تازہ ترین  

غزل
    |     7 months ago     |    شاعری
اُس پری کا سلام ہو گئے، دوست!
عشق کا ہم پیام ہو گئے، دوست!

تیری ہر بات مان لیں گے اب
صاف کہہ دیں؟ غُلام ہو گئے دوست!

اُن کے لب کا قصیدہ ہو گیا مَیں
وہ بھی میرا کلام ہو گئے، دوست!

اِک تُمھیں ہی سمجھتے تھے اپنا
تُم بھی عالی مقام ہو گئے دوست!

جب کہا؛ عشق کی طلب ہے مُجھے
ہر طرف اہتمام ہو گئے دوست!

اُس نے مُڑ کر مُجھے نہیں دیکھا
سارے سپنے تمام ہو گئے، دوست!

دُکھ کی تدفین کا ارادہ ہے
کیا سبھی انتظام ہو گئے دوست؟
.............
اسامہ زاہروی





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved