تازہ ترین  

تلخی....
    |     4 months ago     |    کالم / بلاگ
تم نے میرا آدھا گھنٹہ ضائع کر دیا میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔میری بات نہیں مانتی تم کبھی زندگی میں آگے نہیں بڑھ پاؤں گی۔چاہے جتنی مرضی عبادتیں کر لو تمہاری عبادتیں بھی رائیگاں ہیں ۔جب تک میری آہیں نکلتی رہیں گی تم تڑپتی رہو گی۔نہ جانے کیا کیا برُے القابات اور بددعائیں اس کو سننی پڑ رہی تھی۔اُ سکے خوابوں کا تمسخر اڑایا جا رہا تھا اُسکی معصوم زبان سے نکلی ہوئی کامیابی کی بڑی بڑی باتیں ایک ایک کر کے پتھر کی مانند اُسکے منہ پہ ماری جارہی تھی اُسکا پورا وجود پھولوں کی پنکٹھریوں کی طرح بکھر رہا تھا۔آگ کی تپش سے نقشِ سویدا نشان چھوڑتا جارہا تھا۔زہر جیسے طعنوں اور تمسخر کا ذائقہ اسکی شہد ناآشنا زباں چکھ رہی تھی ۔اُسکی آنکھوں نے پھولوں سے مزین خواب سجائےتھے تو اسکے لیے حصارِ رنگ سے رہائی دشوار ہورہی تھی اس عذاب کی پذیرائی کرتے ہوئے اُسکے پاس اشکوں اور زندان میں پڑی زبان کے سوا کچھ نہ تھا۔نیم خوابی کا فسوں اپنا اثر زائل کررہا تھا ۔اُسے ان سب حالات سے دکھ تو ہورہا تھا لیکن عناد نہیں۔۔۔۔دل شکستہ حال تھا مگر اُمیدیں بقا تھی ۔بس پورا وجود مولا کریم سے محوگفتگو تھا کہ اے مالکِ ارض و سماء تواتنا اعلی ظرف ہے ۔یہ ساری زندگی کی کوتاہیاں تیرے سامنے لاکر رکھ دیتے ہیں لیکن تو نے کبھی تلخ آمیز القابات اور طعنوں سے تمسخر نہیں اڑیا۔ تجھے منانے کے لیے آنسو کی ایک بوند ہی کافی ہوتی ہے۔گڑگڑانے سے تو توُ گلے لگا لیتا ہے۔بچپن کی معصوم خطائیں ہر بار ایسا درد دیتی ہیں ۔مگر نہ جانے کیوں پھر بھی خطاؤوں کی تلافی کی امیدیں لگ جاتی ہیں ۔
یہ معافی کس چیز کا نام ہے ۔کیا قاتل کو جرم معاف کرنا ہے معافی ہے؟ چور کو جیل سے رہائی دلوانا معافی ہے ؟ یا پھر پھانسی سے کسی کو نجات دینا معافی ہے؟
جی ہاں ہمارے معاشرے میں معاف کردینا کا کلیہ مخض انہی دو چار باتوں پہ لگایا جاتا ہے۔اور پھر پورے کوچے میں اسکی تشہیر بھی کی جاتی ہے ۔گھریلو اور اخلاقی معاملات میں ان گنت ایسی بگڑے ہوئے حالات کی وجہِ اول صرف معاف نہ کرنا ہے ۔ہمیں یہ چیز گوارا نہیں کہ ہمارے کہے ہوئے الفاظ پہ عمل نہ ہوا جائے۔ہر بڑا ماتحت کو حقارت سے دیکھ رہا ہے ۔معافی کی چاہ رکھتا ہے لیکن معاف کرنا نہیں چاہتا ۔اپنی چھوٹی سچائی کے لیے تو ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے ماتحت کی سچی سچائی پہ آنکھیں بند کرکے اپنے عقائد کے آگے اسے زیر کرتا جارہا ہے ۔المیہ یہ ہے کہ ہم ایک ہی انسان کو ملٹی پل ربوٹ بنانا چاہ رہے ہیں جو ہر خوبی کا حامل ہو پڑھنے لکھنے میں نمبر ون ہو۔اخلاق میں سب سے دلکش ہو ۔ہر طرح کے ہنر پہ مہارت حاصل ہو ۔ہم دن کہے تو وہ دن کہے ہم رات کہے تو وہ رات کہے۔ہم دو ٹانگوں والے انسان کو ہزاروں راہوں پہ ایک ساتھ سفر کروانا چاہ رہے ہیں اور ہمارا معیار اتنا بلند ہے کہ ہر راہ کے نتائج نمبر ون سب سے اعلیٰ کوالٹی کے ہونے چاہیے۔لیکن دو ٹانگوں والا انسان نہ چاہتے ہوئے بھی صرف ایک راہ میں دلچسپی پید اکر لیتا ہے اور باقی راہوں میں اگر وہ اگر کوالٹی پیدا نہ کر سکے تو اسکی کوالٹی والی راہ بھی پس و پشت ڈال دیتے ہیں ۔چھوٹی چھوٹی غلطیوں پہ ایسے کلمات کہتے جاتے ہیں جو غالباً منہ سے خارج کرنے جتنے سہل ہوتے ہیں اس سے ہزار درجے زیادہ اسکو سہنا دشوار ہوتا ہے جو دماغی چوٹ پہنچاتے ہیں جو سہنے والا ہی بس دیکھ سکتا ہے دل شکستہ بات تو یہ ہے کہ دماغی چوٹ پہ تو نہ مرہم لگتی ہے اور اجر کی نیت سے کوئی تیماداری کو بھی نہیں آتا ہے ۔
................
اریبہ فاطمہ
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved