تازہ ترین  

بزمِ سخن طراز ادبی گروپ کی آٹھویں نشست
    |     10 months ago     |    گوشہ ادب
 فیصل آباد،چیف ایگزیکٹو ۔ بزمِ سخن طراز ادبی گروپ
معاونت۔صائمہ جبین مہک، انچارج ۔بزمِ سخن شیریں
ترتیب و اہتمام۔ نوشین اقبال نوشی
فیصل آباد( آپکی بات )12 فروری 2018 کو بزمِ سخن طراز ادبی گروپ کی آٹھویں نشست منعقد ہوئی ۔ جس میں بھارت جرمنی ،کینڈا ،پاکستان اور دوسرے ممالک کے شعراء نے مشقِ سخن کی ۔ اس نشست کی میزبانی کے فرائض سحر نورین سحر فیصل آباد ،ذکیہ شیخ بھارت اور جینا قریشی اسلام آباد نے انجام دئیے ۔ اس نشست میں نئے ابھرتے اور منجھے ہوئے شعراء نے شرکت کی ۔یہ نشست بہت کامیاب رہی ۔ چند شعراء کا کلام پیشِ خدمت ہے ۔
لوٹ آئے گا بیٹا بس اک آخری رونق
آنکھوں میں وہ ہے باقی اک بزرگ مائی کی
مشہود شاہد
خود ہی اُس کے بچّوں نے اس سے بے وفائی کی
لُوٹ کر زمانے سے جس نے پائی پائی کی
خضراحمد خان شرر
نور کا ہے یہ منظر مصطفیٰ ہیں جلوہ گر
اوج پر ہوئی قسمت دیکھئے چٹائی کی
فیصل قادری گنوری
اپنوں کے گلے گونٹے غیر کی گدائی کی
حد ہوئی زمانے میں رسم خود نمائی کی
نثار حامدی
ان کی باتیں سن لو تو توبہ توبہ کر اٹھو
جن کے در سے ملتی ہے سند پارسائی کی
محمد رضا نقشبندی
نیک جو بنے پھرتے ہیں زمانے میں یارو
جانتے حقیقت سب ان کی پارسائی کی
انعام الحق معصوم صابری
عشق کے اصولوں میں صاف صاف لکھا ہے
قابل مذمت ہے جس نے لب کشائی کی
فوزی بٹ
اک خلش نہیں مِٹتی اک ستم نہیں بھولا
تم نے بے وفائی کی جگ نے جگ ہنسائی کی
محمد شہزؔ اد حیدر
برملا مجھے کیوں الزام دے رہا ہے تو
میں عجم ہوں جاناں کب میں نے لب کشائی کی
خورشید زوہیب
روزگار کی خاطر گاؤں چھوڑ آئے تھے
کھو دیا مگر جتنا اتنی کب کمائی کی
خمار دہلوی
ٹوٹ کے میں بکھرا تھا آنسوؤں کی بارش میں
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
(خاور چشتی)
چُن لیا تھا جو زنداں ہم نے اِس محبت میں
آس نہ رہی باقی اُس سے اب رہائی کی
ساحلؔ منیر
تہمتیں لگانے میں ٹوٹ جاؤ گے اک دن
عادتیں پرانی ہیں اس گلی گدائی کی
قیصر عزیز قیس
علم ہے ترقی ہے جوش ہے سیاست ہے
آج اگر ضرورت ہے تو ہے رہنمائی کی
رضوان انجم
گاؤں میں بھی ویسے تھے چار حرف روٹی کے
کس لیے اُٹھاؤ غم ؟ شہر میں پڑھاء کی
بسمل ؔ شہزاد
درد کے اندھیروں کو لفظوں سے کِیا روشن
عمر بھر سحر ہم نے صرف یہ کمائی کی
سحر نورین سحر
زینؔ شب کو تنہائی داستاں سناتی ہے
آپ کی محبت کی آپ کی جدائی کی
سید انوارزینؔ
سانس کے پرندے کی سانس پھول جانی ہے
ہے عبث تریغم سے آرزو رہائی کی
ابو لویزا علی سید علی رضوی
ہم کو یہ گلہ ہے جاں اپنے ہی ستاروں سے
ہم نے یہ نہیں بویا، آج جو کٹائی کی
خالدہُما
خوب دستکیں بھی دیں عشق کی عدالت میں
نہ ملی وجہ پھر بھی قید سے رہاء کی
محمد افتخار ماہر
جیت لینا ہر بازی ہار نے سکھایا تھا
اور میری ہمت نے چاہ تک رسائی کی
نائلہ شیخ فلاحی
آدمی دمِ رخصت سوچتا ہے یہ آخر
عمر رائگاں کر دی میں نے کیا کمائی کی
نوشین اقبال نوشی
زہر اُس کے دل میں تھا، مرے خلاف اتنا کیوں
گالیاں ہی دیں مجھ کو، جب بھی لب کشائی کی
سبینہ سحر
عشق کی صعوبت کو میں نے سو طرح جھیلا
دکھ کے ہاتھ رنگ لیے، زخم کی سگائی کی
فرخ حجاز
آپ کی محبت میں نعتِ مصطفےٰ ﷺ لکھی
ساری عمر کی میں نے بس یہی کمائی کی
سمیعہ ناز لیڈز، برطانیہ یوکے
وقت کب گزرتا ہیپرسکوں پرندے کا
کربناک ہوتی ہے آرزو رہائی کی
جمیل حیدرعقیل
گرچہ دل شکستہ تھیں ساعتیں جدائی کی
تیری یاد نے آ کر خوب دل آرائی کی
ساز دہلوی
اس کے تلخ لہجے کو شوخیاں سمجھتے تھے
آج تو مگر اس نے یار بے حیائی کی
محمد محمود عالم، (انڈیا)
شرط ہے وفاؤں کی عشق کے اصولوں میں
وہ بڑا ہی مجرم ہے جس نے بے وفائی کی
شہزاد خان
اس کا اپنا رنگ ہے کیسے یہ بتاوں میں
لزت جو اسد ٹھہری پیار میں لڑائی کی
شاعر زین اسد ساغر
ذات، روزگار اور عشق بٹ گیا میں تینوں میں
میں نے زندگی عارف صرف اک تہائی کی
عارف نسیم فیضی
گر بیاں کروں تیرا آسماں زمیں روئے۔
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی۔
ساگر یگانہ
کشمکش ہے اور کیا اس کے سوا نہیں کچھ بھی
کون کرتا ہے جاناں فکر جگ ہنسائی کی
علیم اسرار
مری شخصیت نکھرنے میں،ہاتھ دشمنوں کا ہے
مری خامیاں گنا گئے،مرے ساتھ کتنی بھلاء کی
سوفیہ احمد جدہ





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved