تازہ ترین  

ہم پرورشِ لوح وقلم کرتے رہیں گے
    |     7 months ago     |    گوشہ ادب
رائٹر ویلفیئر فاﺅنڈیشن اینڈہیومن رائٹس پاکستان کے زیر اہتمام تقریب تقسیم ایوارڈ

اس پر وقار تقریب میں 140 مختلف ایوارڈ تقسیم کئے گئے (الحمدللہ)



حفیظ چوہدریممبر :۔رائٹر ویلفیئر فاﺅنڈیشن پاکستان


اعزاز:۔پاکستان ادبی ایوارڈ

رائٹرویلفیئر فاﺅنڈیشن اینڈ ہیومن رائٹس پاکستان ،مملکت خدادادپاکستان کی وہ واحد نمائندہ تنظیم ہے جو تمام مسلکی تعصبات سے ہٹ کر صحافی برادری کی فلاح وبہبود کیلئے احسن انداز سے کام کررہی ہے ۔
علم و ادب اور قلم و قرطاس کے میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دینے والوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ قلم قبیلے کی متعدد نمائندہ تنظیمیں اہل قلم کی فلاح و بہبود کے لیے سالہاسال سے خدمات فراہم کرنے کی دعویدارتوضرور ہیں مگر اکثر و بیشترنمائندہ تنظیموں کی کارکردگی صرف اور صرف سوشل میڈیا تک ہی محدود نظر آتی ہے۔قلم و قرطاس کے میدان میں اہل قلم کی فلاح و بہبود اور تربیت و رہنمائی کے حوالے سے عملی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو رائٹرز ویلفیئر فاو¿نڈیشن اینڈ ہیومن رائٹس پاکستان کی کارکردگی روز روشن کی طرح عیاں نظر آتی ہے۔ 11 فروری 2018 ، بلدیہ ہال خانیوال میں رائٹرز کنونشن و تقریب تقسیم ایوارڈز کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں ملک بھر سے اہل قلم افراد نے جوق در جوق شرکت کی۔
جس کی صدارت چیئرمین بلدیہ خانیوال ڈاکٹرمسعودمجید اورڈاکٹرمحمدیوسف صدیقی نے کی ،مہمان خصوصی میں معروف شاعر وادیب محترم جناب زاہد شمسی ،نامور کالم نگار محترم جناب سجادجہانیہ شامل تھے ،ملک کے چاروں صوبوں سے سمیت شمالی علاقہ جات سے بھی رائٹر نماندگان نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔اس کنوشن میں سب سے زیادہ تعداد مملکت خداداد پاکستان کے دل لاہور کے صحافیوں کی تھی ۔
صحافت اور صحافی کی تعریف
”صحافت ایک ہنر ہے ایک فن ہے یہ ایسا فن ہے جس میں تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال ہوتا ہے۔“ عموماً لوگ صحافت کو ادب کے دائرے سے باہر ہی رکھتے ہیں لیکن یہ ادب کا ہی ایک حصہ ہے۔ ادب اور صحافت کے درمیان ایک واضح خط ہوتے ہوئے بھی کئی ایک امور میں دونوں مشترک ہیں۔ دونوں کا بنیادی مقصد ابلاغ ہے۔
صحافت کی جامع تعریف بیان کرنا مشکل کام ہے۔ کچھ صحافیوں بھائیوںاور اساتذہ کرام نے صحافت کی تعریف بیان کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ مختلف انسکا ئیکلوپیڈیا میں بھی صحافت کی تعریف یا مفہوم درج ہے۔ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں صحافت کے معنی اس طرح دیئے گئے ہیں۔ ”جدید عربی میں اخبار کے لئے ”جریدہ“ کی اصطلاح مستعمل ہے۔ اس کا مترادف صحیفہ ہے جو بصورت واحد کم استعمال ہوتا ہے لیکن اس کی جمع ”صحف“ کا استعمال جرائد کی بہ نسبت عام ہے۔“اردو انسائیکلوپیڈیامیں صحافت کا مفہوم یوں درج ہے:۔”اخبارات و رسائل اور خبر رساں اداروں کے لئے خبروں اور خبروں پر تبصروں وغیرہ کی تیاری کو صحافت کا نام دیا جاتا ہے یوں تو صحافت کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ، لیکن جدید دور کی مطبوعہ صحافت کے فن نے پچھلے تین سو سال میں مختلف منزلوں سے گذر کر موجودہ شکل اختیار کی ہے۔“
”صحافت“ جدید وسائل ابلاغ کے ذریعہ عوامی معلومات، رائے عامہ اور عوامی تفریحات کی باضابطہ اور مستند اشاعت کا فریضہ ادا کرتی ہے۔“
صحافت عربی زبا ن کا لفظ ہے جو ”صحف“ سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی کتاب یا رسالے کے ہیں۔ یعنی ایسا مطبوعہ مواد، جو مقررہ وقفوں کے بعد شائع ہوتا ہے صحافت کہلاتا ہے۔ اردو اور فارسی میں یہی اصطلاح رائج ہے جبکہ انگریزی میں اسے Journalism کہا جاتا ہے۔ جو ”جرنل“ سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی روزانہ حساب ،کھاتا یا روزنامچہ کے ہیں۔جنرل کو ترتیب دینے والے کے لئے Journalist یا صحافی کی اصطلاح رائج ہے۔ ایسے صحافی جو اس پیشہ کو مکمل طور پر اپناتے ہیں یا اسے ذریعہ روزگار بناتے ہیں انہیں Journalist Working کہا جاتا ہے۔ جو صحافی جزوقتی طور پر کام کرتے ہیں یا کسی ایک اخبار سے وابستہ نہیں رہتے بلکہ مختلف اخبارات میں مضامین، فیچر، کالم لکھتے ہیں وہ آزاد صحافی (Freelance Journalist) کہلاتے ہیں۔
اعلیٰ ادب ہی صحافت ہے اور یہ عجلت میں لکھا گیا ادب ہے۔ صحافت کے ابتدائی دور میں ادب اور صحافت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم تھے۔ ادبی شہ پاروں کے ذریعہ صحافت کا کام لیا جاتا تھا۔
مولانا ظفر علی خان نے صحافت کو ملت و قوم کی خدمت کے لئے منتخب کیا۔ اخبار ”زمیندار“ کی شہرت کا یہ حال تھا کہ سرحد پر لوگ ایک آنہ دے کر خریدتے تھے اور ایک آنہ دے کر پڑھواتے تھے۔ جب کہ مولانا محمد علی جوہر نے کافی غوروخوض کے بعد صحافت کو ملک و قوم کی خدمت کا ذریعہ بنایا۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے صحافت کو ملک و ملت کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ صحافت کی راہ انہوں نے تجارت اور منفعت کی نیت سے اختیار نہیں کی تھی بلکہ وہ قومی اور ملی بیداری پیدا کرنے کے متمنی تھے۔ صحافت سے متعلق ان کا واضح نقطہ نظر ملاحظہ ہو:
”ہم اس بازار میں سودائے نفع کے لئے نہیں بلکہ تلاش زیاں و نقصان میں آئے ہیں۔ صلہ و تحسین کے لئے نہیں بلکہ نفرت و دشنام کے طلب گار ہیں۔ عیش کے پھول نہیں بلکہ خلش و اضطراب کے کانٹے ڈھونڈھتے ہیں۔ ہمارے عقیدے میں تو جو اخبار اپنی قیمت کے سواءکسی انسان یا جماعت سے کوئی اور رقم لینا جائز رکھتا ہے وہ اخبار نہیں بلکہ اس فن کے لئے ایک دھبہ ہے اور سر تا سر عار ہے۔ ہم اخبار نویسوں کی سطح کو بہت بلندی پر دیکھتے ہیں اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فرض ادا کرنے والی جماعت سمجھتے ہیں۔ پس اخبار نویس کے قلم کو ہر طرح کے دباو¿ سے آزاد ہونا چاہئے اور چاندی سونے کا سایہ بھی اس کے لئے قاتل ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحافت مشن ہے یا کاروبار؟ چونکہ صحافت معاشرے پر اثرانداز ہوتی ہے اور معاشرہ اس پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس لئے صحافت کی بے پناہ ترقی کے اس دور میں معاشرے سے اس کا چولی دامن کا ساتھ ہوگیا ہے۔ صحافت مشن بھی ہے کاروبار بھی اور ان دونوں عناصر کی یکجائی کے بغیر صحافت کا تصور ممکن نہیں۔
”صحافت ایک عظیم مشن ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو تازہ ترین حالات سے آگاہ کیا جائے۔ عصرحاضر کے واقعات کی تشریح کی جائے اور ان کا پس منظر واضح کیا جائے تاکہ رائے عامہ کی تشکیل کا راستہ صاف ہو۔ صحافت رائے عامہ کی ترجمان اور عکاس بھی ہوتی ہے اور رائے عامہ کی راہنمائی کے فرائض بھی سرانجام دیتی ہے۔ عوام کی خدمت اس کا مقدس فرض ہے۔ اس لئے صحافت معاشرے کے ایک اہم ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔“
معیاری صحافت :
ایسے اخبار و رسالے جو علمی اعتبار سے اونچے طبقے میں پڑھے جاتے ہیں وہ ادبی رسالے ،ماہنامے،سہ ماہی ، ششماہی یا سالانہ مجلے معیاری صحافت یا ادبی صحافت کے زمرے میں شامل کئے جاسکتے ہیں۔ ان کی اشاعت کم ہوتی ہے مگر دانشور طبقہ میں پڑھے جاتے ہیں اس لئے اثر زیادہ رہتا ہے۔ ان اخبارات و رسائل کی قیمت خرید بہت زیادہ نہیں ہوتی۔
مطبوعہ صحافت :
ایسے اخبار و رسائل جو طبع اور شائع ہوتے ہیں مطبوعہ صحافت کے زمرے میں آتے ہیں۔ روزنامے، سہ روزہ اور ہفتہ روزہ اخبارات کے علاوہ پندرہ روزہ، ماہنامے، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ مجلے پیشہ ورانہ رسائل غرض و ہ تمام صحافتی مواد جو طبع کیا جاتا ہے۔ مطبوعہ صحافت کے دائرے میں آتا ہے۔
رسائل :
رسالہ عربی کے مادہ ”رسل“ سے بنا ہے جس کے معنی پہنچاننے کے ہیں۔ یہ عوام میں ترسیل کا بہترین وسیلہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کی تفسیر بھی کرتے ہیں۔ان کے ذریعے تاریخ کے تسلسل کو سمجھنا آسان ہوتا ہے۔ ادبی ذوق کی تہذیب و ترتیب میں بھی رسائل کا بڑا حصہ ہے۔ رسائل کے ذریعے افراد کے رجحان اور پورے معاشرے کی سمت و رفتار کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ رسائل کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ادبی، علمی، فنی، طبی، قانونی، روحانی، خالص تفریح اور پیشہ ورانہ رسائل قابل ذکر ہیں۔ ان میں ہفت روزہ، پندرہ روزہ ، ماہنامے، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ مجلے شامل ہیں۔
قارئین محترم !جیساکہ آپ جانتے ہیں کہ ملک بھر میں صحافی برادری کو متحد ومتفق رکھنے کیلئے بہت سے تنظیمیں کام کررہی ہیں مگررائٹرویلفیئرفاﺅنڈیشن کے نام اور کام سے کون شخص ہے جو واقف نہیں۔آج کا یہ کالم تجدید عہدکیلئے لکھا جا رہا ہے ۔ہماری دعاہے کہ اللہ رب العزت اس دینی ، فکری،اصلاحی اور صحافتی تنظیم کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطافرمائے اورہر دل عزیز شخصیت ڈاکٹر محمد یوسف صدیقی ،آفتاب احمدخان،شہزاد اسلم راجہ ،زاہد شمی صاحب،ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور،مرزایٰسین بیگ،مفتی عبد الخالق سکھانی،ملک محمد شہباز،عثمان علی معاویہ ،رشید احمد نعیم ،مفتی کریم اختر اورکزئی سمیت میں پوری ٹیم کا بے حد مشکور ہوں کہ انہوں نے اس پرفتن دور میں صحافی برادری کے منظم کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی اور پھر احسن طریقے سے اس کی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے محترم جناب سجادجہانیہ کا کہنا تھا کہ رائٹراپنے قلم کی طاقت سے معاشرے میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی فلاح وبہبود کیلئے کام ہوناچاہئے۔
راقم کا تعلق بنیادی طور پر اہل صحافت کے قبیل سے ہے ۔ کیوں کہ راقم کے والد ماجد مفکر اسلام ،نامورصحافی ومصنف حضرت مولانا اللہ وسایا قاسم رحمةاللہ علیہ اُس دور میں شعبہ صحافت سے منسلک ہوئے تھے جب دینی طبقہ نہ توصحافت کوجانتا تھا اور نہ ہی سمجھتا تھا ۔ان دنوںسوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا وجود ہی نہیں تھا ،یہ اس زمانے کی بات ہے جب خبریں سننے کیلئے بی بی سی نیوز اور PTVنیوزکا سہارا لیا کرتے تھے ۔آج تو ہرطرف ٹی وی چینلوں ،اخبارات اور سوشل میڈیا کی بھر مار ہے ۔
ان دنوں حضرت والد محترمؒ روزنامہ اوصاف کے سنڈے میگزین میں درس حدیث کے نام سے مستقل کالم لکھا کرتے تھے اور اہل علم حضرات کو مختلف اخبارات میں کالم لکھنے کی طرف متوجہ کیا کرتے تھے ۔
آج الحمد للہ دنیابھر کے علماءوطلباءاورمذہبی طبقے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اوراپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے صحافتی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ موجودہ حالات میں مملکت خدادادپاکستان میں دینی اداروں کے علماءوفضلاءکیلئے مختصرومفصل کورسسز کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔جس سے دینی مدارس کا نوجوان طبقہ بھی اب صحافی بننے لگا ہے ۔اس سلسلے میں جامعة الرشید کراچی اورمدارس میڈیا ورکشاپ اسلام آباد(حضرت مولانا عبد القدوس محمدی) کا اہم کردار ہے ۔(ہرسال کی طرح اس سال بھی اسلام آباد میں 20روزہ مدارس میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔)ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ لوگ ایک صحافی اور مفکر کا فرق سمجھیں۔ اخبار کا اور اپنا پیٹ بھرنے والے کالم نویسوں اور سیاسی پروگراموں کے تبصرہ نگاروں کی گفتگو سے متاثر ہونے کے بجائے کسی حکیم اور دانشور کو تلاش کریں۔ یہ لوگ کم ہوتے ہیں، لیکن ایک دو اچھے حکیم قوم کا بیڑہ پار لگانے کے لیے بہت ہوتے ہیں۔ خد اکا قانون ہے کہ کسی معاشرے سے ایسے لوگ ختم نہیں ہوتے۔ بات صرف ان سے راہنمائی لینے کی ہے اور یہ ہمارے کرنے کا کام ہے، نہ کہ ان کے کرنے کا۔

بس آخرمیں اتناہی کہتا ہوںکہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو مزید ہمت عطاءفرمائے کہ ہماپنے اس قافلے میں ایسے باہمت ، پرعزم اور باوقار صحافےوں کی خدمات حاصل کریںجو ملک وملت کی خدمت اور دین کی سربلندی کا جذبہ رکھتے ہوں ۔یقینایہ قافلہ بڑھتا چلاجائے گا ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
ہم پرورشِ لوح وقلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گذری ہے رقم کرتے رہیں گے





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved