تازہ ترین  

ہمارا احتساب نہیں ہو سکتا !
    |     6 months ago     |    کالم / بلاگ
وقت کی بڑی بڑی معاشی اور عسکری قوتیں ان کانام سن کر تھرتھر کانپنےلگتیں ان کے بہادر جرنیل دوسپرطاقتیں اپنے گھوڑوں کے سموں تلےروندچکےتھے ،بائس لاکھ مربع میل پہ تنہا حکومت کرنے والے(دنیاجنہیں فاروق اعظم کے نام سے جانتی ہے) کےرعب ودبدبےکایہ عالم ہےکہ سب سے بہادر اور مضبوط جرنیل (عظیم سپہ سالارخالدبن ولید)ان کے ایک حکم سے ناصرف خود کومعزول کرلیتے ہیں بلکہ خلیفہ وقت کے حکم سے اپنے ہاتھ بندھوا کر صفائی دینے کے لئے پیش ہوجاتےہیں ۔لیکن ! احتساب اور مواخذے کایہ نظام صرف فوج یاعام شہریوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ایک عام شہری بھی بھرے مجمعے میں خلیفہ وقت سے پوچھ سکتا ہے کہ ان کے پاس یہ دوچادریں کہاں سے آئیں جبکہ ہرایک کے حصے میں صرف ایک چادر آئی ہے , طاقتور ترین حکمران ممبر سے نیچے اتر کر بتاتاہے کہ یہ ایک اضافی چادر ان کے بیٹے نے انہیں اپنے حصے سےدی ہے ،شہری مطمئن ہوتاہےتب ممبر پہ چڑھ کہ بقیہ خطبہ پورا کرتےہیں۔
اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے ہمارےموجودہ حکمران این آر او کاسہارالے کربچ جاتے ہیں انہیں ہرطرح کااستثناءحاصل ہونا چاہیے,یہ جو چاہیں کریں کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہونا چاہئے ۔اگر اس آسمانی مخلوق کو چھیڑوتو یہ اینٹ سے اینٹ بجادینےکی بات کریں گے،مکےدکھائیں گےاورحیرت بھری معصومیت سےہرکسی سےپوچھتےپھریں گے"مجھے کیوں نکالا "
۔سابقہ جرنیلوں کے فارن اکاؤنٹس میں دو دو ہزار کروڑ روپیے پڑے سڑھ رہےہیں, لیکن ڈھٹائی اور بے شرمی کایہ عالم ہےکہ پوری دنیا میں اپنی حب الوطنی کاڈھنڈورہ پیٹتے ملیں گے۔
سول کورٹ سےسپریم کورٹ تک ،عام سپاہی سے آئی جی تک, ایک کلرک سے کمشنر تک کون ہےجوکرپشن کےگند میں لتھڑا ہوانہیں ؟ ،وطن عزیزکاسب سےبڑامسلہ کرپشن اور قومی وسائل کا بے دریغ غلط استعمال ہے، اہم قومی عہدوں پہ نااہل افراد کاتسلط ہے جنہیں اپنے فارن اکاؤنٹس بھرنے کے علاؤہ کسی چیز سے دلچسپی نہیں ،بھلے ہی سارا ملک برباد ہو جائےبس ان کی ناجائز دولت میں لگاتار اضافہ ہونا چاہئے۔
امیر اور غریب میں فرق کرنے والا یہ حکومتی سسٹم اب اس قدر بگڑچکاہے کہ شائدچہرےبدلنےسےبھی اب مسائل حل ہوتے نظر نہیں آتے،کسی کے پاس کوئی ویژن نہیں ، سب کا مقصداقتدارکےایوانوں تک رسائی حاصل کرنا ہے چاہے وہ کسی بھی قیمت پر ہو ۔
حالیہ سیننٹ کے امیدواروں کی فہرست کاایک نظرجائزہ لیجئے اور میڈیا میں گردش کرتی خبریں دیکھئے کہ عہدے خریدنے کے لئے دولت کا جس طرح سے استعمال کیاگیا ہے کیاان اراکین سےکسی بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے؟ ۔
سات عشروں سے ہم دھوکہ کھائے جا رہے ہیں
لیکن ! آخر ایساکب تک چلےگا؟یہ سوال آج ہمیں خود سے ضرور کرنا چاہیے ۔ 





Comments

There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved