تازہ ترین  

ویلنٹائن ڈے اوراسلام
    |     3 months ago     |    اسلامی و سبق آموز
اسلامی تہذیب سے معاشرے میں اخلاقی روحانی قدریں پروان چڑھتی ہے مثبت سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوتاہے رشتوں کے تقدس کی اہمیت حاصل ہوتی ہیں.

کوئی بھی تہوار یادن جسے خصوصیت حاصل ہوتی ہے بالواسطہ یابلاواسطہ مذہب وتاریخ سے جڑاں ہواہوتاہے۔

لیکن انقلاب فرانس کے نتیجے میں یورپی معاشرے سے چرچ کے کردار کو ختم کردیاگیامذہب فرد کا ذاتی معاملہ قرار دے دیا گیا

جس نے مغربی معاشرے کو کھوکھلااور اخلاقی قدروں سے آزاد کردیا۔

انٹر نیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے گذشتہ سالوں سے مغربی تہذیب کا مشرقی معاشرے پر تیزی سے اثر انداز ہونا کسی المیہ سے کم نہیں ۔

ویلنٹائن ڈ کے نام سے منایا جانے والے اس مغربی تھوار کے متعلق کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں البتہ ایک غیر مستند خیالی داستان پائی جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ (Nun) کی زلفوں کے اسیر ہوئے۔

چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لئے نکاح ممنوع تھا۔ اس لئے ایک دن عیسائی راہب ویلنٹائن صاحب نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لئے اسے بتایا کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ ۱۴فروری کا دن ایسا ہے اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کرلیں تو گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔

راہبہ نے ان پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اُڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے یعنی انہیں قتل کردیا گیا۔

بعد میں کچھ منچلوں نے ویلنٹائن صاحب کو’شہید ِمحبت‘ کے درجہ پر فائز کرتے ہوئے ان کی یادمیں ویلنٹائن ڈے منانا شروع کردیا۔

چونکہ اس دن کی بنیاد ہی گناہ اور بے حیائی پر رکھی گئی تھی چنانچہ بعد میں آنے والوں نے 14 فروری کو شرم و حیا اور شرفِ آدمیت کی دھجیاں اڑاتے ہوئے فحاشی و عریانی کی حد کر دی۔

چرچ نے ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔

یہی وجہ ہے کہ عیسائی پادریوں نےبھی اس دن کی مذمت میں سخت بیانات دیئےہیں

ویلنٹائن ڈے کے متعلق مختلف روایات اور بھی بھت ساری ہیں بھر حال جو بھی ہو لیکن کسی مسلمان معاشرہ اور تہذیب سے اس کا کوئی واسطہ اور تعلق نہیں ہے اور نہ کسی مذہب نے اسے پسند کیا ہے ۔

فحاشی اور عریانی کو ہر مذہب نے حرام قرار دیا ہے۔

دین اسلام تو ہے ہی پاکیزہ اور صالح لوگوں کا دین،قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے

”یقینا ً جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش (و بے حیائی) پھیلے وہ دنیا اورآخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں( النور:۱۹)

جبکہ ویلنٹائن تو ہے ہی بے حیائی اور فحاشی کا دن۔

لہذا اسے کسی صورت بھی ایک صالح معاشرہ اختیار نہیں کر سکتا۔

پاکستان میں بھی 14فروری کو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو گلاب کے پھول ، تحفے، ویلنٹائن کارڈ اور موبائل پر اور انٹرنیٹ پر پیغامات بھیجتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غور فرمائیں!۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا اللہ رب العزت کو اپنا رب اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول ماننے والوں کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ کسی غیر مسلم کی یاد میں ویلنٹائن ڈے منائیں ؟

اس دن غیر محرم مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کریں اور پھول وغیرہ بھیجیں؟۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تہوار بھی کافروں کا اور کام بھی کافروں والے۔

ویلنٹائین ڈے منانا کفار کی مشابہت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے

دینی غیرت وحمیت رکھنے والوں اور اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والوں کے لیے یہی حدیث کافی ہے ۔

تو کوئی ہے جو اپنے رب اور رسول صلی ا للہ علیہ وسلم کی محبت کی خاطر اس گندے تہوار کو منانے سے خود بھی باز رہے اور دوسروں کو بھی روکے؟

ویلنٹائن ڈے پرغیر محرم مردو عورت کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا ، پھول پیش کرنا اور دوستیاں لگانا کبیرہ گناہ ہے ۔

مغربی پروپیگنڈے سے مرعوب اشرافیہ اور اخلاقی قدروں سے محروم نوجوان لڑکے لڑکیاں اس دن کا اہتمام کرتے ہیں ذرائع ابلاغ ،خصوصی ایڈیشنوں کے ذریعے اس بدتہذیب اور غیر اخلاقی دن کواجاگر کیاجاتاہے۔اسلام میں خوشیوں کے اظہار پر کوئی پابندی عائدنہیں ہے۔

ہرخوشی کاآغازاﷲتعالیٰ کی حمدوثناء وسجدہ شکر ادا کرکے کیا جاتاہے مگر اُن لوگوں کاکیا؟کیاجائے جو اخلاقی وروحانی قدروں سے دور ہے مغربی دنیامیں ہم جنس پرستی جیسے حرام ومکروہ فعل کوبھی قانونی تحفظ دیاجارہاہے،جہاں بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہاؤس میں داخل کروادیاجاتاہے،ان کی عقلوں پر ماتم ہی کیاجاسکتاہے ،بعض مغربی دانشوروں نے یورپی معاشرے کی تباہ ہوتی ساکھ کوبچانے کیلئے مدر ڈے ،کبھی فادر ڈے توکبھی کچھ کبھی کچھ ایام مناکر ماضی کی خوبصورت یادوں کوزندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اﷲتعالیٰ کے کرم سے ہمارامعاشرہ ابھی اُس تباہی کی جانب نہیں بڑھا۔

رشتوں کا احترام ،رواداری کا جو سبق ہماری نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے ہمیں ملتا ہے ،ہم میں موجودہے

جسے مغربی اقوام وملٹی نیشنل کمپنیاں ختم کرنا چاہتی ہیں ہمیں اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہراُس سازش کوناکام بنادینا چاہیے جوہماری اخلاقی وروحانی تہذیبی قدروں کوہم سے چھینا چاہتے ہے ہماری اور آنے والی نسلوں کی بقاء صرف اسلامی تہذیبو تمدن سے وابستگی میں ہے ۔

Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved