تازہ ترین  

خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل ومناقب
    |     6 months ago     |    اسلامی و سبق آموز
حضرت ابوبکر صدیق ؓ محبوب بارگاہ ومحرم اسرارنبوت تھے،حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ صبح وشام ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے،مدینہ منورہ میں بھی اکثر مہمات امور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی شرکت سے طے پاتےتھے اور اس کی وجہ سے ان کو اکثر رات کے وقت دیر تک کاشانۂ اقدس پر حاضر رہنا پڑتا تھا؛چنانچہ ایک دفعہ انہوں نے تین اصحاب صفہ کو کھانے پر مدعو کیا؛لیکن وہ خود دیر تک بارگاہ نبوت سے واپس نہ آسکے،جب رات زیادہ گزرگئی اور گھر آئے تو یہ معلوم ہوا کہ مہمانوں نے اب تک کھانا نہیں کھایا، اپنے صاحبزادے پر سخت برہم ہوئے۔ 
(بخاری کتاب الادب باب قول الضیف لااکل حتی تاکل وکتاب المنافت باب علامۃ النبوۃ قبل اسلام)
حضرت عمر ؓ سے بھی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات رات بھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے مسلمانوں کے معاملات میں مشورہ فرمایا کرتے تھے، نیز ان کے رازداری وخلوص پر اعتماد اس قدر تھا کہ پوشیدہ سے پوشیدہ بات کہہ دیتے تھے، ہجرت کےواقعات پر غور کرو تو معلوم ہوگا کہ رازداری کا تمام کام صرف حضرت ابوبکرؓ اور ان کے اہل وعیال سے متعلق تھے،حضرت ابوبکر ؓ کو ساتھ لے کر غار میں پوشیدہ ہونا،حضرت عبداللہ ؓ کا رات کے وقت آکر مشرکین کے حالات سے باخبرکرنا،حضرت عامر بن فہیرہ ؓ کا روزانہ بکریاں لانا،حضرت اسماء کا کھانا پہنچانا،غرض اس قسم کے تمام امور جن کا تعلق رازداری سے تھا،وہ سب خاندان صدیقی کے سپرد تھے،حضرت سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کواپنے اس رفیق جاں نثار کے ساتھ مخصوص تعلق اور خلوص تھا،اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا نہایت محبت آمیز پیرایہ میں اظہار فرمایا؛چنانچہ وفات سے کچھ دنوں پہلے جو تقریر فرمائی اس میں ارشاد ہوا۔(بخاری کتاب المناقب باب مناقب ابی بکر ؓ)"ابوبکراپنی صحبت اورمال کے لحاظ سے میرا سب سے بڑا محسن ہے اگر میں خدا کے سواکسی کو اپنا دوست بناسکتا تو ابوبکر کو بناتا؛لیکن اسلامی اخوت ومحبت افضل ہے،"
(بخاری کتاب المناقب باب مناقب ابی بکر ؓ)
اس کے بعد حکم ہوا کہ ابوبکر ؓ کے دروازہ کے سوا مسجد کے احاطہ میں جس قدر دروازے ہیں سب بند کردیئے جائیں گے۔(ایضاً) اسی طرح ایک دفعہ حضرت عمر وبن العاص ؓ نے پوچھا کہ مردوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ تو ارشاد ہواابوبکر ؓ۔
اسی غیر معمولی تقرب ورسوخ کی بنا پر صحابہ کرام ؓ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو برہم دیکھتے تھے تو ان ہی کی وساطت سے عفوودرگزرکی درخواست پیش کرتے تھے، ایک دفعہ حضرت علی ؓ نے ابو جہل ابن ہشام کی لڑکی سے نکاح کرنا چاہا، چونکہ یہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف تھا اس لیے جب وہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے توروئے انور پربرہمی کے آثار نمایاں تھے،یہ دیکھ کر حضرت علی ؓ باہر چلے آئے اور حضرت ابوبکر ؓ کو ساتھ لے کر پھر حاضر خدمت ہوئے،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو دیکھا تو چہرہ مبارک ہشاش بشاش ہوگیا اور برہمی کے آثار جاتے رہے، اسی طرح ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلاف معمول صبح سے شام تک خاموش رہے اورجب عشاء کی نماز پڑھ کر کاشانۂ اقدس کی طرف تشریف لے چلے تو گوصحابہ کرام کو اس غیر معمولی سکوت پر سخت خلفشار تھا، تاہم کسی کو زبان کھولنے کی جرأت نہ تھی،بالآخر سب نے حضرت ابوبکر ؓ کو آگے بڑھایا،اور انہوں نے اس سکوت کی وجہ دریافت کی تو ارشاد ہوا کہ جو دنیا وآخرت میں ہونے والا ہے وہ سب آج میرے سامنے پیش کیا گیا تھا،اس کے بعد بالتفصیل قیامت کے واقعات بیان فرمائے،اصابت رائے اور معاملہ فہمی کا یہ حال تھا کہ انہوں نے جس معاملہ میں جو رائے دی وہ مقبول ہوکر ر ہی، راز داری کا یہ عالم تھا کہ معمولی سے معمولی راز کو کبھی ظاہر ہونے نہ دیا،ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے ان کو اپنی صاحبزادی حفصہ ؓکا پیغام دیا، سن کر خاموش رہے اور جب کچھ دنوں کے بعد وہ حرم نبوی میں داخل ہوگئیں توحضرت عمر ؓ سے ملاقات کرکے کہاشاید تم کو میری خاموشی ناگوار ہوئی ہوگی،بولے کیوں نہیں؟فرمایا"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادہ سے آگاہ تھا اوراس راز کو قبل ازوقت ظاہر نہیں کرسکتا تھا(بخاری کتاب الغازی باب غزوہ بدر) غرض ان ہی اوصاف نے حضرت صدیق اکبر ؓ کو بارگاہ نبوت میں سب سے زیادہ معتمد علیہ اوربارسوخ بنادیا تھا۔
علم وفضل
حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے گوکسی مکتب میں باقاعدہ زانوئے تلمذطے نہیں کیا تھا تاہم فطری جودت طبع اور دربار نبوت کی حاشیہ نشینی سے آسمان فضل وکمال پر مہردرخشاں ہوکر چمکے،فصاحت وبلاغت میں کمال رکھتے تھے،ابتداء میں شاعری کاذوق بھی تھا؛لیکن اسلام کے بعد ترک کردیا تھا،کبھی کبھی جذبات وخیالات خودبخود نظم موزوں کے قالب میں ڈھل جاتےتھے،ایک دفعہ حضرت امام حسین ؓ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہوگئی، بے اختیار ان کو گود میں اٹھالیا اورفرمایا:
وبابی شبہ النبی لیس شبیھا بعلی
میراباپ فداہو یہ نبی سے مشابہ ہے علی سے مشابہ نہیں ہے
(یعقوبی ج۲ : ۱۴۵)
ذوق سخن
اسلام کے بعد صرف ایسے اشعار سے دل چسپی رہ گئی تھی جن میں خداکی عظمت وجلالت کاذکرہوتا تھا،ایک مرتبہ لبید نے مصرعہ پڑھا الاکل شئی ماخلا اللہ باطل یعنی خد کے سوا تمام چیزیں باطل ہیں،توفرمایا"تم نے سچ کہا"لیکن جب اس نے دوسرامصرعہ پڑھا وکل نعیم لامجالۃ زائل،یعنی ہر نعمت یقینا زائل ہوجائے گا تو بولے غلط ہے خدا کے پاس بہت سی ایسی نعمتیں ہیں جو زائل نہ ہوگی(تاریخ الخلفاء :۱۰۳) حالت نزع میں حضرت عائشہ ؓ سرہانے بیٹھی ہوئی یہ شعر پڑھ رہی تھیں:
من لایزال دمعہ مقنعا فانہ فی موت مدفوق
فرمایا یہ نہ کہو ؛بلکہ کہو:
وَجَاءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّo ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ
"موت کی بے ہوشی کا ٹھیک وقت آگیا اوریہ وہ چیز ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔"
انہوں نے اس کے بعد دوسرا شعرپڑھا:
وابیض یستسقی انعام بوجھہ ثمال الیتامی عصمۃ للارامل
گوراجس کے چہرے سے بادل بھی پانی طلب کرتا ہے یتیموں کا ماویٰ اوربیواؤں کا ملجا
بولے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تھی۔
(تاریخ الخلفاء : ۸۱،۸۲)
تقریروخطابت
تقریر وخطابت کاخدادا دملکہ حاصل تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اورسقیفہ بنی ساعدہ میں جو تقریریں کیں وہ اوپر گزرچکی ہیں اس سے برجستگی اورزورکلام کا اندازہ ہوگا، ان معرکۃ الآرا تقریروں کے علاوہ ان کی عام تقریریں بھی نہایت پراثر ہوتی تھیں،ہم یہاں ایک تقریر کے چند فقرے نقل کرتے ہیں:
أين الوضاۃ الحسنة وجوههم المعجبون بشبابهم؟ أين الملوك الذين بنوا المدائن وحصنوها؟ أين الذين كانوا يعطون الغلبة في مواطن الحرب؟ قد تضعضع أركانهم حين أخنى بهم الدهر وأصبحوا في طبقات القبور الوحا الوحا ثم النجاء النجاء.
"آج وہ حسین اورروشن اوروفورشباب سے حیرت میں ڈالنے والے چہرے کہاں ہیں؟آج بڑے بڑے شہروں کے بسانے والے اوران کوقلعہ بند کرنے والے سلاطین کدھر گئے؟ آج بڑے بڑے غالب آنے والے مردمیدان سورما کیاہوئے؟ زمانہ کی گردشوں نے ان کی قوتیں پست کردیں اوران کے بازو توڑدیئے اورقبر کی تاریکی میں ہمیشہ کے لئے سوگئے"
تقریر کی حالت میں رقت طاری ہوجاتی تھی،ایک دفعہ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا میں جس جگہ کھڑا ہوں گذشتہ سال خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرماتھے، یہ کہہ کر زار وقطار رونے لگے، اسی طرح ایک روز تین مرتبہ تقریر کا ارادہ کیا اورہر مرتبہ ایک دو جملے کہہ کر گلوگرفتہ ہوگئے۔
(مسند ج ا :۲،۳)
نسب دانی
علم الانساب یعنی قبائل کا نام ونسب یادرکھنا، اس زمانہ کا بڑا مایہ ناز علم تھا، حضرت ابوبکرصدیق ؓ اس فن میں خصوصیت کے ساتھ کمال رکھتے تھے،حضرت جبیر بن مطعم ؓ جو طبقہ اصحاب میں سب سے بڑے نساب گزرے ہیں،فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اس فن کو حضرت ابوبکر ؓ سے سیکھا ہے جو نسب دانی کی حیثیت سے تمام عرب میں ممتاز تھے۔ 
(تاریخ الخلفاء : ۴۰)
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی نسب دانی سے اکثر موقعوں پر اسلام کو بھی فائدہ پہنچا،آغاز نبوت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ واشاعت کے لئے قبائل عرب میں تشریف لے جاتے تو عموماً یہ بھی ہمر کاب ہوتے اوراپنی نسب دانی کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں سے تعارف کراتے تھے۔
حضرت حسان بن ثابت ؓ قریش کی ہجو کیاکرتے تھے،ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلاکر کہا"تم قریش اورابوسفیان کی مذمت کرتے ہو کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میں بھی قریشی ہوں اور ابو سفیان میرا ابن عم ہے۔"انہوں نے کہا"خداکی قسم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے علیحدہ کرلیتا ہوں جس طرح جو خمیر سے الگ ہوجاتا ہے"ارشاد ہوا کہ ابوبکر ؓ کے پاس جاؤ وہ انساب عرب میں سب سے زیادہ ماہر ہیں، غرض اس روز سے وہ اس فن کی تعلیم کے لئے حضرت ابوبکر ؓ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ 
( استیعاب ج ۱ : ۱۲۸)
تعبیر رویا
خواب کی تعبیر میں بھی خداداد ملکہ تھا یہاں تک کہ صحابہ کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کو سب سے بڑا معتبر سمجھتے تھے اوراپنا اپنا خواب بیان کرکے تعبیر پوچھتے تھے،ایک دفعہ حضرت خالد بن سعید ؓ نے اسلام قبول کرنے سے پہلے خواب دیکھا کہ وہ دہکتی ہوئی آگ کے کنارے کھڑے ہیں اوران کے والدان کو اس میں جھونک رہے ہیں، اسی اثناء میں سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں اور ان کی کمرپکڑ کر کھینچ لیتے ہیں، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس خواب کو سنا تو فرمایا خالد تمہیں اس کے ذریعہ سے راہ حق کی ہدایت کی گئی ہے،تمہارا باپ تم کو کفر پر مجبورکرتا ہے؛لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع تمہاری نجات کا باعث ہوگی۔ 
(مستدرک حاکم ج۳ ،: ۳۴۸)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کچھ پہلے خواب میں تین چانداپنے حجرہ میں گرتے دیکھے،انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ سے اس کا تذکرہ کیا تو اس وقت خاموش رہے ؛لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اوران کے حجرے میں مدفون ہوئے تو فرمایا"عائشہ ؓ!یہ تمہارے حجرہ کا پہلا اورسب سے بہتر چاند ہے"
(موطاامام مالک : ۱۸۰)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی کبھی کبھی اپنا خواب بیان کرکے انہیں تعبیر کا حکم دیتے تھے، ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ چند سیاہ بھیڑوں میں بہت سی سفید رنگ کی بھیڑیں شامل ہوگئیں،حضرت ابوبکر ؓ سے اس کی تعبیر پوچھی تو انہوں نے عرض کیا"یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !سیاہ بھیڑ اہل عرب ہیں جو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع ہوں گے،پھر نہایت کثرت کے ساتھ عجمی جو سفید بھیڑوں کے رنگ میں ظاہر کئے گئےہیں، اسلام قبول کرکے ان میں شامل ہوجائیں گئے،ارشاد ہوا صحیح ہے فرشتہ آسمان نے بھی یہی تعبیر کی تھی۔ 
(تاریخ الخلفا،:،۱۰۴)
علم تفسیر
حضرت ابوبکر صدیق ؓ چونکہ سفر،حضر،خلوت وجلوت ،جنگ وصلح غرض ہر موقع پر مہبط وحی والہام صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف صحبت سے مستفیض ہوئے اورتمام امور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص مشیر تھے، اس لئے اسلامی علوم وفنون میں بھی قدرۃ ان کا پایہ سب سے بلند تھا،کلام اللہ اسلام کا اصل اصول ہے،حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو اس سے غیر معمولی شغف تھا،عموماً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیات قرآنی کی تفسیر پوچھا کرتے تھے،ایک دفعہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے بعد کیا چارہ کار ہے؟
لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَلَآ اَمَانِیِّ اَھْلِ الْکِتٰبِo مَنْ یَّعْمَلْ سُوْءًا یُّجْزَ بِہٖ
(فلاح عاقبت)نہ تمہاری آرزوپر (موقوف ہے)نہ اہل کتاب کی آرزوپر(؛بلکہ) جو براکام کرے گا وہ اس کی جزا پائے گا۔
کیا درحقیقت ہم برے کام کا بدلہ پاتے ہیں؟ ارشاد ہوا"ابوبکر!خداتمہاری مغفرت کرے،کیا تم بیمار نہیں ہوتے؟ کیا تمہیں کوئی رنج وصدمہ نہیں پہنچتا؟ اورکیا تمہیں کوئی مصیبت نہیں ستاتی؟ بولے کیوں نہیں،فرمایا یہ سب برائیوں ہی کا خمیازہ ہے۔.
(ابن جریر طبری ج۵ : ۱۷۳)
وہ ہرآیت کی شان نزول اوراس کے حقیقی مفہوم سے آگاہ تھے، نیز مختلف موقعوں پر انہوں نے جو باریک نکتے حل فرمائے ہیں،اس سے ان کی دقیقہ سنجی کااندازہ ہوسکتا ہے، ایک مرتبہ مجمع عام میں فرمایا،صاحبو! آپ قرآن شریف میں یہ آیت پڑھتے ہوں گے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۔ 
(مائدہ:۱۰۵)
"اے ایمان والو!تم اپنی فکر کرو؛اگر تم صحیح راستے پر ہوگے تو جو لوگ گمراہ ہیں وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے"
حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جب لوگ ناپسندیدہ امر کو دیکھتے ہیں اور اس کی اصلاح کی فکر نہیں کرتے تو خدا کا عذاب سب کے لئے عام ہوجاتا ہے یعنی اس آیت سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ دوسروں کی اصلاح کاخیال رکھنا ضروری نہیں ۔
(ابن جریر ج ۷ : ۹۰)
آیات قرآنی سے استدلال،استنباطِ احکام وتفریع مسائل میں مجتہدانہ ملکہ رکھتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو تقریر فرمائی اس میں برجستہ اس آیت سے انبیاء کی وفات پر استدلال لائے:
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌo قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُo اَفَا۟ىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِکُمْ
"یعنی محمد صرف رسول ہیں اور ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر گئے کیا اگر وہ مرجائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے"
(آل عمران:۱۴۴)
اس آیت نے یکایک ایمان واعتقاد کے متزلزل ستونوں کو مستحکم کردیا اورلوگوں کو ایسا معلوم ہوا کہ گویا یہ آیت پہلے سے موجود ہی نہ تھی،حضرت ابوبکر ؓ بیمار ہوئے تو لوگوں نے پوچھا طبیب بلائیں، چونکہ مسئلہ تقدیر پر بہت شدت کے ساتھ اعتماد رکھتے تھے، بولے"طبیب نے مجھے دیکھ کر کہا ہے انی فعال لمایرید یعنی ارادۂ خداوندی میں کوئی مانع نہیں ہوسکتا" 
(ابن سعد جزو ۳ قسم اول : ۱۴۱)
حدیث
حضرت ابوبکر صدیق ؓ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف سوا دوبرس زندہ رہے اس لئے ان سے مرفوع احادیث بہت کم مروی ہیں،علاوہ اس کے اس وقت تمام حاشیہ نشینان بساط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقید حیات تھے جن کی نگاہوں سے عہد نبوت کی کوئی بات پوشیدہ نہ تھی اس بناپر کثرت روایت کا کوئی موقع بھی نہ تھا تاہم انہوں نے جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے ان احادیث کو جن کا تعلق ضروری مسائل سے تھا خاص طورپر شہرت دی،مثلاً نصاب زکوۃ کا مفصل ہدایت نامہ تمام ملک میں شائع کیا اورحکم دیا کہ اگر کوئی عامل اس سے زیادہ طلب کرے تو نہ دیا جائے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےبعد تمام اہم مواقع پر خلیفہ اول ہی کی معلومات نے مسلمانوں کی رہبری کی،سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافت کا جھگڑا جب خوفناک حد تک پہنچ گیا تو سب سے پہلے انہی نے"الائمۃ من قریش"کی حدیث پیش کی جس نے اس بحث کا فیصلہ کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدفن کا سوال پیدا ہوا تو صدیق اکبر ؓ ہی نے اس عقدہ کو حل کیا اورفرمایا"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ انبیاء کی جائے وفات ہی ان کا مدفن ہے۔"
(موطا امام مالک :۸۰)
حضرت فاطمہ ؓ اورحضرت عباس ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متروکہ جائداد میں میراث طلب کی تو سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یہ حدیث پیش کی:
لانورث ماترکنا صدقۃ
ہمارا تمام متروکہ وقف ہے۔
بعد کو دوسرے صحابہ نے بھی اس کی تصدیق فرمائی،غرض وہ دربار نبوت میں اپنے مخصوص تقرب کی بناپر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ،طرز عمل اوران کے اسباب وعلل سے قدرۃ زیادہ باخبر تھے۔
امامت واجتہاد
امامت یاخلافت گونبوت ہی کا ایک پر تو ہے تاہم دونوں میں بہت بڑا فرق ہے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مسند نشین خلافت ہونے کے ساتھ ہی اس فرق کو جمہور مسلمانوں پر ظاہر کردیا اورفرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معصوم تھے،نیز خدا نے ان کو وحی سے ممتاز فرمایا تھا اورمیں ایک معمولی انسان ہوں اس لئے اگر تم مجھے راہ راست پر دیکھو تو اتباع کرو اوراگر کج راہ ہوجاؤں توسیدھا کردو۔
(مسند احمد ابن حنبل ج ا : ۲۰)
حضرت ابوبکر ؓ نے نبوت وخلافت کی اس تفریق کو عموماً قائم رکھا اورکبھی ان اختیارات وحقوق سے کام نہیں لیا جو صرف انبیاء کے لئے مخصوص ہیں،ایک دفعہ ایک مسلمان پر سخت برہم ہوئے،حضرت ابوبرزہ اسلمی ؓ نے ان کے تیوردیکھ کر عرض کیا یا خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی گردن اڑادیجئے، حضرت ابوبکر ؓ نے قتل کا نام سنا توخاموش ہوگئے کچھ دیر کے بعد غصہ فروہوا توابوبرزہ ؓ سے بلاکرپوچھا اگر میں اس کو قتل کرنے کا حکم دیتا تو کیا تم واقعی اسے مارڈالتے؟بولے ہاں:فرمایا خدا کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو یہ شرف حاصل نہیں ہے(ابوداؤد کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )اسی طرح کسی نے خلیفۃ اللہ کہہ کر مخاطب کیا تو فرمایا کہ مجھے خلیفۃ اللہ نہ کہو، میں نائب خدا نہیں ؛بلکہ نائب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور یہی میرے لئے بس ہے"
(استیعاب تذکرہ ابوبکر ؓ)
غرض خلیفہ اول کا یہ سب سے بڑا احسان ہے کہ انہوں نے خلافت ونبوت کی سرحدیں الگ کردیں ورنہ جس طرح عدم تفریق وامتیاز نے الوہیت ونبوت کے ڈانڈے ملادیئے ہیں اوردنیا کی اکثر قوموں نے انبیاء علیہم السلام کو مظاہر خداوندی تصورکرلیا ہے، اسی طرح خلافت ونبوت کی حدود میں بھی امتیاز دشوار ہوجاتا۔
اصول اجتہاد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشینوں کا سب سے بڑا فرض استنباط احکام وتفریع مسائل کی ایک شاہراہ قائم کرنا اورمذہبی دفتر کو اصولی حیثیت سے منضبط ومرتب کرنا تھا،خلیفہ اول نے اس سلسلہ میں جو کچھ کیا وہ آج بھی شریعت عزاء کا سنگ اساس ہے؛چنانچہ نصوص شرعیہ کی درجہ بدرجہ ترتیب اوراجماع کا طریقہ اسی ذات گرامی سے ظہور میں آیا، مسند دارمی میں ہے:
كَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا وَرَدَ عَلَيْهِ الْخَصْمُ نَظَرَ فِى كِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنْ وَجَدَ فِيهِ مَا يَقْضِى بَيْنَهُمْ قَضَى بِهِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِى الْكِتَابِ وَعَلِمَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم - فِى ذَلِكَ الأَمْرِ سُنَّةً قَضَى بِهِ ، فَإِنْ أَعْيَاهُ خَرَجَ فَسَأَلَ الْمُسْلِمِينَ۔ 
(مسنددارمی باب الفتیاومافیہ من الشدۃ)
"حضرت ابوبکر ؓ کی عدالت میں جب کوئی مقدمہ پیش ہوتا تھا تو پہلے قرآن کی طرف رجوع کرتے اگر امر متنازعہ فیہ کے متعلق اس میں کوئی حکم ہوتا تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے ورنہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتےاور جب اس سے بھی مطلب برآری نہ ہوتی تو مسلمانوں سے سوال کرتے۔"
قیاسی مسائل سے خوف
قیاسی مسائل یا نصوص قرآنی میں اپنی رائے کو دخل دینے سے محترز رہتے اورفرماتے کہ میں اگر کتاب اللہ یا نامعلوم مسائل میں خواہ مخواہ رائے زنی کروں تو کون سی زمین میرا بار اٹھائے گی اور کون ساآسمان مجھے سایہ دےگا۔
(طبقات ابن سعد ج ۳ قسم ۱ : ۲۶)حضرت ابن سیرین ؓ فرماتے ہیں کہ نامعلوم مسائل میں ابوبکر ؓ سے زیادہ کوئی خائف نہ تھا،تاہم ضرورت کے وقت قیاس سے کام لینے پر مجبور تھے۔
ایک دفعہ ایک ایسا مقدمہ پیش ہوا جس کے متعلق نہ قرآن میں کوئی تصریح تھی نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے مدد ملتی تھی، مجبورا قیاس سے کام لینا پڑا؛لیکن اس کے ساتھ ہی فرمایا"یہ میری رائے اگر صحیح ہے تو منجانب اللہ ہے اور اگر غلط ہے تو میری طرف سے ہے،میں خدا سے طالب مغفرت ہوں۔"
ایک قیاسی مسئلہ
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے قیاسی مسائل میں سب سے زیادہ مشہور دادا کی وراثت کا مسئلہ ہے،ہم اس کو بالتفصیل درج کرتے ہیں، اس سے ان کی اجتہادی قوت کا اندازہ ہوگا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی میت ورثہ میں صرف دادا اوربہن بھائی چھوڑے یعنی اصول میں باپ اورفروع میں کوئی نسبی اولاد نہ ہو تو مستحق وارث کون ہوگا؟ دادایا بھائی بہن؟ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اوران کے ساتھ تقریبا چودہ صحابہ کرام جن میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اورحضرت ابوموسی اشعری وغیرہ شامل ہیں،دادا کو باپ کے مرتبہ میں قرار دے کر بھائی بہن کو محجوب الارث سمجھتے تھے؛لیکن صحابہ کرام ؓ کی ایک بڑی جماعت اس سے اختلاف رکھتی ہے اوربھائی بہن کو اصل وارث قراردیتی ہے،یہ اختلاف درحقیقت لفظ کلالہ کی تشریح پر مبنی ہے،کیونکہ قرآن شریف میں آیا ہے:
یَسْتَـفْتُوْنَکَo قُلِ اللہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِo اِنِ امْرُؤٌا ہَلَکَ لَیْسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَہٗٓ اُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَo وَہُوَیَرِثُہَآ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہَا وَلَدٌ
(نساء:۱۷۶)
"لوگ تم سے فتوی طلب کرتے ہیں تو کہہ دو کہ اللہ کلالہ کے بارے میں تم کو حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی بہن ہو تو اس کو ترکہ سے آدھا ملے گا اوربہن مرجائے اور اس کی اولاد نہ ہو تو وہ اس کا وارث ہوگا۔"
اس آیت میں گوباپ کی کوئی تصریح نہیں ہے، تاہم اس حد تک سب کو اتفاق ہے کہ کلالہ کی صورت میں باپ کا نہ ہونا ضروری ہے؛لیکن حضرت ابوبکر صدیق ؓ دادا کا نہ ہونا بھی ضروری قراردیتے ہیں اور اس آیت سے استدلال لاتے ہیں:
وَاِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امْرَاَۃٌ وَّلَہٗٓ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ
"اگر کسی ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے اصول فروع میں کوئی نہ ہو اور (دوسری ماں سے) بھائی یا بہن ہو تو ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔"
(نساء:۱۲)
اس آیت میں علاتی بھائی بہنوں کی وراثت کا تذکرہ ہے اوریہاں بالاتفاق کلالہ کے یہ معنی ہیں کہ میت کے اصول وفروع میں کوئی نہ ہو،یعنی اگر میت کا دادا موجود ہوگا تو وہ کلالہ نہ ہوگا اورعلاتی بھائی محجوب الارث ہوں گے،اس بنا پر کوئی وجہ نہیں ہے کہ کلالہ کی یہی تشریح زیر بحث مسئلہ میں قائم رہے اوربلاوجہ اس کے معنی میں تفریق کی جائے۔
(بخاری کتاب الفرائض باب میراث الجدمع الاب والا خوۃ میں اس کی تفصیل ہے)





Comments

There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved