تازہ ترین  

آزاد ی کے چراغ شہید مظفر برہان وانی ،افضل گورو اورمقبول بٹ
    |     3 months ago     |    کالم / بلاگ

ہم کل بھی سردارِ صداقت کے امیں تھے
ہم آج بھی انکارِ حقیقت نہ کریں گے

برہان مظفر وانی تحریک آزادی کشمیر کے لیے سرگرم تنظیم حزب المجاہدین کے کمانڈر تھے برہان جموں کشمیر کے ایک گاؤں شریف آباد میں مظفر احمد وانی ایک اسکول پرنسپل کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ پندرہ سال کی عمر میں گھر سے اپنے مظلوم کشمیر ی عوام کے لیے جدوجہد آزادی کا خواب لے کر نکلے اور حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کرلی۔ 2011ء میں وہ حزب المجاہدین میں شامل ہوئے سماجی رابطوں پر وہ مقبول رہے جہاں وہ اپنی تصاویر اور وڈیوز بھیجا کرتے تھے۔ان کا خیال تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہندوستان کے اصل چہرے کو اقوام عالم کے سامنے بے نقاب کیا جاسکتاہے۔ اورکشمیری ہم وطنوں کوخواب غفلت سے بیدار کیا جاسکتاہے۔اسلامی روشن خیال،جدوجہدِ آزادی کا علمبردار برہان وانی اس فارسی مصرے کا حقیقی مصداق ہے’’خوش درخشیدولے شعلہ مستعجل بود‘‘یہ شعلہ امت محمدکے درمیان کشمیرکی وادیوں کہساروں میں چندسال ہی آفتاب کی طرح چمکااور قابض بھارتی انتہاپسند افواج نے ایسے گل کرنے کی ناکام کوشش کی اوروادی کشمیر میں ہزاروں چراغ روشن ہوگئے۔ان کے بڑے بھائی خالد مظفر وانی کو اس وقت فوج کی جانب سے 2015ء میں شہیدکیا گیا جب وہ اپنے تین دوستوں کے ہمراہ اپنے بھائی سے ملنے جارہے تھے وانی کشمیر میں ہندوں کی آباد کاری کے خلاف تھے وہ کشمیر کو اسرائیل فلسطین طرز پر بدلنے کی مخالفت کیا کرتے تھے ان کا یہ نظریہ حقیقی اوردرست تھا مسلم اکثریتی آبادی کے علاقے کوہندوآبادکاری کے تحت اقلیت میں تبدیل نہیں کیا جاسکتاہے۔وہ مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی آواز بلندکررہاتھا۔اس کی آنکھوں میں کشمیر میں ہونے والے مظالم کے مناظر ہروقت چلتے رہتے تھے۔وہ اپنا سب کچھ ہم وطنوں کی آزادی کے لیے قربان کرچکاتھا۔وہ غریبوں کی داد رسی کرتا،بے سہارا افراد کو سہارا دیتا،مظلوم کی مدد میں ظالم کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑا ہوتا،اس کی ہمت واستقلال ،دریادلی اوردلیری کی مثالیں کشمیری گھرانوں میں معروف ہورہی تھیں، انتہاپسند ہندوچہرے اس کے خوف میں مبتلاہوگئے تھے یہ خداکا سپاہی بن کر ظلم کے خلاف دیوار تعمیر کرتا چلاجارہاتھانوجوان کشمیری نسل نے اسے اپنا رول ماڈل قرار دیے دیا تھا اور پورے کشمیر میں بچے بچے کی زبان پراس کا نام تھا۔ نو عمر برہان آبادی کے اعتبار سے دنیا کے دوسرے بڑے مُلک بھارت کے حکمرانوں اور جرنیلوں کے لئے چیلنج بن چکا تھا اس کا ذکر نام نہاد کشمیر اسمبلی میں بھی ہوتا، بعض ارکان اسمبلی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ حکومت مظفروانی سے مذاکرات کرے ۔ برہان وانی کی انفرادیت اورخوبی یہ تھی کہ اُس نے کبھی اپنا نام نہیں چھپایا، اپنا منہ نہیں ڈھانپا۔ وہ جرأت اور بہادری کا استعارہ بن چکا تھا وہ بھارت سرکار،اس کے جرنیلوں، پولیس افسروں اور کٹھ پتلی حکومت کے سامنے کشمیر کی آزادی کی بات کرتا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ظلم،جبر، تشدد اورخونِ ناحق ہمیشہ ردعمل کو جنم دیتا ہے ۔بھارتی حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ ظلم کے ہتھکنڈوں سے آزادی کے بڑھکتے شعلوں کو ٹھنڈا کر رہے ہیں، لیکن بھارتی فوج کا ظلم آزادی کے شعلوں کو مزید تیز ترکر رہا ہے۔ یہی معاملہ برہان وانی شہیدکا تھا۔ بھارتی فوج کے مظالم نے اسے شعلہ مستعجل اور پھر آتش فشاں بنا دیا۔برہان وانی کو جہاں جہاد اور شہادت سے بے پناہ محبت تھی وہاں وہ پاکستان کا بھی والا وشیدا تھاافضل گورو کو 9فروری 2013کو آزادی کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں شہید کردیا گیا بھارت انتہائی خفیہ طریقے سے افضل گورو کو جیل میں پھانسی دی بھارتی انتہاپسندی سے پہلے عالم اسلام اوربین الاقوامی دنیا بخوبی واقف ہے مگر یہ انتہاپسندی کاکوئی اقدام ہاتھ سے جانے نہیں دیتا افضل گورو اعلیٰ تعلیمی یافتہ نوجوان تھا بھارتی ریاستی دہشت گردی نے اسے میدان جہاد کا شہسوار بنایا حتی کہ بھارتی حکومت نے اس عظیم آزادی کے مجاہد کو پارلیمنٹ پر حملے کے فرضی کیس میں پھانسی دے کر تہاڑ جیل کے احاطہ میں دفنا دیا افضل گورو نے اپنی آخری وصیت کہا کہ مجھے پھانسی دیئے جانے پر افسوس کرنے کے بجائے ان کو حاصل ہونے والے مقام کا احترام کریں اور جدوجہد آزادی جاری رکھیں شہادتوں کا سلسلہ جاری وساری ہے برہان مظفر وانی کی شہادت کی بعد تحریک آزادی اپنے عروج پر ہے کشمیر میڈیا ریسرچ سیل کے اعدادوشمار کے مطابق برہان مظفروانی کے شہادت سے اب تک بھارتی فوجیوں کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی وجہ سے خواتین اور بچوں سمیت 20ہزار935 سے زائد افراد زخمی ہوئے، 73 افراد پیلٹ گن کی وجہ سے مکمل طورپر بینائی سے محروم ہوگئے جبکہ 11 ہزار کشمیری نوجوانوں کے بینائی سے محروم ہونے کا خدشہ ہے بھارتی فورسز نے اس عرصے کے دوران 65 ہزار815 مکانوں ، دکانوں اور دیگر عمارتوں کوتباہ کیا جبکہ اس دوران 11 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار اور 757 خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ بھارتی فوجی جنوری 1989 سے 5فروری 2018 تک 94 ہزار 907 معصوم کشمیریوں کو شہید کر چکے ہیں مودی کی انتہاپسندی دن بدن بڑھتی جارہی ہے کنڑول لائن پر گولہ باری معمول بن چکی ہے میڈیا رپورٹ کے مطابق کنڑول لائن کے اگلے مورچوں پر گن شکن توپیں نصب کردی گئیں ہیں نریندر مودی مسئلہ کشمیر کو دبانے کے لیے انتہاپسندی کو فروغ دے رہا ہے اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو اس کے نتائج انتہائی منفی ہوں گے بھارتی نام نہاد جمہوری نمائندگان کو جان لینا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے جسے حل کرکے ہی خطے میں امن واستحکام لایا جاسکتاہے تاریخ شاہد ہے نہ کوئی آزادی کی تحریک دباسکا ہے نہ دباپائے گا انسانی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ظلم کو کبھی خالق کائنات نے دوام نہیں بخشا اسے زوال نصیب ہوا کہاں ہیں قیصر وکسریٰ کی قوتیں ؟ کہاں گیا برطانوی راج ؟ روس کی سپر پاور کو کیا ہوا؟بھارتی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں اور کشمیریوں کو ان کی امنگوں کے مطابق ان کا حق دینا چاہیے اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر بھارت اپنی موجودہ جغرافیائی حالت کو برقرار نہ رکھ پائے گااور ہرگھر سے مظفربرہان وانی ،افضل گورو اورمقبول بٹ نکلے گا جسے 10فروری 2018کو جموں کشمیر کی کٹھ پتلی اسمبلی میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا ایسے پورے بھارت میں پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجیں گے شہادہ کی قربانیاں رائیگا ں نہیں جائینگی بلکہ رنگ لائینگی اور کشمیر کا ہر پیروجوان برہان وانی ،مقبول بٹ اورافضل گورو بنے گا آر ایس ایس کی اسلام دشمنی بے نقاب ہوچکی ہندوانتہاپسند بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم وتشدد کررہے ہیں دنیا اس سے بے خبر نہیں ہے اس ظلم کی اوازیں بھارتی پارلیمنٹ میں سنائی دے رہی ہیں اقوام عالم اورانسانی حقوق کی تنظیمو ں کو بھارت میں ہونے والے مسلمانوں پرمظالم کا نوٹس لینا چاہیے اور آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا چاہیے اسلام کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا یہ بلندی کا مینار ہے اسے گرانے والاخود نیست ونابود ہوگا ۔

ستونِ دار پہ سروں کے چراغ رکھتے چلو
کہ جب تلک ظلم کی یہ سیاہ رات چلے 


Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved