی گرہیں عمیق نظر ی سے کھولنے کی کوشش کی گئی ہے اس مجموعے میں پندرہ افسانے ہیں تمام افسانے انسانی اعمال اور معاشرتی و سماجی احوال اورجدید دورکے انسان کے ذہنی رویوں اور نفسیاتی مسائل او انتہائی سلیس انداز میں قاری کے سامنے رکھ دیا ہے ا ن سے متاثر ہوئے بغیر کوئی نہیں رہ سکتا تمام موضوعات اسی دھرتی سے کشید کیے گئے ہیں۔خانہ بدوشوں کی زندگی پر لکھا گیا’’لال سینڈل‘‘ جس سے انسان کی نفسیاتی نکتہ وری کھل کر سامنے آتی ہے حکمرانوں اوراشرافیہ طبقے کی کمزور افراد سے کیے جانے والے سلوک اور رویے کی قلعی کھل جاتی ہے ’’پتلیاں‘‘یہ افسانہ استعارہ کی خصوصیات سے مزین دیکھائی دیتا ہے اس میں انسان کو اپنے تمام کرتوت دیکھائی دیتے ہیں مگرہٹ دھرمی اور انجانی کیفیت برقرار رکھتے ہوئے تمام افراد اپنے اعمال سے درگزر کرتے نظر آتے ہیں۔ افسانہ’’دستکیں‘‘ نو دولتی نظام پرایک کاری ضرب ہے’’چڑیل‘‘اس میں انسان کے نفسیاتی محرکات کو ظاہر کیا گیا ہے کہ کس طرح انسان واہموں کی دنیا بسا کر زندگی کے ایام گزارتا ہے’’اسیر‘‘ اس میں انسان کے ذہنی انتشار سے پیدا ہو نے والی صورت حال سے معاشرتی کج رویوں اور بے اعتدالیوں کو بیان کیا گیا ہے’’کھنڈر‘‘ اس میں پرانی عمارات کو ثقافت کی اور تہذیب کی عمدہ مثال قرار دیا گیا ہے جب یہ عمارات زمیں بوس ہوتی ہیں تو تمام افراد تماشائی کے روپ میں سامنے آتے ہیں جبکہ پرندے اپنے مسکن کے اجڑنے پر نوحہ کنعاں ہوتے ہیں’’الگنی‘‘ اس افسانے میں میاں بیوی کے ہاں پائی جانے والی ناچاقی کو موضوع بنا یا گیا ہے دونوں ’’ وجود اور ذات‘‘ کی ثنویت کا شکار نظر آتے ہیں’’عفریت‘‘ اس میں پاگل پن کی فضا پروان چڑھتی دیکھائی دیتی ہے اور کردار جسمانی اذیت سے جنسی لطف کشید کرتا ہے’’آخری موڑ‘‘ا س میں انسان کی اگے بڑھنے کی صلاحیت اور جستجو کو بڑی فنی مہارت سے بیان کیا گیا ہے’’حصار‘‘ اس افسانے میں پہلی بار بونوں کو موضوع بنایا گیا ہے کہ چھوٹا یا بڑا قد انسان کے مقام میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتا ’’تھوتھو‘‘اس میں انسان کی نیک نیتی اور بد نیتی کو موضوع بنایا گیا ہے’’دراڑیں‘‘اس میں وقت اور قسمت کی تقسیم کو موضوع نبا کر نئی نسل کے رجحانات کو طبقاتی کشمکش کے زمرے میں پیش کیا گیا ہے امیرانہ زندگی گزارنے والوں کو موت اور قبرکی وادی یادتک نہیں ہوتی’’سیاہ پوش‘‘ اس میں معا شرے کے اندر پائے جانے والے ر شتوں کی اہمیت کو اُجاگر کیا گیا ہے ظاہری شان و شوکت کی بنیاد پر تعلقات کی دنیا بسائی جاتی ہے کو خوبصورت انداز میں پیش گیا ہے’’روگ‘‘ اس میں انسان کی شناخت کو موضوع بنایا گیا ہے کہ کس طرح جدید اور قدیم کے درمیان اپنی زندگی کے ایام بسر کرتے کرتے اپنی شناحت کے مسائل سے دوچار ہو کر نفسیاتی کش مکش میں الجھ کر رہ جاتا ہے’’صبح ہونے تک‘‘ یہ علامتی اور استعاراتی انداز میں خود کلامی کی تیکنیک میں لکھا گیا ہیاس میں کردار غیر واضع اور مبہم ہیں شعور کی رو کے تحت افسا نے کو مکمل کیا گیا ہے ان افسانوں سے ظاہر ہو تا ہے کہ سلیم آغا قزلباش کونئی تکنیکوں پر کس حد تک دسترس حاصل ہے یہ خوبی ہی ان کو معاصر افسانہ نگاروں سے ممتاز کرتی ہے۔
’’سو بھو گیان چندانی: طبقاتی جدو جہد کا استعارہ‘‘اس مضمون میں سوبھو گیان چندانی کی شخصیت کوموضوع بنایا گیا ہے ملک میں موجود اقلیتی قوم سے تعلق ہونے کے باوجود انہوں نے اس دھرتی سے اپنی محبت کاہمیشہ ثبوت دیا حالات نے جب بھی کروٹ بدلی وہ انکے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے’’رابندر ناتھ ٹیگور‘‘ کی علم دوستی اور کتب بینی نے ان کو اپنا گرویدہ بنا لیااور اس محبت کو روحانی ورثے کے طورپراپنے سینے سے لگائے رکھا’’ ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘‘ سے وفاداری کرنے پر ان کو جیل کی ہوا کھانی پڑی وہ نوآبادیاتی نظام کے سخت خلاف تھے ہر اس تحریک کے سر گرم رکن کے طور پر سامنے آئے جس میں انگریز مخالفت تھی ان کو ایک سازش کے تحت ۱۹۹۰ء کے الیکشن میں شکست دی گئی۔ ادبی زندگی میں بھی انہوں نے اپنے اپ کو منوایا افسانہ نگاری، خاکہ نگاری،مضمون نگار ، کالم نگاراور ترجمعہ نگار کے روپ میں جلوہ گر ہوتے ہیں ان کی ادبی خدمات کی بنیاد پر ’’اکادمی ادبیات،اسلام آباد‘‘ نے’’ کمالِ فن ایوارڈ‘‘ اور ’’جالب امن ایوارڈ‘‘ کے ساتھ’’بیسٹ سندھی رائٹر کا ایکسیلنٹ ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا گیا وہ اپنے نظریات کی جنگ ادبی محاذ پر بڑی عمدگی سے لڑتے رہے ان کو سندھو دھرتی سے بے پناہ محبت تھی ان کے ادبی سرمایہ کو یک جا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے اس کو محفوظ کیا جاسکے۔
اس کتاب کے مطالعہ سے ایسے ایسے مضامیں اور نظریات سے جان کاری حاصل ہوتی ہے جو اپنی نوعیت کے منفرد اہمیت کے حامل ہیں ان مضامین سے عبدالعزیز ملِک کی علم دوستی، شعور کی آگہی، جدید تنقید پر دسترس،متن کی تہ داری کا جائزہ،عالمی منظرنامہ، انگریزی ادب سے لگاؤ، ادب میں اُٹھنے والی تحریکوں سے ہونے والی تبدیلیوں،روسی ہیئت پسندی، جدید یت اور مابعد جدیدیت جیسے تمام مُباحث پر مکمل دسترس معلوم ہوتی ہے یہ کتاب علمی تشنگی کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ادب کے طالب علم کے لیے علمی خزانہ بھی ہے اور ہر ادب کی لائبریری اس کے بغیر نا مکمل تصور ہو گی محقق نے ’’ساگر کو گاگر‘‘ میں بندکرنے کی کامیاب کوشش کی ہے اور اس میں ہر لحاظ سے پورا اُترتے دیکھائی دیتے ہیں یہ کتاب محقق کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved