تازہ ترین  

غزل
    |     4 months ago     |    شاعری
اُس پری کا سلام ہو گئے، دوست!
عشق کا ہم پیام ہو گئے، دوست!

تیری ہر بات مان لیں گے اب
صاف کہہ دیں؟ غُلام ہو گئے دوست!

اُن کے لب کا قصیدہ ہو گیا مَیں
وہ بھی میرا کلام ہو گئے، دوست!

اِک تُمھیں ہی سمجھتے تھے اپنا
تُم بھی عالی مقام ہو گئے دوست!

جب کہا؛ عشق کی طلب ہے مُجھے
ہر طرف اہتمام ہو گئے دوست!

اُس نے مُڑ کر مُجھے نہیں دیکھا
سارے سپنے تمام ہو گئے، دوست!

دُکھ کی تدفین کا ارادہ ہے
کیا سبھی انتظام ہو گئے دوست؟
.............
اسامہ زاہروی
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved