تازہ ترین  

غربت
    |     10 months ago     |    افسانہ / کہانی
وہ  ایم اے پاس زہین لڑکا تھا اور
تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں تھا.  نوکری کی باری آئی تو اسکی ڈگری کا بھاو دو کوڑی کا ہو کے رہ گیا۔۔
وہ نوکری کی تلاش میں جہاں بھی جاتا اسے دھتکار دیا جاتا....
 اگر ترس کھا کے نوکری دینے کا وعدہ کیا بھی جاتا تو بھاری رشوت اسکا منہ چڑا رہی ہوتی۔۔.. نوکری کی تلاش میں در در کے دھکے کھانے بعد وہ افسرہ ہوچکا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ آج  بہت رویا تھا...

 مایوسی و افسردگی کی وجہ سے رو رو کر اس نے خود کو بدحال کرلیا تھا یہاں تک کہ ڈگری کے کاغذ بھی آنسووں کے سیلاب کے سبب کے بھیگ چکے تھے۔۔.
ایسے لگ رہا تھا جیسے ڈگری خود بھی اپنی ناقدری پہ نوحہ کناں ہو۔۔وہ شکن آلود لباس اور مضطرب چہرے والا لڑکا اندر سے کتنا زہین تھا ۔کرسی پہ بیٹھے نقلی ڈگری والا آفیسر کیا جانے۔۔۔
آج تو حد ہی ہو گئی تھی۔وہ ماں کی بیماری اور فاقوں سے تنگ آ کے ڈگری لیے چوکیدار کی نوکری کے لیے لائن میں لگ چکا تھا۔۔
 ہائے ری قسمت۔۔غریب کی تو قسمت بھی غریب نکلی۔۔چوکیدار کی نوکری پانچویں پاس لڑکے کو مل گئی کیونکہ اس کے پاس اچھی سفارش موجود تھی ....

وہ سکستہ دل اور لڑکھڑاتے جسم کو زیادہ دیر کھڑا نہ کرپایا...اس کا پیمانہ صبر لبریز ہوچکا تھا.
بھوک سے بے ہوش ہوکر گرنے والے نوجوان کو کسی خدا ترس نے ہسپتال پہنچادیا تھا ....
جوں ہی ہوش آیا , بھوکی ماں کا خیال اسے بے چین کرگیاتھا....
اب وہ فیصلہ کرچکا تھا...
ڈگری کے ناکارہ کاغذ کو پھاڑ کر وہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کی غرض سے جنگل کے راستے پر چل پڑا تھا.





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved